ہم میں بدتہذیبی، غلیظ زبان اور غیر اخلاقی حرکتیں

عمران خان کی بہن علیمہ خان پراڈیالہ جیل کے باہرصحافیوں سے گفتگوکے دوران ’انڈے کاحملہ‘ہوادوخواتین حملہ آورقرارپائیں اور چندمنٹوں میں دونوں خواتین کاتعلق پی ٹی آئی سے کنفرم ہوگیا۔اسی تیزرفتاری سے پولیس کے آشیربادسے اڈیالہ روڈکی رجسٹرڈایک7سیٹر گاڑی ان دونوں خواتین کولیکرموقع سے فرارہوجاتی ہیں حالانکہ وہاں عمران خان کے جیالے بھی موجودہیں۔پھرفوراًہی میڈیاپرخبرنشرہوجاتی ہے کہ خیبرپختونخواہ سے آئی ہوئی خواتین علیمہ خان سےبات نہ ہونے پرانڈوں سے حملہ آورہوجاتی ہیں ۔

کچھ گھنٹوں میں پورے میڈیاپرصرف ایک خبرہوتی ہے کہ علیمہ خان نے ہمدردی حاصل کرنے کیلئے یہ حملہ خودکروایا۔ایک وفاقی وزیرکہتے ہیں اس سے کیافرق پڑتاہے انہیں کچھ ہواتونہیں ایک حکومتی عہدیدارکہتے ہیں علیمہ خان کوکچھ ہواہی نہیں تومسئلہ کیوں بنایاجارہاہے ۔اگلے روزکے اخبارات علیمہ خان کی خبروں سے بھرے ہوئے ہیں اورتقریباً کالم لکھنے والے جوآج کل زیادہ ترکاپی پیسٹ والے ہیں بھی شروع کرتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے جوبویاوہی کاٹ رہی ہے ۔

مسلم لیگ ن کےصدر میاں محمد نوازشریف پرجوتاپھینکاگیاپھرخواجہ آصف پرسیاہی پھینکی گئی ۔سیاست میں عمومی تصور یہ ہے کہ عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سیاست میں گندی زبان متعارف کرائی اور بام عروج پر پہنچایا۔ غلط تصور ہے!

بھٹو نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز میجر جنرل اسکندر مرزا کی کابینہ میں ایک وزیر کی حثیت سے کیا۔ اسکندر مرزا کی برطرفی کے بعد جب جنرل ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کیا تو بھٹو اسکندر مرزا کی کابینہ کے شاید واحد وزیر تھے جنہیں جنرل ایوب خان نے بھی بطور وزیر اپنی کابینہ میں شامل کیا۔ بھٹو نے ایوب خان کے ہر کام میں بڑھ چڑھ کر ساتھ دیا۔ یہاں تک کہ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف ایوب خان کی صدارتی مہم بھی چلائی۔

محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف جن جن لوگوں نے ایوب خان کی خوشنودی کیلئے مہم چلائی ان میں بھٹو کے علاوہ کئی پردہ نشینوں کے نام ہیں۔ نہ صرف فاطمہ جناح بلکہ چند لوگوں نے بانی پاکستان محمدعلی جناحؒ کو بھی نہیں بخشا اور ان کے متعلق بھی انتہائی گھٹیا زبان استعمال کی۔ان تمام لوگوں کی اولاد آج بھی اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں میں موجودہے اوربڑے زوروشورسے جمہوری اقدار کا درس دیتی ہیں اور وہ بھی صبح و شام۔

کنونشن مسلم لیگ جنرل ایوب خان کی ہے۔ صدارتی انتخاب ہے۔ ایوب کے خلاف مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح صاحبہ ہیں۔ایوب کا برخوردار کراچی میں اور خرم دستگیر کا باپ گوجرانوالہ میں ایک جانور کے گلے میں سفید دوپٹہ باندھتا ہے۔ پھر ایک لالٹین جو کہ مادر ملت کا انتخابی نشان ہے، لٹکاتا ہے اور گلی گلی پھراتا ہے، یہ شور مچا کر کہ دیکھو فاطمہ جناح اپنی مہم چلا رہی ہے۔ اب نہ ایوب ہے، نہ مادر ملت ہیں مگر تاریخ وہ بتلا گئے ہمیں!

65 سے 88 پی ٹی آئی کا وجود تک نہیں۔ خان ابھی تک کرکٹ ہی کھیل رہاہے گرائونڈ میں !

لوگ بھولے نہیں جب1988میں نوازشریف نے محترمہ بے نظیربھٹو اورنصرت بھٹو کی جعلی برہنہ تصاویر تیار کراکر سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعےگرائیں۔یہی نہیں شیخ رشید جواس وقت مسلم لیگ ن کے اچھے خاصے جیالے تھے اسمبلی میں کوکا کولا پیپسی، بے نظیر ٹیکسی!پیلی ٹیکسی پیلی ٹیکسی یعنی ییلو کیب کے نعرے لگاتےنظرآتے تھے ۔1989 میں جب بی بی شہید امریکہ کے دورے سے لوٹیں توایک بہت بڑے صحافی نے اپنے کالم کی سرخی میں لکھاسُتھن ڈپلومیسی! سُتھن پنجابی میں شلوار کو کہتے ہیں۔ یہ دو الفاظ اپنے اندر ہزار داستانیں سمائے بیٹھے ہیں۔ ایک اورجملہ بے نظیربھٹو کے وفد کونسوانی دستہ لکھا گیا۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے لوگوں کو پڑھنے کا سرے سے کوئی شوق نہیں۔ بھول جانے کی بیماری ہے۔ تاریخ کس چڑیا کا نام ہے نہیں معلوم۔ تحقیق اور غورو فکر سے ازلی دشمنی ہے۔ہماری تاریخ ہے بھی کیا، محض 78برس؟ انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ مگر کتب خانے غائب اورعوام کے دماغوں پر چربی چڑھی ہوئی ہے ۔

بلوچستان میں ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ اجتماعی آبرو ریزی کا شور و غوغا ہے۔ حاضر سروس فوجی کپتان حماد ملزم ہے۔ مسلم لیگ ق کے بانی جنرل مشرف فرماتے ہیں کہ حماد بے گناہ ہے اور شازیہ ایسی بدکردار عورتیں یورپ امریکہ وغیرہ میں سیاسی پناہ کی خاطر ایسے ڈرامے رچاتی ہیں!

