یہ ستر کی دہائی تھی، سکپر عبدالحفیظ کاردار صوبائی وزارت خوراک سے مستعفی ہو گئے اور ان کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بنا دیا گیا۔ ان کے دور میں پاکستان کرکٹ ٹیم برطانیہ کے دورے پر جا رہی تھی، اسی دوران آسٹریلیا چینل 9کے ممالک کیری پیکر اور آسٹریلین بورڈ کا تنازعہ ہو گیا، کیری پیکر آسٹریلیا میں ہونے والے کرکٹ میچوں کی نمائش کے تمام تر حقوق چاہتے تھے جبکہ بورڈ نے انکار کر دیا تھا۔ اس تنازعہ نے کرکٹ کیلئے مثبت اور منفی رویوں کو مکمل طور پر آشکار کیا۔ کرکٹ میں نیا رنگ بھرا گیا، کیری پیکر نے دنیاء کرکٹ کے تمام ملکوں سے کھلاڑی منتخب کئے (جیسے ان دنوں پی ایس ایل کیلئےچنے جاتے ہیں) انہوں نے خود ایک گراؤنڈز منتخب کی۔ ہیلی کاپٹرسے بنی بنائی وکٹوں کو لا کر نصب کیا گیا۔ دنیا بھر کے ان کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیمیں بنائیں، ان کیلئے الگ الگ رنگ برنگی یونیفارم بنائی اور پہنائی گئیں اور ایک روزہ کرکٹ (پچاس اوور) کے مقابلے شروع کرائے گئے اور پہلی ہی بار رات کی روشنی میں میچ ہوئے اورچینل 9سے براہ راست دکھائے گئے۔
پاکستان سے بھی کھلاڑی منتخب کئے گئے اور ایجنٹ اسلم اقبال تھے اور جانے والوں میں عمران خان، ماجد خان، ظہیر عباس اور مشتاق محمد بھی تھے ایسے وقت میں جب کرکٹ ٹیم برطانیہ کا دورہ کرنے والی تھی، اتنے اہم کھلاڑیوں کا یکا یک کسی اطلاع کے بغیر چلے جانا، بہت بڑا دھچکا تھا۔بہرحال سکپر کاردار نے وکٹ کیپرباری کو کپتان بنا کر غیر حاضر کھلاڑیوں کی جگہ پر کرلی اور تیاریاں شروع کر دی تھیں، بہرحال کیری پیکر سرکس تجارتی مقصد سے شروع ہوئی تھی اس لئے جلد ہی آسٹریلیا کرکٹ بورڈ سے تصفیہ ہو گیا اور کھلاڑیوں کو معاوضہ دے کر فارغ کر دیا گیا، سکپر کاردار نے ان کھلاڑیوں کو واپس لینے سے انکار کر دیا جو بلا اجازت چلے گئے تھے، اس پر عمران خان نے ماجد خان کے ساتھ مل کر ان کیخلاف مہم چلائی اور عبدالحفیظ کاردار کے خلاف الزام لگائے اور نازیبا گفتگو بھی کی۔ کاردار ٹس سے مس نہ ہوئے تو ان حضرات نے اس وقت کے وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ کا سہارا لیا انہوں نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے سفارش کی اچھے کھلاڑی ہیں ان کو واپس لیا جائے، یہ تاریخی واقع ہے، عبدالحفیظ کاردار بورڈ کے دفتر میں بیٹھے تھے کہ ان کو بھٹو (مرحوم) کا فون آیا انہوں نے عبدالحفیظ کاردار سے کہا ”سکپر چھوڑو بات اور ان کو (عمران+ ماجد) واپس لے لو، عبدالحفیظ کاردار نے جواب میں کہا جی! چیئرمین صاحب تعمیل ہوگی۔ ٹیلی فون بند ہو جانے کے بعد عبدالحفیظ کاردار نے استعفیٰ لکھا عملے کو بلا کر الوداعی ملاقات کی اور گھر چلے گئے۔ بعد میں وہ سوئٹزرلینڈمیں پاکستان کے سفیر لگا دیئے گئے تھے۔
