قرآن پاک میں انسانی جان کے بارے سورہ المائدہ میں بتایا گیا ہے کہ ”کسی انسان کا ناحق قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے“، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں انسانی جان کی قیمت چند ٹکوں سے بھی کم ہو چکی ہے۔ گزشتہ ہفتے چند لوگوں کی ”ہوس اور طمع“کی وجہ سے 71انسانی جانیں چلی گئیں۔اب اس پر دوستوں کو اعتراض ہوگا کہ آگ میں ہلاک ہونے والوں کو قتل کیسے کہا جا سکتا ہے۔ تو قتل صرف وہ نہیں کہ جسے چاقو، چھری یا گولی مار کر قتل کیا جائے۔ قتل تو وہ بھی ہے کہ کسی کی موت کے لئے ”راستہ“بنا دیا جائے۔ گل پلازہ جس کا نقشہ 1021دکانوں کے لئے منظور کیا گیا تھا۔ اس میں ترمیم کرکے اسے 1200دکانوں پر لے جانے والے نے بھی تو دکانداروں اور خریداروں کی موت کے لئے ایک راستہ بنا دیا تھا، کبھی کسی نے یہ سوچا کہ 1021دکانوں کے لئے منظور عمارت کے اوپر مزید دو تین منزلوں یا 179دکانوں کا اضافہ کر دیا جائے تو وہ سٹرکچر اضافی وزن کیسے برداشت کرے گا،اس بلڈنگ میں 179 دکانوں کے اضافے کی ”منظوری“بھی تو کچھ ”لے دے کر“ ہوئی ہو گی۔گل پلازہ کے 16دروازے تھے مگر جب آگ لگی تو صرف تین کھلے ہوئے تھے۔عینی شاہدین کے مطابق باقی دروازوں میں دکانیں بنا لی گئیں یا طاقتور دکانداروں نے دروازے بند کر کے وہاں گودام بنا لئے۔ جب آگ لگی تو راستے بند ملے۔ایک اور بدقسمتی بڑے کاروباری پلازوں میں ایک ”تاجر یونین“ بن جاتی ہے جو ”دیکھ بھال“ کی ذمہ دار ہوتی ہے،گل پلازہ کی تاجر یونین ہر دکاندار سے 5500روپیہ مہینہ وصول کرتی تھی،یعنی 66لاکھ روپیہ مہینہ، یہ رقم اس عمارت کی دیکھ بھال، بجلی کی لٹکتی تاریں ٹھیک کرنے، عمارت کے اندر واٹر سپرنکلز کا بندوبست کرنے، فائر الارم لگوانے، فائر ایگزٹ یقینی بنانے پر خرچ ہوتی تو یہ جانیں ضائع نہ ہوتیں، یعنی تاجروں کے اپنے نمائندے خود اپنے دکاندار بھائیوں اور اپنے گاہکوں کی موت کا سبب بنے،لیکن سب سے بڑا سبب تو وہ حکمران ہیں کہ جنہوں نے الیکشن لڑ کر ووٹ حاصل کر کے، حکومت بنا کر یہ ذمہ داری لی کہ وہ اپنے صوبے، اپنے شہروں کے عوام کی فلاح و بہبود کے ذمہ دار ہوں گے۔ لیکن انہوں نے کیا کیا؟ سندھ میں 17سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ آج کل سید مراد علی شاہ صاحب ”تمام امورِ مملکت“کے ذمہ دار ہیں۔ کراچی کچھ حلقوں کے مطابق ڈھائی کروڑ اور کچھ کے مطابق تین کروڑ کا شہر ہے۔ دنیا کے طے شدہ قاعدوں ضابطوں کے مطابق ہر ایک لاکھ کی آبادی پر ایک فائر اسٹیشن لازمی ہے، یعنی کراچی میں کم از کم 200 فائر اسٹیشن اور 600 سے زیادہ فائر انجن ہونا چاہئیں تھے جبکہ کم از کم 20ہزار فائر مین بھی لازمی ہیں، لیکن کراچی میں اس وقت صرف چھوٹے بڑے 28 فائر اسٹیشن 12(بڑے فائر سٹیشنز اور باقی 16 پلوں کے نیچے ہیں) اور 45 فائر انجن چار اسنارکلز موجود ہیں۔ فائر اسٹیشنوں اور فائر انجنوں کی یہ کم تعداد کراچی میں ہر سال ہونے والی آتشزدگی کے واقعات میں انسانی جانوں کے ضیاع اور اربوں روپے کے نقصان کی وجہ بنتی ہے۔ ڈھاکہ بھی کراچی کے لگ بھگ آبادی والا شہر ہے مگر وہاں 112 فائر اسٹیشن ہیں۔ تہران میں ان کی تعداد 400سے زیادہ اور نئی دلی میں 61ہے۔ کاش بلاول بھٹو ”اپنے وزیراعلیٰ“مراد علی شاہ کو بلاول ہاؤس طلب کریں اور 18ویں ترمیم کی برکت سے ملنے والی خطیر رقم میں سے چند ارب روپے اس اہم شعبے (فائر فائٹنگ) پر خرچ کرنے کا حکم صادر فرمائیں۔ تاکہ کراچی کے لئے لال۔پیلی نیلی بسوں کے ساتھ ساتھ فائر انجن بھی درآمد کیے جائیں اور شہر میں موجود سرکاری زمین پر قابض افراد سے جگہ خالی کرا کر وہاں پر فائر اسٹیشن تعمیر کیے جائیں۔
