میلبرن (اسٹاف رپورٹر) آسٹریلیا میں پاکستان کے ہائی کمشنر عرفان شوکت نے میلبرن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے قونصل جنرل واجد حسن ہاشمی کے ہمراہ پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ ملاقات میں کمیونٹی سے براہِ راست رابطے، بہتر خدمات کی فراہمی اور پاکستان و آسٹریلیا کے مابین عوامی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

ہائی کمشنر عرفان شوکت نے اپنے خطاب میں میلبرن کی پاکستانی کمیونٹی کو ’’تعلیم یافتہ، باوقار اور منظم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک ماہ کے دوران اپنی ملاقاتوں میں وہی خوبی دیکھی ہے جس کی تعریف ان کے پیش رو اور دیگر سفارتی عہدیداران کرتے رہے ہیں۔
“ایک مہینے میں جو کچھ میں نے دیکھا ہے، وہ واقعی ویسا ہی ہے جیسا سب بتاتے ہیں. یہاں کی کمیونٹی پڑھی لکھی، سلجھی ہوئی اور پاکستان سے گہرا تعلق رکھنے والی ہے،”ہائی کمشنر عرفان شوکت نے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ بعض اوقات سوشل میڈیا پر پیدا ہونے والی غلط فہمیاں حقیقی صورتِ حال کو مسخ کر دیتی ہیں، اس لیے کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ اپنے معاملات براہِ راست ہائی کمیشن یا قونصلیٹ سے رابطے کے ذریعے حل کرے۔
“رابطہ کم ہونے سے غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں، جبکہ اصل ترقی اور اعتماد براہِ راست بات چیت سے ہی ممکن ہے،”ہائی کمشنر نے یقین دلایا کہ ہائی کمیشن اور قونصل خانہ پاکستانی کمیونٹی کو موثر، شفاف اور قابلِ اعتماد قونصلر خدمات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے قونصل جنرل واجد ہاشمی اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ میلبرن قونصلیٹ کی سرگرم موجودگی کمیونٹی کے اعتماد کی مظہر ہے۔
قونصل جنرل واجد حسن ہاشمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ قونصلیٹ جنرل پاکستان اور آسٹریلوی اداروں کے درمیان ایک ’’پُل‘‘ کے طور پر کام کر رہا ہے، جس کا مقصد پاکستانی برادری کے مفادات اور مسائل کو بہتر انداز میں اجاگر کرنا ہے۔
واجد حسن ہاشمی نے کہا”ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے اداروں کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوں قونصلیٹ کا کردار ایک مضبوط رابطہ پُل بنانا ہے”.اس موقع پر میلبرن کی پاکستانی کمیونٹی نے ہائی کمشنر اور قونصل جنرل کی ’’کھلے دروازے کی پالیسی‘‘ کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اس طرح کے براہِ راست روابط سے کمیونٹی کے مسائل کے حل میں مزید تیزی آئے گی۔
یہ ملاقات آسٹریلیا میں پاکستانی سفارتی مشن کیلئے ایک مثبت سنگِ میل ثابت ہوئی ہے۔ ہائی کمشنر عرفان شوکت اور قونصل جنرل واجد حسن ہاشمی کی مشترکہ حکمتِ عملی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان اپنے شہریوں کو نہ صرف بہتر قونصلر خدمات فراہم کرنا چاہتا ہے بلکہ برونِ ملک کمیونٹی کے ساتھ پائیدار اعتماد اور شراکت داری قائم کرنے پر بھی سنجیدگی سے کام کر رہا ہے۔

