حفاظتی اصولوں کیخلاف ورزی،لطیف آباد نمبر 10، حیدرآبادکی فیکٹری کی قانونی حیثیت مشکوک قرار
حیدرآباد (نامہ نگار)لطیف آباد یونٹ نمبر 10 میں قائم غیر قانونی آتش بازی کا سامان تیار کرنے والے کارخانے میں خوفناک دھماکوں اور آتش زدگی کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق جبکہ 7 زخمی ہوگئے۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ پورا علاقہ لرز اٹھا اور قریبی گھروں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔
ذرائع کے مطابق لغاری گوٹھ کے رہائشی علاقے میں قائم اس خفیہ کارخانے میں دھماکے کے فوراً بعد آگ بھڑک اٹھی۔ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور ریسکیو ٹیمیں آگ بجھانے اور متاثرین کو نکالنے میں مصروف رہیں۔
“زخمیوں اور لاشوں کی تفصیل”
لیاقت یونیورسٹی اسپتال کے برنس وارڈ کے ڈیوٹی ڈاکٹر وینیش کمار نے بتایا کہ ایک لاش اور 6 زخمیوں کو اسپتال لایا گیا جن کے جسم پر جھلسنے کے زخم ہیں۔ڈاکٹر حیا کے مطابق دو زخمیوں کا جسم تقریباً 100 فیصد جھلس چکا ہے۔
میڈیکو لیگل آفیسر ڈاکٹر محمد حسین نے تصدیق کی کہ دو نامعلوم افراد کی لاشیں مردہ خانے منتقل کی گئیں جبکہ ڈاکٹر مجیب کلہوڑو نے بتایا کہ ایک اور مکمل طور پر جھلسی ہوئی لاش برنس وارڈ لائی گئی۔
“انتظامیہ اور پولیس کی کارروائی”
ڈپٹی کمشنر حیدرآباد زین العابدین میمن نے جائے وقوعہ سے پانچویں لاش کے ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 7 زخمی ہیں جن میں سے تین کی حالت نازک ہے۔اسسٹنٹ کمشنر سعود لُنڈ نے کہا کہ “آتش بازی کا سامان رہائشی گھر میں بغیر لائسنس تیار کیا جا رہا تھا، اصل صورتحال ریسکیو مشن مکمل ہونے کے بعد واضح ہوگی”۔
ایس ایس پی حیدرآباد عدیل چانڈیو نے بتایا کہ فیکٹری کے لائسنس اور ملکیت کی جانچ جاری ہے، جبکہ فیکٹری مالک موقع سے غائب ہے۔ ریسکیو عملہ کسی بھی ممکنہ لاش کی تلاش کیلئےملبہ ہٹا رہا ہے۔
“ریسکیو 1122 کا بیان”
ترجمان کے مطابق اطلاع ملتے ہی فائر، ایمبولینس اور ریسکیو یونٹس کو فوری روانہ کیا گیا۔”اس وقت آگ بجھانے اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں”۔
“حکومتی ردِعمل”
وزیرِ داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔انہوں نے ہدایت کی کہ فیکٹری کی قانونی حیثیت کی فوری جانچ کی جائے،آتش بازی تیار کرنے سے متعلق لائسنسنگ اور حفاظتی اصولوں پر عمل درآمد کی تحقیق کی جائے،ذمہ داران کو قانون کے مطابق سخت کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا.وزیرِ داخلہ نے کہا کہ “انسانی جانوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ایسے واقعات کسی طور قابل قبول نہیں”۔

