یو اے ای نے یمن میں انسداد دہشت گردی یونٹس ختم کرنے کا اعلان کر دیا

ابوظبی(ایجنسیاں)متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنے انسداد دہشت گردی یونٹس کا مشن رضا کارانہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اماراتی وزارت دفاع کے مطابق یہ فیصلہ یمن میں حالیہ پیشرفت کے جامع جائزے کے بعد کیا گیااور اس کا مقصد کامیاب مشن کے بعد فوجی موجودگی کو اختتام تک پہنچانا ہے۔

یو اے ای کے مطابق اس اقدام کے دوران انہوں نے یمن میں دہشت گردی کے خلاف عالمی تعاون کیا اور اپنے فوجی اہداف حاصل کر لیے۔ یاد رہے کہ یو اے ای کی یمن میں براہِ راست فوجی موجودگی 2019 میں ختم ہو گئی تھی، تاہم عرب اتحاد کے تحت وہ اس ملک میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔

اس سے قبل یو اے ای نے سعودی عرب کے یمن سے متعلق بیان کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مکلا بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے والے جہازوں پر کوئی اسلحہ نہیں تھا اور یہ سامان کسی یمنی گروہ کے لیے نہیں بلکہ اماراتی فورسز کے لیے تھا۔

دوسری جانب یمنی صدارتی کونسل نے سعودی اتحادی فورسز کے حملے کے بعد ملک میں 90 روز کیلئےایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران یمن کی فضائی، بحری اور زمینی حدود 72 گھنٹوں کیلئےبند رہیں گی۔ سعودی اتحاد کی جانب سے مکلا بندرگاہ پر محدود کارروائی میں اتارے گئے اسلحے اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا، جو فجیرہ بندرگاہ سے 27 اور 28 دسمبر 2025 کو روانہ ہوئے تھے اور بغیر اجازت مشرقی یمن پہنچے تھے تاکہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل کیلئے اسلحہ اور عسکری سامان اتارا جا سکے۔