اسلام آباد میں آئی ایم ایف کی 186 صفحات پر مشتمل جاری کردہ رپورٹ نے ایک بار پھر یہ حقیقت کھول کر رکھ دی ہے کہ پاکستان کی معاشی بدحالی کی سب سے بڑی وجہ بیرونی عوامل نہیں بلکہ داخلی کرپشن، نااہلی اور مراعات یافتہ طبقات کی گرفت ہے۔ یہ رپورٹ حکومت کے ہر درجے میں پھیلی بدعنوانی کی نہ صرف نشاندہی کرتی ہے بلکہ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ طاقتور گروہوں نے ریاستی اداروں، پالیسی سازی اور معاشی فیصلوں کو اپنے مفادات کے لیے کس حد تک یرغمال بنا رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپشن کی حقیقی مقدار معلوم کرنے کا کوئی قابلِ اعتماد پیمانہ موجود نہیں، مگر قومی احتساب بیورو کی صرف دو برس میں پانچ ہزار تین سو ارب روپے کی ریکوریز اس ناسور کے حجم کی محض ایک جھلک ہیں۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ یہ ریکوریز بدعنوانی کے اصل اثرات کا صرف ایک پہلو ہیں، جبکہ اس کے معاشی و سماجی نقصانات اس سے کہیں زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہیں۔ عوام روزمرہ سرکاری خدمات کے حصول کے لیے رشوت دینے پر مجبور ہیں، عدلیہ کو بھی عام شہری بدعنوان اداروں میں شمار کرتے ہیں، اور پالیسی سازی وہ شعبہ ہے جس پر سیاسی و معاشی اشرافیہ کی گرفت سب سے مضبوط ہے۔
رپورٹ میں 2019 کے چینی بحران کا حوالہ ایک نمونے کے طور پر دیا گیا ہے کہ بااثر کاروباری گروہ کس طرح حکومتی پالیسی کو اپنے مفاد کے لیے موڑ لیتے ہیں۔ ذخیرہ اندوزی، قیمتوں میں مصنوعی اضافہ اور جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ جیسے اقدامات سے اربوں کمائے گئے، مگر عوام مہنگائی کی اذیت میں مبتلا رہے اور شواہد کے باوجود کوئی مؤثر احتساب نہیں ہو سکا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سرکاری اداروں کی کمزور کارکردگی، ٹیکس نظام کی پیچیدگیاں، مالیاتی نظم و نسق میں خامیاں اور پبلک پروکیورمنٹ کا غیر شفاف ہونا بدعنوانی کے بڑے اسباب ہیں۔ آئی ایم ایف کا اندازہ ہے کہ اگر پاکستان جامع گورننس اصلاحات نافذ کرے تو اگلے پانچ برسوں میں معیشت پانچ سے ساڑھے چھ فیصد تک اضافی ترقی حاصل کر سکتی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ کرپشن پر قابو پانے سے صرف اخلاقی بہتری نہیں بلکہ حقیقی معاشی استحکام بھی پیدا ہوتا ہے۔
پاکستان میں کرپشن کی کہانی کوئی نئی نہیں۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک یہ سلسلہ پوری شدت کے ساتھ جاری رہا ہے۔ حکومتیں چاہے جمہوری ہوں یا آمرانہ، کوئی احتساب کے نعرے پر برسراقتدار آیا ہو یا کسی نے “پاک چلی، شفاف چلی” جیسے نعروں سے عوام کو شفافیت کے خواب دکھائے ہوں، سب نے کرپشن کے نئے نئے طریقے ایجاد کیے اور ریکارڈ قائم کیے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ملک خطرناک حد تک کمزور حالت میں کھڑا ہے۔ دلچسپ اور اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی کوئی شخص کرپشن کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو حکومتی حلقے فوری طور پر اسے سیاسی ایجنڈا قرار دے دیتے ہیں، اور یوں اصل مسئلہ دب جاتا ہے اور بدعنوانی مضبوط سے مضبوط تر ہو جاتی ہے۔ مگر آئی ایم ایف کی یہ رپورٹ ایسی ہے جسے حکمران بدخواہی یا سازش قرار نہیں دے سکتے۔ یہ رپورٹ عالمی مالیاتی ادارے نے جاری کی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس کے نتائج کو جھٹلانا ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کرپشن کل بھی موجود تھی، آج بھی ہے اور اگر ریاستی طاقت کو چند خاندانوں، سیاسی اشرافیہ اور کاروباری مافیا کے چنگل سے آزاد نہ کیا گیا تو مستقبل میں بھی اسی شدت سے برقرار رہے گی۔
ملک کی موجودہ حالت ایک ایسے تھکے ہارے بوڑھے شخص جیسی ہے جو ساری زندگی محنت کرتا ہے مگر اس کی محنت کی کمائی نالائق اولاد ضائع کر دیتی ہے۔ عوام ٹیکس دیتے ہیں، بجلی کے بھاری بل ادا کرتے ہیں، پٹرول پر ٹیکس برداشت کرتے ہیں، مگر ریاستی خزانہ چند مخصوص ہاتھوں میں مرتکز رہتا ہے۔ کوئی روٹی کے لیے ترس رہا ہے اور کوئی ایک تقریب پر کروڑوں لٹا رہا ہے۔ یہ غیر معمولی معاشی ناہمواری کسی بھی ریاست کے وجود کے لیے شدید خطرہ ہوتی ہے۔
