یہ خون کب تک بہتا رہے گا؟

25 برس پہلے نئی صدی کا آغاز ہوا تو پوری دنیا میں خوشیاں منائی گئیں کہ نئی صدی دنیا میں اَمن چین سکون لے کر آئے گی اور دنیا کی چھ ارب آبادی کو اب ایک بہتر زندگی نصیب ہو گی، لیکن کس نے سوچا تھا کہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریاں بھی معمولی محسوس ہوں گی۔ جاپان کے شہروں ناگاساکی اور ہیروشیما پر ایٹم بم گرانے والا امریکہ اس قدر ”بڑا بدمعاش“ بن جائے گا کہ دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا نہیں بلکہ تباہ کرنا، ذبح کرنا چاہے گا۔ نئی صدی کے آغاز میں ہی امریکہ کو ایک جھٹکا لگا جب نیویارک کے ٹوئن ٹاور کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا اور پینٹاگون ملبے کا ڈھیر بنتے بنتے رہ گیا۔(اس دن کے بعد جسے آج بھی کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کسی اور کا کام تھا کسی اور کے نام لگایا گیا) امریکہ کو پوری دنیا میں تباہی پھیلانے کا ایک ایسا موقع ملا جو آج تک پورے زوروشور سے جاری ہے۔

اس تباہی و بربادی کا سب سے بڑا نشانہ پاکستان بھی ہے۔ جہاں 50 سال پہلے شروع ہونے والی دہشت گردی رکنے میں ہی نہیں آ رہی۔ چوتھائی صدی گزر گئی میں حکومتیں بدل گئیں، مگر کوئی بھی اس دہشت گردی پر قابو نہیں پا سکا اور ناکامی ہی حکومتوں کا مقدر بنتی چلی آ رہی ہے۔ پاکستان کے قیام کے 25 سال بعد ایک سیاہ دن آیا جب 16 دسمبر 1971ء کو ہم نے اس ملک کو دو لخت ہوتے دیکھا اور بقول اندرا گاندھی اس نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا۔ سوچا تھا کہ ہم غلطیاں نہیں دہرائیں گے لیکن غلطیاں دہرانے کا سلسلہ جاری رہا اور آج حالات یہاں پہنچ گئے ہیں کہ ہمارے بچے اتنے ناراض ہیں کہ اپنے ہی بہن بھائیوں کو چھاتی پر بم باندھ کر مار رہے ہیں۔ 16 دسمبر 1971ء جیسا یوم سیاہ ہم نے 44 سال بعد دوبارہ پشاور میں دیکھا جب انسان نما بھیڑیوں نے آرمی پبلک سکول پشاور میں معصوم بچوں کو چاقوؤں سے کاٹا اور بندوق کی گولیوں سے چھلنی کیا۔ اس یوم سیاہ کے بعد ایک آپریشن شروع ہوا اور پھر انسان نما بھیڑیوں کو چن چن کر مارا گیا۔

حالات کچھ بہتر ہوئے، لیکن اب لگتا ہے کہ وہ کسی طوفان سے پہلے والا سکوت تھا۔اِس دوران انسانوں کو خود کش بمبار بنانے والے ہمارے دشمنوں نے ہمارے ہی بچوں کو اس حد تک مسمرائزڈ کر دیا ہے کہ وہ اپنے جیسے مسلمانوں کی مسجد میں گھس کر پھٹ جاتے ہیں اور درجنوں انسانوں کی موت کا باعث بنتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے بھی اسلام آباد میں ایسا ہی واقعہ ہوا۔ اسلام آباد میں خود کش حملوں کا یہ دوسرا واقعہ تھا، تین ماہ پہلے اسلام آباد کچہری کے باہر ایک خودکش بمبار نے کچہری کے اندر داخلے میں ناکامی پر اپنے آپ کو گیٹ کے باہر اُڑا دیا تھا اور 12 لوگ جاں بحق ہوئے تھے، لیکن گزشتہ ہفتے کا واقعہ اس لحاظ سے بہت تکلیف دہ تھا کہ اپنے رب کے حضور جھکے مسلمانوں کو ایک دوسرے مسلمان نے مار ڈالا۔ تاریخ میں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے حسن بن صباح اور اس کی جنت سے نکلنے والے فدائین بھی ایسے ہی خودکش حملہ آور ہوتے تھے جنہیں یہ سبق دیا جاتا تھا کہ مر جاؤ مگر اپنے دشمن کو مار دو۔انسان نے خود کش بمبار بنانے میں بہت ترقی کر لی ہے۔

پاکستان میں تازہ دہشت گردی اسی خطے سے پھوٹ رہی ہے جو 78سال سے ہمارا دشمن ہے اور جس نے پاکستان کے قیام کو آج تک قبول نہیں کیا۔افغانستان جس نے قیام پاکستان کے بعد ہماری اقوام متحدہ کی رکنیت پر اعتراض کیا تھا آج بھی بھارت کا دست و بازو ہے۔ گزشتہ 50 سال میں ہونے والی تمام دہشت گردی کے ڈانڈے افغانستان سے جا ملتے ہیں۔بھارت نے کشمیر اور پنجاب میں مسلمانوں اور سکھوں کی جدوجہد آزادی کو کچلنے کے لئے جہاں ظلم و ستم کی انتہا کی وہاں اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے نام پر پاک بھارت سرحد پر اپنی حدود میں خاردار تار کی دیوار کھڑی کر دی۔ خاردار تاروں کی اس دوہری دیوار کو عبور کرنا اتنا مشکل ہے کہ ہرن، لومڑی یا کوئی اور جانور بھی سرحد کے آرپار نہیں ہو پاتے۔ ہماری حکومتوں کی کمزوری کا فائدہ اُٹھا کر بھارت نے بین الاقوامی سرحد کے ساتھ ساتھ کشمیر میں بھی یہ خاردار تاروں کی دیوار قائم کر دی۔

بھارت میں کہیں بھی بجلی بند ہو سکتی ہے، لیکن اس خاردار تار کو ساری رات نان سٹاپ بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ تاکہ کوئی سرحد کے آرپار نہ ہو سکے۔ ہم نے بھی چند برس پہلے پاک افغان بارڈر پر ایسی ہی خاردار دیوار کھڑی کر کے اپنا ملک محفوظ بنانے کی کوشش کی، اس کے باوجود دہشت گرد جب چاہے اس کو گرا کر پاکستان میں گھس آتے ہیں۔ کاش ہم نے بھی بھارتی منصوبہ سازوں کی طرح ایک مضبوط دیوار بنا کر اپنا ملک محفوظ بنایا ہوتا۔ ہم اپنے گھروں کو ”ناپسندیدہ عناصر“ سے محفوظ رکھنے کے لئے بیرونی دیوار اونچی رکھتے ہیں، اس پر خاردار تار بھی لگاتے ہیں، اب تو کیمروں کی مدد بھی لے لی جاتی ہے تاکہ رات کو سکون کی نیند سو سکیں۔ پاک افغان اور پاک بھارت سرحد پر ہمارے لاکھوں فوجی سردی اور گرمی میں راتوں کو مورچوں میں جاگتے ہیں تاکہ دشمن ان کے ہم وطنوں تک نہ پہنچ پائے، لیکن اب دشمن کو روکنے کے لئے صرف مورچے کافی نہیں ہیں،اب تو دیواروں کی بھی ضرورت پڑتی ہے اگر بھارت اور اسرائیل یہ دیواریں بنا کر اپنا ملک محفوظ بنانے کی کوشش کرسکتے ہیں تو ہمیں بھی یہ کوشش کرنی چاہئے،جو بچے آج ہم سے ناراض ہو چکے ہیں انہیں منانا بھی آنا چاہئے۔

ماں باپ کا کام ہوتا ہے کہ اپنے ناراض بچوں کو منائیں۔ کیا ہم اپنے ناراض بچوں کو منانے کا ہنر بھول گئے۔ ناراض بچے کو گھر سے نکال دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوا کرتا بلکہ گھر کے اندر مزید خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں، گھر سے باہر بیٹھے ناراض کو منا کر گھر لانے سے گھر میں اَمن اور سکون ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ یہ ہر گھر کی کہانی ہے۔محلہ، شہر، صوبہ اور ملک بھی گھروں اور خاندانوں کی طرح ہی ہوتے ہیں ان کے مسائل حل کرنے کے لئے جن لیڈروں کو ووٹ دے کر حکومت میں بٹھایا جاتا ہے یہ ان کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ انہیں صرف اپنے ذاتی گھر نہیں بلکہ پورے ملک کا دفاع کرنا ہے اور اس کے لئے پالیسیاں بنانی ہیں۔ تاکہ ملک کا ہر شہری امن اور سکون سے زندہ رہ سکے اور اپنے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کر سکے۔ کاش یہ سبق ہماری حکومتیں بھی سیکھ لیں۔