ہولوکاسٹ یادگاری دن: کینیڈا کی خاموشی بھی جرم تھی: وزیرِاعظم مارک کارنی

اوٹاوا (سی بی سی، کینیڈین میوزیم فار ہیومن رائٹس) وزیرِاعظم کینیڈا مارک کارنی نے کہا ہے کہ ہولوکاسٹ یادگاری دن ماضی کی غلطیوں کو یاد رکھنے اور نفرت و جہالت کے نتائج پر غور کرنے کا موقع ہے کیونکہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران کینیڈا کی خاموشی بھی لاکھوں یہودیوں کے قتل میں معاون ثابت ہوئی۔

اوٹاوا میں نیشنل ہولوکاسٹ میموریل پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ آشوٹز-برکناؤ کی آزادی نے نازی جرائم کی ہولناکی، سہولت کاروں کی ذمہ داری اور متاثرین کی استقامت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ آنکھیں بند کر لینا کوئی غیر جانبدار عمل نہیں بلکہ ایک طرح کی غداری ہے۔

مارک کارنی نے یاد دلایا کہ اقوامِ متحدہ نے 2005 میں ہولوکاسٹ یادگاری دن منانے کا آغاز کیا تھا جبکہ 1941 سے 1945 کے دوران نازی حکومت کے تحت تقریباً 60 لاکھ یہودیوں کو منظم نسل کشی کا نشانہ بنایا گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُس دور میں کینیڈا میں یہود دشمنی عام تھی، جس کے باعث امیگریشن پالیسیوں نے یورپ سے فرار ہونے والے بہت سے یہودی پناہ گزینوں کو ملک میں بسنے سے روکے رکھااور جنگ کے دوران اتحادی ممالک میں کینیڈا نے سب سے کم یہودی پناہ گزین قبول کیے۔

وزیرِاعظم کے مطابق جنگ کے بعد تقریباً 40 ہزار ہولوکاسٹ کے متاثرین کینیڈا آ کر آباد ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈین عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہولوکاسٹ کے اسباق کو یاد رکھیں، متاثرین اور ان کے خاندانوں کی حمایت کریں اور نفرت کے خلاف عملی اقدامات کریں۔

تقریب میں بتایا گیا کہ حالیہ برسوں میں یہودیوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جن میں یہودی اسکولوں اور عبادت گاہوں پر حملوں جیسے پرتشدد واقعات بھی شامل ہیں۔ وزیرِاعظم نے پارلیمان میں زیرِ غور بل سی-9 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون مذہبی اور ثقافتی مقامات تک رسائی میں رکاوٹ ڈالنے یا خوف پھیلانے کو قابلِ سزا جرم بنائیگا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ قوانین نفرت کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتے۔

اپوزیشن لیڈر پیئر پولیور نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا اور دنیا بھر میں یہود دشمنی بڑھ رہی ہے اور یہ کہ اسرائیل مخالف جذبات اکثر یہودیوں کے خلاف نفرت میں بدل جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہودیوں کو کینیڈا میں محفوظ اور باوقار زندگی گزارنے کا حق حاصل ہےاور جب ہر یہودی خود کو محفوظ محسوس کرے گا تب ہی”نیور اگین” کا عہد پورا ہوگا۔