دنیا کے کئی ممالک نے کرپشن کے خلاف آہنی ہاتھ استعمال کر کے اپنے مستقبل کو محفوظ بنایا۔ چین میں زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت وزرا، پارٹی سیکریٹریز، بڑے کاروباری ٹائیکونز اور فوجی جرنیلوں تک کو سخت ترین سزائیں سنائی گئیں، جن میں سزائے موت اور عمر قید شامل تھیں۔ جاپان میں بدعنوانی اخلاقی ناکامی سمجھی جاتی ہے، اور معمولی الزام پر بھی اعلیٰ عہدیدار استعفیٰ دینے میں دیر نہیں کرتے۔ جنوبی کوریا نے دو سابق صدور اور معروف کاروباری شخصیات کو جیل بھیجا اور شفافیت قائم کی۔ سنگاپور کبھی شدید کرپشن کا شکار تھا، مگر سخت قوانین، آزاد اینٹی کرپشن بیورو اور زیرو ٹالرنس پالیسی کے باعث آج دنیا کے شفاف ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے، جہاں کسی بھی اعلی سے اعلی عہدیدار کو کوئی رعایت نہیں ملتی۔
اسلامی دنیا بھی اس حوالے سے پیچھے نہیں رہی۔ سعودی عرب میں 2017 میں ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر بدعنوانی کے خلاف تاریخی کارروائی ہوئی جس میں سینکڑوں شہزادے، وزرا، سابق وزرا، ارب پتی کاروباری شخصیات اور اعلیٰ سرکاری افسر رِٹز کارلٹن میں رکھ کر سخت تحقیقات کی گئیں اور اربوں ڈالر کی ریکوریز ہوئیں۔ متحدہ عرب امارات میں کرپشن کے خلاف قوانین نہایت سخت ہیں، اور معمولی بے ضابطگی پر بھی سرکاری افسران جیل اور تاحیات ملازمت سے محرومی کا سامنا کرتے ہیں۔ ملائیشیا نے 1MDB اسکینڈل میں اپنے سابق وزیراعظم نجیب رزاق تک کو سزا دلوا کر دنیا کو دکھایا کہ سیاسی وابستگی کوئی ڈھال نہیں۔ انڈونیشیا نے وزیروں اور گورنروں کو کرپشن پر جیل بھیجا اور اینٹی کرپشن کمیشن کو مکمل خودمختاری دی۔ افریقی ملک روانڈا نے خانہ جنگی کے بعد حیرت انگیز نظم و نسق کے ساتھ کرپشن کے خلاف کامیاب جنگ لڑی اور آج براعظم افریقہ اس کی مثال دیتا ہے۔ ان تمام ممالک میں ایک چیز مشترک تھی: وہاں کوئی مقدس گائے نہیں تھی—نہ سیاست دان، نہ جرنیل، نہ بیوروکریٹ، نہ ٹائیکون—سب قانون کے تابع تھے۔
پاکستان بھی اگر ترقی اور استحکام چاہتا ہے تو اسے اسی راستے پر چلنا ہوگا۔ احتسابی اداروں کو مکمل غیر سیاسی بنانا ہوگا، عدلیہ کی تقرری اور کارکردگی کے اصول شفاف بنانے ہوں گے، ریاستی اداروں میں سفارشی کلچر اور سیاسی بھرتیوں کا خاتمہ کرنا ہوگا، ٹیکس نظام کو سادہ اور غیر امتیازی بنانا ہوگا، سرکاری خریداری کے تمام مراحل عوام کے سامنے لانے ہوں گے اور سب سے بڑھ کر سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ شفاف بنانا ہوگی تاکہ پالیسی سازی پر اشرافیہ کا کنٹرول کم ہو سکے۔
آئی ایم ایف کی یہ رپورٹ پاکستان کے لیے سزا نہیں بلکہ ایک موقع ہے۔ یہ وہ آخری گھنٹی ہے جو ہمیں متنبہ کر رہی ہے کہ اگر ہم نے اب بھی اپنے نظام کو درست نہ کیا، طاقتور کو قانون کے تابع نہ بنایا اور شفافیت کو اصول نہ بنایا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ اگر آئی ایم ایف سے قرض پر قرض لینا مجبوری ہے تو پھر اس کی تجاویز پر عمل کرنا بھی ناگزیر ہے؛ کوئی بھلے کی بات کرے تو اسے سننا اور اس پر عمل کرنا قومی تقاضا ہے۔ ان عناصر پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جن کی اس رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ وہ بھی باز آئیں اور اس ملک و قوم پر رحم کریں جو ان کی بے تحاشا دولت کی ہوس اور لامحدود کرپشن کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔ کرپشن کے خلاف جنگ نعروں اور بیانات سے نہیں جیتی جاتی—اس کے لیے بے رحم احتساب، مضبوط ادارے، آزاد عدلیہ اور اجتماعی قومی عزم ناگزیر ہوتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک نے یہ معجزہ کر دکھایا ہے؛ پاکستان بھی ایسا کر سکتا ہے، اگر واقعی چاہے۔

