ایک طویل عرصے کے بعد پنجاب اسمبلی میں آئین ،قانون،اور قواعد و ضوابط بارے بحث ہوتے دیکھ کر خوشی ہورہی ہے ،قبل ازیں مختلف مواقع پر معزز ارکان اسمبلی اہم سے اہم ترین قانون سازی کو بھی کسی بحث و تمحیص بلکہ پڑھے بغیر بھی منظور کر لیتے تھے ،مگر اب انہیں کئی دہائیوں سے اپنے صوبے کے گم گشتہ آئینی اور انتظامی حقوق بھی یاد آ گئے ہیں ،جس کے لئے انہوں نے ایک تحریک التوائے کار بھی ایوان میں پیش کر دی ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ،، پنجاب میں آئین سے فراڈ کیا جا رہا ہے ،صوبائی آسامیوں پر وفاقی افسروں کی مسلسل تعیناتیوں سے آئینی اور انتظامی خلا جنم لے رہا ہے جو اٹھارویں آئینی ترمیم کی روح کے منافی ہے،،۔
ہمارے پیارے دوست ملک محمد احمد خان اس وقت پنجاب اسمبلی کے سپیکر کے منصب پر فائز ہیں ، وہ ایک سنجیدہ قانون دان، ماہر وکیل اور آئینی معاملات پر گہری نظر رکھنے والی شخصیت ہیں، ان کی سربراہی میں پنجاب اسمبلی محض تقاریر اور ہنگامہ آرائی کا مرکز نہیں بلکہ ایک ایسا فورم بنتی جا رہی ہے جہاں قانون، آئین اور پارلیمانی روایات پر بامعنی بحث دیکھنے کو ملتی ہے، آئینی نکات، رولز آف بزنس اور پارلیمانی تاریخ کے حوالہ جات کے ساتھ گفتگو ہونا ایک خوش آئند تبدیلی ہے،اسی طرح جب ایوان میں کوئی قانونی یا آئینی ابہام پیدا ہوتا ہے تو سپیکر کی جانب سے دی جانے والی رولنگ محض رسمی نہیں بلکہ علمی اور مدلل ہوتی ہے، اس سے نہ صرف اراکین اسمبلی کی رہنمائی ہوتی ہے اور عوام میں یہ تاثر بھی مضبوط ہوتا ہے کہ قانون سازی کا عمل بہتر ہاتھوں میں ہے،ملک محمد احمد خان کی ایک بڑی خوبی ان کی غیر جانبداری بھی ہے ، وہ حکومتی اور اپوزیشن اراکین دونوں کو یکساں موقع دینے کی کوشش کرتے ہیں اور بحث کو ذاتی حملوں کے بجائے اصولی نکات تک محدود رکھنے پر زور دیتے ہیں، وہ اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے اسے آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اظہار کا موقع دیتے ہیں، مختصر یہ کہ ملک محمد احمد خان کی سپیکر کے طور پر اہلیت، قانونی فہم اور مضبوط گرِپ نے پنجاب اسمبلی کے معیار کو بلند کیا ہے، ان کی موجودگی میں ایوان میں آئین اور قانون کی بالادستی کا احساس مضبوط ہوا ہے، جو کسی بھی جمہوری نظام کے لیے نہایت ضروری ہے، اگر یہی روایت برقرار رہی تو پنجاب اسمبلی ایک بار پھر سنجیدہ قانون سازی اور باوقار پارلیمانی مباحثوں کی مثال بن سکتی ہے۔
ابھی حال ہی میں پیش ہونے والی جس تحریک التوائے کار کی میں بات کر رہا ہوں واپس اسی کی طرف چلتے ہیں،ایک معزز رکن احمد اقبال اور کئی دوسروں کی یہ مشترکہ پیش کردہ ہے،جس میں انہوں نے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ آئین پاکستان یہ کہتا ہے کہ وفاق اور صوبوں میں سیاسی اور انتظامی امور عوام کے منتخب نمایمندوں کےذریعے چلائے جائیں ،وفاق میں اس پر عمل درآمد ہو رہا ہے وہاں تمام انتظامی ڈویزنز کے معاملات متعلقہ وزیر کے ذریعے چلتے ہیں مگر پنجاب میں یہ اختیار وزیر کی بجائے محکمانہ سیکرٹری کے پاس ہے ، جس سے آئین کے تحت انتظامی خود مختاری نظر انداز کی جا رہی ہے،تحریک کو پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ اس طرح وزیر اعلیٰ کے اختیارات کو بھی کم کر دیا گیا ہے کیونکہ چیف سیکرٹری پنجاب حکومت کا ملازم ہی نہیں ہے ، تمام وفاقی افسران بھی پنجاب حکومت کے ماتحت نہیں اور ان کے خلاف صوبہ کوئی تادیبی کاروائی ہی نہیں کر سکتا ،ایوان میںاس حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر کا دفتر بھی صوبے کے آئینی اختیارات کی خلاف ورزی ہے،سپیکر ملک احمد خان نے اس تحریک التوائے کار کو منظور کرنے یا اس پر مزید بحث سے پہلے پارلیمانی سیکرٹری قانون سے کہا ہے کہ،، حکومت اس تحریک بارے صوبائی محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی ،محکمہ قانون اور چیف سیکرٹری سے پوچھے کہ ان کا اس پر کیا موقف ہے؟ اس پر تحریک کے محرک نے کہا کہ ایس اینڈ جی اے ڈی میں صوبائی سروس کا کوئی کردار ہی نہیں اس لئے وہ رائے تعصب پر مبنی ہو گی تو سپیکر کا کہنا تھا کہ وہ جو بھی رپورٹ دیں ہم اس فیصلہ کے پابند نہیں فیصلہ تو اس ایوان نے کرنا ہے،،۔
بیوروکریسی کسی بھی ملک کے نظام میں حکومتوں کا چہرہ ہوتی ہے،سرکاری مشینری کا ہر کل پرزہ اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے مگر بد قسمتی سے پاکستان ماضی میں برطانوی کالونی رہا جسکی وجہ سے ملک اور صوبوں میں بیوروکریسی بٹی ہوئی ہے ،وفاقی بیوروکریسی اور صوبائی بیوروکریسی جو پی اے ایس ( پاکستان یڈمنسٹریٹو سروس) اور پی ایم ایس(پروونشل مینجمنٹ سروس) کہلاتی ہے ۔اسی طرح پولیس سروس آف پاکستان اور صوبائی پولیس سروس ہے ،پنجاب اسمبلی میں پیش ہونے والی اس تحریک التوائے کار کے حوالے سے ،، کچھ صوبائی افسروں کا کہنا ہے کہ یہ بہت بروقت ہے ملک میں پی اے ایس کا راج ہے ،تمام پالیسیاں وہی بناتےہیں اور عمل درآمد بھی وہی کراتے ہیں،پی ایم ایس افسران کو اپنے اپنے صوبوں کی پوسٹوں پر تعیناتی کےلئے پورا حصہ بھی نہیں مل رہا جس کی وجہ سے اس کے اکثر صوبائی افسر دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں،،
اسی تحریک کے حوالے سے ، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسروں کا کہنا ہے کہ ،، صوبوں میں افسروں کی تعیناتی کا ڈھانچہ مکمل طور پر آئینی، قانونی اور تاریخی بنیادوں پر قائم ہے، یہ نظام کسی یکطرفہ فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ وفاق اور تمام صوبوں کے باہمی اتفاقِ رائے سے تشکیل پایا، جس پر سیاسی مشاورت، قانون سازی اور عدالتی فیصلوں کی مہر ثبت ہو چکی ہے۔ وفاقی افسروں کا کہنا ہے کہ قومی اتفاقِ رائے کے بغیر کسی سروس اسٹرکچر میں تبدیلی نہ صرف غیر مناسب ہوگی بلکہ اس سے وفاقی نظام جو برصغیر کی انتظامی روایت کا تسلسل ،کمزور پڑ سکتا ہے۔ برطانوی دور میں انڈین سول سروس ایک مرکزی سروس تھی جس کے افسران صوبوں میں خدمات انجام دیتے تھے، اور آزادی کے بعد پاکستان نے اسی ماڈل کو آئینی تقاضوں کے مطابق اپنایا، 1949 میں چیف سیکرٹریز اور وزرائے اعلیٰ کی کانفرنسوں میں تمام صوبوں نے متفقہ طور پر آل پاکستان سروس کے قیام کی حمایت کی، جس کے نتیجے میں 1950 میں سول سروس آف پاکستان قائم ہوئی اور 1954 میں اس کے قواعد بنائے گئے جو آج بھی نافذ ہیں، آئین ِ پاکستان کے آرٹیکلز 240، 241 اور 268 اس مشترکہ سروس کی آئینی حیثیت اور تسلسل کی ضمانت دیتے ہیں، پی اے ایس اور صوبائی سروسز کے درمیان اسامیوں کی تقسیم بھی طویل مشاورت سے طے کی گئی، جسے 1993 کی بین الصوبائی کانفرنس میں باقاعدہ شکل دی گئی،بعد ازاں سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت 2014، 2020 اور 2021 میں اصلاحات کی گئیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ نظام جامد نہیں بلکہ مسلسل بہتری کے عمل سے گزر رہا ہے،، پنجاب اسمبلی میں اس سے قبل بھی چند بار ،ایسے معاملات زیر بحث آئے جن کا نتیجہ افہام و تفہیم سے نکال لیا گیا ،اسمبلی کا ایوان صوبائی معاملات کے حوالے سے بالا ترین ادارہ ہے ،دیکھتے ہیں وہ پنجاب میں ہونے والے ،،اس فراڈ ، غیر آئینی ، غیر قانونی وفاقی بیوروکریسی،، کے حوالےسے کیا فیصلہ کرتا ہے۔