اس حقیقی واقع کا ذکر اس لئے کرنا پڑا کہ حالیہ کرکٹ ادوار میں پرچی سسٹم اور سفارش کوئی پہلی دفعہ متعارف نہیں ہوئی،بڑے بڑے کھلاڑی بھی سفارش کا سہارا لیتے رہے ہیں۔ حالیہ دور میں تو جو حال ہے اس کے مطابق کسی بھی کھلاڑی کا پس منظر دیکھ لیں، آپ کو پرچی نظر آجائیگی۔ اچھے دور میں بھی کھلاڑیوں کے درمیان کسی نہ کسی مسئلہ پر ہلکی پھلکی ناراضی ہوتی تھی لیکن مجموعی طور پر کرکٹ متاثر نہیں ہوتی تھی۔ کاردار کپتان تھے تو فضل محمود اور خان محمد سے ہلکی پھلکی چلتی تھی کہ عبدالحفیظ کاردار کی کلب کریسنٹ اور خان محمد کی ممدوٹ کرکٹ کلب تھی اس سب کے باوجود کھلاڑیوں نے کبھی بددلی یا بدنظمی کا مظاہرہ نہ کیا اور ٹیم اچھے نتائج دیتی رہی، بعد میں بھی سلسلہ آگے بڑھا اور مصباح الحق، انضمام الحق، عمران خان، وسیم اکرم اور وقار یونس کے ادوار بھی آئے، تنازعات کا ذکر ہوتا، سفارش کی بات بھی کی جاتی، لیکن آج کے دور میں جو ہو رہا ہے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ باقاعدہ سازش کی جائے اور کپتانی کیلئےبھی گروپ بنا لیا جائے۔ ہماری موجودہ ٹی 20ٹیم نے جو عزت افزائی کرائی ہے ایسی ماضی میں کبھی نہیں ہوئی۔لاہور بورڈ میں عاقب جاوید اکیڈیمی کے ڈائریکٹر ہیں لیکن عملی طور پر انہوں نے پوری کرکٹ پر قبضہ کر رکھا ہے اور اپنے طورپر نا معلوم وجوہات کی بناء پر بابراعظم اور دیگر سینئر کھلاڑیوں کے ساتھ کھلے عام توہین آمیز سلوک کیا اور سلمان اکبر کو جو اب تک بھی صرف 23،ٹی 20میچ کھیلے ہیں۔ کپتان بنا کر نئی ٹیم بھیج دی گئی، اس کا جو حشر ہوا وہ پوری قوم کے سامنے ہے، سلمان گروپ کا ہر کھلاڑی ناکام ہوا اور اسے بار بار موقع دیا گیا، صائم ایوب کو جتنے مواقع ملے وہ بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کی تاریخ کا ایک حصہ ہیں۔ کہنے والے تو کہتے ہیں کہ بات صرف یہی نہیں بلکہ اصل پروگرام بابراعظم اور رضوان کے ساتھ ساتھ شاہین آفریدی، نسیم شاہ اور ایسے دیگر کھلاڑیوں کا کیرئیر بھی تباہ کرنا ہے جو خار کی طرح آنکھوں میں کھٹکتے ہیں۔ اب ذرا غور فرمائیں کہ ٹیسٹ ٹیم کیلئے شان مسعود کو برقرار رکھاگیا ہے جو اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔ سعود شکیل زیادہ ٹیلنٹڈ ہے لیکن اس کے والد وفاقی وزیر نہیں تھے اب ذرا اور غور کریں تو شاید یہ بھی نظر آ جائے کہ شاداب ریاض پس منظر میں ہیں اگر ان کو کندھے کی چوٹ نہ لگتی تو وہ ایشیاء کپ میں ٹی 20کپتان ہوتے سلمان اکبر نے خالی جگہ پُر کر رکھی ہے۔
عاقب جاوید کی ورلڈکپ جیتنے کیلئےتیار کی گئی ٹیم کا حال تو سب کے سامنے ہے۔ کرکٹ شائقین پوچھتے ہیں کہ بار بار میرٹ کا نام لیا جاتا تو میرٹ ہے کہاں؟ اس ٹیم نے پوری قوم اور ملک کی توہین کرائی اور تینوں میچ کسی مقابلے کے بغیر ہار دیئے، اب تو حقیقتاً آپریشن ضروری ہے اور یہ آپریشن عاقب جاوید اور سلمان اکبر سے شروع ہو کر صائم ایوب، حارث رؤف اور محمد حارث جیسے تمام کھلاڑیوں تک ہونا چاہیے اور خود چیئرمین کو کسی بہتر منتظم کیلئے جگہ خالی کرنا چاہیے کہ بورڈ کے الیکشن کیلئے الیکشن کمشنر کا تعین بھی ہو چکا ہوا ہے۔