بلاول بھٹو زرداری کو کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کو بھی بلاول ہاؤ س طلب کر کے ایک سخت ڈانٹ پلانی چاہئے اور ان سے پوچھنا چاہئے کہ کسی مئیر کے لئے اس کے شہریوں کی جان و مال سے زیادہ اور کیا اہم ہو سکتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ مرتضیٰ وہاب آگ لگنے کے23گھنٹے کے بعد گل پلازہ پہنچے اور اسی حوالے سے ایک جواب دہی وزیراعلیٰ سندھ کی بھی ہونی چاہئے جنہوں نے سندھ اسمبلی میں یہ بیان دیا ہے کہ موقع پر ”ہمارا نمائندہ ڈپٹی کمشنر“ تو موجود تھا۔ اب مراد علی شاہ کو کون سمجھائے کہ عوام کے نمائندے صرف منتخب نمائندے ہوتے ہیں نہ کہ وہ سرکاری افسر جن کا کام انتظامی امور دیکھنا ہے۔بلاول بھٹو زرداری اس واقعے کے بعد کیا اپنی سندھ حکومت اور کراچی شہر کی بلدیاتی حکومت کو یہ ہدایت دے سکیں گے کہ کراچی کی تمام بڑی عمارتوں، کاروباری پلازوں، دفاتر میں فائر ایگزٹ، فائر الارم، واٹر سپرنکلز یقینی بنائیں تاکہ سندھ کے ان کے ووٹرز کی مزید جانیں ضائع نہ ہوں۔فائر ڈیپارٹمنٹ کو جدید فائر انجن، جدید اسنارکلز، فائر فائٹرز کے لیے مخصوص لباس، ہیلمٹ، ماسک، بلند عمارتوں کی آگ بجھانے کے لئے اونچی سیڑھیاں۔آگ کے اندر جانے کے لئے پہننے والے لباس اور جوتے بھی منگوا کر دینے ہوں گے۔ شہر میں فائر ہائیڈرنٹ بھی لگوانے ہوں گے تاکہ آگ لگنے کی صورت میں فوری طور پر پانی مہیا ہو سکے اور موجودہ واٹر ہائیڈرنٹ سے جس طرح پانی چوری ہوتا ہے اس سے فائر ہائیڈرنٹ کو بچانا ہو گا۔ بلاول بھٹو کو یہ بھی پتہ ہونا چاہئے کہ ایک رپورٹ کے مطابق صرف کراچی میں گزشتہ سال کے دوران آگ لگنے کے 900سے زیادہ واقعات ہوئے۔کراچی میں آگ لگنے کے بڑے واقعات میں ایک فیکٹری کے دروازے بند کر کے لگائی گئی آگ میں ڈھائی سو ورکرز کو جلا ڈالا گیا تھا۔ کراچی میں ہی ملینیم مال، چیز اپ سٹور، کوآپریٹو مارکیٹ، ریجنٹ پلازہ، آر جے شاپنگ مال، وکٹوریہ مال اور آگ لگنے کے دیگر بڑے واقعات بھی ابھی کسی کو نہیں بھولے۔ بلاول بھٹو کو کراچی کے لئے ایک فائر چیف کا تقرر بھی کرنا ہو گا کہ کراچی فائر ڈیپارٹمنٹ کے فائر چیف آفیسر اشتیاق احمد 2024ء میں ریٹائر ہو گئے تھے جس کے بعد گریڈ 12کے ریسرچ اینڈ ریسکیو ٹیم سے تعلق رکھنے والے ہمایوں خان کو گریڈ 17میں ترقی دے کر قائم مقام چیف افسر بنا دیا گیا۔ہمایوں خان صرف بی اے پاس ہیں جبکہ فائر افسر کی پوسٹ کے لئے ایم ایس سی کی تعلیم ضروری ہے۔سندھ حکومت نے 2008ء میں پاک فوج سے ملبے تلے دبے انسانوں کی بو سونگھ کر نشاندہی کرنے والے کتے 7لاکھ روپے میں خریدے تھے مگر حیران کن طور پر گل پلازہ کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کیلئے نہ تو کوئی جدید مشینری موجود تھی اور نہ ہی تربیت یافتہ کتے۔ہو سکے تو بلاول بھٹو اس کا بھی نوٹس لے لیں۔ (ہمارے نزدیک صرف بلاول بھٹو ہی سندھ حکومت سے جواب طلب کر سکتے ہیں لہٰذا یہ تمام درخواست ان کے ہی نام بذریعہ کالم بھیجی جارہی ہے)۔

