آبی گزرگاہوں پر کمرشل تعمیرات سے تباہی و بربادی ہوئی:وزیر دفاع

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) – قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے حالیہ سیلابی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آبی گزرگاہوں پر کمرشل تعمیرات اور دریاؤں کی زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنانے سے موجودہ تباہی و بربادی سامنے آئی ہے۔

یہ قدرتی نہیں بلکہ انسانی اعمال کا نتیجہ ہے؛ ہم نے دریاؤں پر ہوٹل اور ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنائیں۔نالوں اور آبی گزرگاہوں پر پلاٹ بیچ دیے گئے، فطرت کے ساتھ کھلواڑ کا انجام ہمیشہ تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔

ہر سال سیلاب آتا ہے، نقصان کا تخمینہ لگتا ہے اور دنیا سے مدد مانگی جاتی ہے لیکن اپنے رویے درست نہیں کیے جاتے۔سیالکوٹ سمیت کئی شہروں میں دریاؤں کے راستے تنگ کر دیے گئے، پانی اب آبادیوں میں داخل ہوتا ہے۔

ماضی میں آمریت کے ادوار میں ڈیمز بنے کیونکہ فیصلے لینے کی طاقت موجود تھی، جمہوری ادوار میں اتفاقِ رائے نہیں ہو پاتا۔بڑے منصوبے جیسے بھاشا اور مہمند ڈیم مکمل ہونے میں 15 سال لگ جائیں گے، اس کے بجائے درجنوں چھوٹے ڈیم فوری بنائے جائیں۔قومی معاملات پر سیاست کی جاتی ہے، یہ “دکانداری” بند ہونی چاہیے۔

پانی اور کلائمٹ کا مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ قومی اور بین الاقوامی ہے۔عوامی مفاد کے منصوبوں پر اختلافات ختم کرنے ہوں گے۔نہروں اور ڈیموں جیسے ترقیاتی منصوبوں پر احتجاج اور سڑکیں بند کرنے سے اجتناب کیا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں