یمن: حوثی آرمی چیف میجر جنرل محمد الغماری اسرائیلی حملے میں شہید

صنعا/تل ابیب (رائٹرز)یمن کے حوثی گروپ کے آرمی چیف میجر جنرل محمد الغماری اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے، اور حوثیوں نے ان کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے انتقام کی دھمکی دی ہے۔

فوجی بیان میں کہا گیا کہ میجر جنرل الغماری دشمن اسرائیل کے خلاف ایک باعزت جنگ میں مارے گئے، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ حوثی بیان میں کہا گیا کہ الغماری اپنے چند ساتھیوں اور اپنے 13 سالہ بیٹے کے ساتھ شہید ہوئے، مگر حملے کی تاریخ واضح نہیں کی گئی۔

اسرائیلی فوج نے ستمبر کے آخر میں یمن پر کیے گئے فضائی حملوں میں حوثیوں کے جنرل اسٹاف ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا تھا۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر کہا کہ محمد الغماری اپنے زخموں کے باعث چل بسے، اور یہ وہی حملہ تھا جو اگست میں کیا گیا تھا، جس میں حوثی وزیرِاعظم اور ان کی کابینہ کا نصف حصہ مارا گیا تھا۔

اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا”محمد الغماری ان دہشت گرد کمانڈروں میں شامل تھے جو ہمیں نقصان پہنچانا چاہتے تھے، ہم ان سب تک پہنچیں گے۔”

حوثی گروپ نے غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی اور امریکی افواج کے ساتھ متعدد بار حملوں کا تبادلہ کیا اور دعویٰ کیا کہ ان کی مہم کے دوران 758 فوجی کارروائیاں کی گئیں اور 1835 ہتھیار بشمول ڈرون اور میزائل استعمال کیے گئے۔بیان میں مزید کہا گیا”دشمن کے ساتھ تصادم کے ادوار ختم نہیں ہوئے، اور صہیونی دشمن کو اپنے کیے گئے جرائم کی بازپرس اور سزا ملے گی۔”

حوثیوں نے غزہ جنگ کے آغاز میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے تجارتی راستوں پر اسرائیل سے منسلک جہازوں پر حملے شروع کیے، جس کے جواب میں اسرائیل نے شدید فضائی کارروائیاں کیں۔ اگست کے حملے میں حوثی وزیرِاعظم اور دیگر 11 سینئر اہلکار ہلاک ہوئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد، امریکا کی سات ہفتے طویل بمباری کے نتیجے میں حوثیوں کے مطابق 300 افراد مارے گئے۔

حوثی گروپ شمالی یمن کے پہاڑی علاقوں سے تعلق رکھتا ہے اور گزشتہ ایک دہائی سے دارالحکومت صنعا سمیت ملک کے بڑے حصے پر قابض ہیں۔ 2015 میں سعودی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کے حملے انہیں ہٹانے میں ناکام رہے، جس سے یمن شدید انسانی بحران کا شکار ہوا۔

حوثیوں نے براہِ راست اسرائیل پر محمد الغماری کی شہادت کا الزام نہیں لگایا، تاہم کہا کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ ختم نہیں ہوئی اور وہ اپنے جرائم کی سخت سزا پائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں