آئی ایم ایف کی پاکستان میں بدترین کرپشن کی حالیہ رپورٹ جو تین ماہ چْھپانے کے بعد مجبورا ًظاہر کرنا پڑ گئی ہے کے بعد یہ بات ثابت ہو گئی ہے پاکستان میں کرپشن نہیں کرپشن کا کاروبار ہوتا ہے ، آج کل سارے کاروبار بند ہیں ، کوئی کاروبار اگر چمک بلکہ چمک دمک رہا ہے وہ کرپشن کا ہے ، میں یہ بات بارہا دہرا چکا ہوں سیاست دانوں نے اس کے عشر عشیر کرپشن نہیں کی جتنی بڑی کرپشن ہماری بیوروکریسی اور اْس کے ’’غیر سیاسی‘‘ بلکہ اب اْنہیں زیادہ سیاسی کہنا چاہیے سرپرستوں نے کی ہے ، عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے اور اْس کے کچھ عرصے بعد تک بڑے جذباتی انداز میں ملک سے کرپشن ختم کرنے کی بات کرتے تھے ، تب ہم اْن کی باتوں پر آنکھیں بند کر کے یقین کر لیا کرتے تھے ، ہمارا خیال تھا یہ شخص ایک مشن کے طور پر کرپشن ختم کرے گا ، وہ ایک کرپٹ اور کریمینل سسٹم کو تبدیل کرنے آئے تھے ، یہ کرپٹ اور کریمینل سسٹم اتنا طاقتور تھا بجائے اس کے وہ اْسے تبدیل کرتے اس کرپٹ اور کریمینل سسٹم نے اْنہیں تبدیل کر دیا اور وہ اْس کا حصہ بن گئے ، یہ حقیقت ہے وہ اتنے کرپٹ نہیں تھے جتنے اْن سے پہلے اور بعد کے سیاسی حکمران ہیں ، مگر اْن کی شناخت ایک انتہائی دیانتدار سیاستدان کی تھی جو اْن کے وزیراعظم بننے کے بعد قائم نہیں رہ سکی ، کہا جاتا ہے’’وہ خود کرپٹ نہیں ہیں ‘‘ ، کسی حکمران کی سرپرستی میں اگر کرپشن ہوتی ہے اور وہ اْسے روکنے کا کوئی خاطر خواہ بندوبست نہیں کرتا پھر اْس کے بارے میں پوری یقین سے کیسے یہ کہا جا سکتا وہ خود کرپٹ نہیں ہے ؟ وہ جب وزیراعظم تھے ایک بار مجھے بلایا ، مجھ سے پوچھنے لگے کرپشن کے خاتمے کے لیے ہم کیا کریں ؟ میں نے عرض کیا’’اس کے لیے لمبی چوڑی جدوجہد یا پلاننگ کی ضرورت نہیں ہے ، پاکستان کے تحقیقاتی ادارے ظاہر ہے اپنا وقار اعتماد سب کچھ کھو چکے ہیں ، کسی بااعتماد عالمی تحقیقاتی ادارے کی خدمات حاصل کریں جو یہ سراغ لگائے ہمارے سیاستدان اور اعلیٰ افسروں کے بیس تیس برسوں پہلے اندرون و بیرون مْلک کتنے اثاثے تھے اب کتنے ہیں اور یہ اثاثے اْنہوں نے کیسے بنائے ہیں ؟ بس اس رپورٹ کی روشنی میں اْن کے احتساب کا کڑا نظام رائج کر دیں جو آپ نہیں کر سکیں گے‘‘ ، اْنہوں نے فرمایا’’کیا تم مجھے جانتے نہیں ہو‘‘ ، میں نے عرض کیا ’’میں آپ کو جانتا ہوں مگر آپ سے زیادہ میں اس کریمینل و کرپٹ سسٹم کو جانتا ہوں جو اتنا طاقتور ہے ایک بڑے خونی انقلاب کی صورت میں ہی یہ تبدیل ہو سکتا ہے اور یہ انقلاب وہ لوگ ہرگز نہیں لا سکتے جو اس کریمینل اور کرپٹ سسٹم کے محافظوںکے کاندھوں پر سوار ہوکر آئے ہوں‘‘ ، اْنہیں میری یہ بات اچھی نہیں لگی ، اْنہوں نے گھنٹی بجائی اپنے اے ڈی سی کو بْلا کر اْس سے پوچھنے لگے ’’اگلی میٹنگ کس وقت ہے ؟‘‘ ، یہ اے ڈی سی اور ملٹری سیکریٹری ٹائپ لوگ بڑے چالاک ہوتے ہیں ، اْنہیں سب پتہ ہوتا ہے کون سی بات’’صاحب‘‘ کیوں پوچھ رہے ہیں ؟ ، اے ڈی سی بولے ’’سر اگلی میٹنگ کے لیے تمام لوگ آچکے ہیں‘‘ ، ظاہر ہے اس کے فوراً بعد میرا اجازت لینا ہی بنتا تھا ورنہ خان صاحب جتنے بے دید ہیں ممکن ہے وہ خود ہاتھ میری طرف بڑھا کر کہہ دیتے ’’اچھا توفیق تمہیں اب اجازت ہے‘‘ ، ایک اور بات اْن کے اقتدار کے آخری دنوں میں اْن سے میں نے کہی تھی ’’آپ کے پاس دو راستے ہیں ، ایک راستہ یہ ہے جن قوتوں نے آپ کے اقتدار کی راہ ہموار کی اْن کے ساتھ اپنے معاملات بند گلی سے نکال کر اپنے اقتدار کا بقیہ عرصہ پورا کر لیں اور اس دوران کچھ ایسے کارنامے کریں جو آپ کے اگلے اقتدار کا باعث بن سکیں ، دوسرا راستہ یہ ہے جن قوتوں نے آپ کے اقتدار کی راہ ہموار کی تھی اْن کے ساتھ اپنے معاملات بند گلی میں رکھ کر اْنہیں یہ موقع فراہم کریں وہ دوبارہ اْن چوروں ڈاکوں سے اپنے معاملات بہتر بنا کر اْنہیں ایک بار پھر اقتدار میں لانے پر مجبور ہو جائیں‘‘ ، خان صاحب نے دوسرا راستہ اختیار کیا چنانچہ اب وہ جیل میں ہیں اور اْن سے ہزار درجے زیادہ کرپٹ سیاہ ست دان اقتدار میں ہیں اور اْنہوں نے ویسی ہی لوٹ مار مچائی ہوئی ہے جو اْن کی خصوصیت یا شناخت ہے ، آئی ایم ایف نے اْن کا کچا چٹھا یا کھاتہ تو کھول دیا ہے مگر آئی ایم ایف سے اْس کے اس ادنیٰ سے’’غلام‘‘ کی ایک شکایت ہے ’’وہ بھاری قرضے دیتے ہوئے ان کرپٹ حکمرانوں پر ایسی پابندیاں عائد کیوں نہیں کرتا جن سے اْنہیں کرپشن کے مواقع ہی نہ ملیں ؟ یا پاکستان میں کرپشن کے سارے راستے بند ہو جائیں ؟ ، غریبوں کا ناطقہ بند کرنے کے لیے تو آئی ایم ایف بڑی کڑی شرائط عائد کرتا ہے ، کرپٹ حکمرانوں کا ناطقہ کیوں بند نہیں کیا جاتا ؟ اْن کی کرپشن کے راستے میں کوئی دیوار کیوں کھڑی نہیں کی جاتی ؟ ، یہی شکایت مجھے اپنے سیاسی حکمرانوں اور اپنی بیوروکریسی کے اصل مالکوں یا سرپرستوں سے بھی ہے اْن کے یہ’’لاڈلے‘‘ جب اربوں کھربوں ڈالرز کی کرپشن کر رہے ہوتے ہیں اْس وقت اْنہیں کیوں نہیں روکا جاتا ؟ اس لیے نہیں روکا جاتا کہ یہ کام اْن کے سرپرست اْن سے زیادہ کرتے ہیں ؟ ، یہ حقیقت ہے پاکستان میں اب کرپشن کو بطور ’’کار ثواب‘‘ قبول کر لیا گیا ہے ، کیونکہ غیرت اب کسی میں نہیں رہی، یہی وجہ ہے آئی ایم ایف نے پاکستان میں اربوں کھربوں ڈالرز کی جس کرپشن کا ذکر کیا ہے اْس کا کسی نے نوٹس ہی نہیں لیا ، اْس بے شرم عوام نے بھی نہیں لیا جسے سب سے زیادہ لینا چاہیے تھا ، اس ملک کا وزیراعظم اکثر یہ کہتا ہے’’ہم نے کبھی ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی ‘‘ ، دھیلے کی کرپشن واقعی نہیں کی اربوں کھربوں کی کرپشن کی ہے جو آئی ایم ایف کی رپورٹ سے ایک بار پھر ثابت ہوگئی ہے ، پاکستان کا اب یہ’’سنہری اْصول‘‘ بن گیا ہے چھوٹی کرپشن کرکے پکڑے جانے سے ہزار درجے بہتر ہے بڑی کرپشن کر کے اْس کا کچھ حصہ اینٹی کرپشن کے اداروں میں بیٹھے کرپٹ افسران یا اْن کے سرپرستوں کو دے کر مکھن سے بال کی طرح خود کو نکلوا لیں ، اگلے روز کسی تقریب میں ایک ایسے اعلیٰ افسر سے میری ملاقات ہوئی جس پر نیب اور اینٹی کرپشن کے کئی پرچے ہیں ، میں نے اْس سے پوچھا ’’آپ پر نیب اور اینٹی کرپشن کے کئی پرچے ہیں آپ سرعام گھومتے پھرتے ہیں آپ کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ؟‘‘ ، وہ بولا ’’ارے بھائی میں نے کوئی چھوٹی موٹی کرپشن کی ہے جو مجھے کوئی پوچھے گا‘‘ ، اسی طرح ایک رْکن قومی اسمبلی سے میں نے پوچھا ’’تم اتنی کرپشن کیوں کرتے ہو ؟‘‘ وہ بولا’’صدر مملکت بننے کے لئے کرتا ہوں‘‘ہُن دسو اسی ایتھے کی کرئیے ؟؟؟