مسلم لیگ (ن) کا خواجہ آصف پی ٹی آئی کی شیریں مزاری کو ٹریکٹر ٹرالی اور فردوس عاشق اعون کو ڈمپر کے نام سے پکارتا ہے۔2021 میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کہتا ہے میں پہاڑیا ہوں، ایک کے بجائے دس گالیاں دیتا ہوں۔ اور میں جوتا ماروں گا قومی اسمبلی کے سپیکر کو۔ سبحان اللہ!

فردوس عاشق اور پی پی پی کی شرمیلا فاروقی کا۔ ایک ٹی وی پروگرام میں فردوس کہہ رہی ہے کہ کہیں سے بھی شروعات ہوئی ہو اس کے سیاسی سفر کی کم ازکم ہیرا منڈی سے نہیں ہوئی۔ پھر فرماتی ہیں کسی کے بیڈ روم سے نہیں پہنچی اسمبلی میں۔ نشانہ ہدف کشمالہ طارق ہے بیڈ روم جنرل مشرف کا ہے۔ کشمالہ بی بی مشرف دور میں عورتوں کی مخصوص نشستوں پر ممبر قومی اسمبلی بنائی گئیں۔ شرمیلا فاروقی مریم نواز شریف کو ہدف بناتے ہوئے فرماتی ہیں کہ وہ جیون میں کبھی بھی اپنے باپ کے اے ڈی سی کے ساتھ فرار نہیں ہوئیں۔ ماشاء اللہ! کیا ان کاموں کیلئے یہ لوگ آتے ہیں پارلیمنٹ میں؟

اب پی ٹی آئی تو غلیظ زبان میں شاگرد ہے مسلم لیگ کی۔ گالم گلوچ، بہتان، قذف، کردارکشی، چھچھور پن اور کیچڑ اچھالنے کے حروف تہجی، گرامر اور انشا پردازی اسے مسلم لیگ سے وراثت میں ملے۔ کوئی بھی اچھا بیٹا باپ کے کاروبار کو آگے ضرور بڑھاتا ہے۔ سو پی ٹی آئی نے غلاظت کے سہ منزلہ ڈھیر کو کثیرالمنزلہ عمارت میں تبدیل کر دیا۔ اس کی بنیادی وجہ سماجی میڈیا ہے جو ماضی میں نہ تھا۔ اگر ہوتا تو یقیناً یہ اعزاز بھی مسلم لیگ کے پاس ہی رہتا۔

مریم نواز منڈی بہاؤالدین میں کسی جلسے سے مخاطب تھیں تو پی ٹی آئی والے ٹوئٹر پر یہ دو ٹرینڈ چلا رہے تھے’رنڈی ان منڈی‘ اور ’رائے ونڈ کی رنڈی‘۔ عمران خان نے مریم نواز کو ’نانی‘ کے لقب سے نوازا جو اب زبان زد عام ہے۔ شیخ رشید بلاول بھٹو کو بلو رانی اور ہیجڑہ کہتا ہے۔ لندن میں پی ٹی آئی کے بچے مریم نواز کو کھلے عام کہتے پھرتے ہیں کہ اس نے شادی کے چار ماہ بعد بچہ پیدا کر دیا۔ مریم اورنگزیب کو ڈڈو چارجر اور حسین شریف کو گونگلو کا نام پی ٹی آئی ہی نے دیا۔ اب پی ٹی آئی کی گالی کا جواب گالی سے پٹواری دے رہے ہیں۔ مقابلہ سخت ہے۔

قریب 35 برس قبل آئی جے آئی آئے روز پی پی پی پر یہ الزامات دھرتا تھا کہ وہ بھارت، امریکہ اور روس کی پٹھو ہے۔ ذرا سمجھ دار قسم کا انگریزی پریس ہمیشہ یہ رونا روتا تھا کہ اس نازک دور میں جب ملک انتشار کا شکار ہے، سرحدیں غیر محفوظ ہیں، معیشت غرق ہو چکی ہے، ملک کا بدن نسلی، مسلکی، رنگ و زبان ایسی تفریق کے زخموں سے چور ہے، ہماری صحافت ایک دوسرے کے خلاف دست و گریباں ہے، اس چوتھے ریاستی ستون کو اپنا اصلی کردار ادا کرنا چاہئیے۔ فرقہ واریت اور غیر جمہوری رواج کی مذمت کرنی چاہئیے اور آپس میں مل کر اس کا توڑ کرنا چاہئیے تا کہ جمہوریت مضبوط اور آمریت کمزور ہو۔

اس دور میں جلسوں میں کسی کو بدعنوان کہنا بنا ثبوت کے بہت مشکل تھا۔ اب تو بدعنوانی ایک سیاسی گُن ہے۔اتنے سالوں میں بھی کچھ نہیں بدلا۔ اس سے بڑھ کر مقام افسوس ہو سکتا ہے؟ دل خون کے آنسو نہ روئے تو اور کیا کرے! البتہ اخلاقی گراوٹ میں ہم نے بے پناہ ترقی کی جس کی مثال اوپر دی جا چکی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں