انسان اپنے تجسس یا شوق کی خاطر مشکل سے مشکل کام بھی کر گزرتا ہے۔ یہ انکشاف مجھ پر اُس رات دو بجے اُٹھ کر ہوا۔ ورنہ اتنی سردی میں کون گرم گرم بستر سے نکلتا ہے۔تجسس مجھے تھا اور شوق میرے ابو کا، یعنی “مچھلی کا شکار!“ صرف تجسس اور شوق ہی ایسی تحریک ہو سکتی ہے جو جاڑے کی سرد راتوں میں کسی کو گرم گرم بستر چھوڑ دینے پر مجبور کر سکتی ہے۔ چنانچہ دسمبر کی اس رات میں دھندلی سڑک پر نہر کنارے موٹر سائیکل پہ سفر کرتے کرتے ہم کوئی چالیس منٹ میں جلو موڑ پہنچ گئے۔
کھلے علاقے میں وہ ایک خنکی بھری صبح تھی۔ ہم شکار کے تمام ضروری سامان سے لیس بی آر بی نہر کے اُس پار پہنچ گئے۔ ابو کی الماری میں پچھلی طرف مختلف قسم کی بنسیاں (Fishing Rods)، ایک ڈبے میں کئی طرح کے کانٹے، چرخیاں، جال، اور ایک لمبی فولڈنگ چئیر، جس پر نیم دراز ہو کر کانٹا پانی میں پھینکنے کے بعد آرام دہ پوزیشن میں کانٹے کی نشاندہی کے لئے لگائی گئی نلکی پہ نظر رکھنے کے لیے نیم دراز ہوجاتے تھے۔
شاید کسی مصنف نے کہیں لکھا ہے کہ کرکٹ کھیلنا، محبت کرنا اور مچھلی کا شکار کرنا دنیا کے صبر آزما ترین کام ہیں، جس میں ہدف حاصل کرنے کے لئے لگن، سست روی اور کافی وقت درکار ہوتا ہے۔ ذرا سی بے چینی، جلدبازی اور کوئی غلط اقدام بنا بنایا کھیل بگاڑ سکتا ہے۔ واضح رہے یہ اس وقت کی بات ہے جب صرف ٹیسٹ کرکٹ کھیلی جاتی تھی۔ ایک پانچ روزہ ٹیسٹ کرکٹ میچ چھ دن پہ محیط ہوتا تھا جس میں تین دن کھیل کے بعدچوتھا دن آرام کا رکھا جاتا تھا اور اس کے بعد دو دن کا کھیل ہوتا تھا۔ اب تو زمانے کی تیز رفتاری نے کھیل کا حلیہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔
مچھلی کے شکار کے لئے پانی میں کانٹا ڈالنے کے بعد دیر تک صبر و تحمل اور خاموشی سے دور لہروں کے زور سے ابھرتی ڈوبتی نلکی پہ نظر رکھنی پڑتی ہے۔ جیسے ہی نلکی کھچاؤ کی وجہ سے پانی میں غوطہ کھاتی ہے، اسی لمحے بڑی مہارت سے ڈوری کو کھیچنا ہوتا ہے تا کہ کانٹا مچھلی کے منہ میں اچھی طرح پھنس سکے۔ ذرا سی اونچ نیچ ہوئی تو مچھلی کانٹا چھڑا کے نکل بھی سکتی ہے۔
ابو مچھلی کے شکار کے لئے صدر بازار میں واقع بنسی لال تالاب کے علاوہ جلو کے اس پار بی آر بی نہر، اور شرقپور جیسی جگہوں پہ اکثر جایا کرتے تھے۔ کئی دفعہ اتنا شکار ہوتا کہ مچھلیاں ہمسائے میں بھی بانتی جاتیں اور کبھی کبھار ایک آدھ مچھلی پہ ہی اکتفا کرنا پڑتا۔ بنسی لال تالاب تو عرصہ ہوا پاٹ دیا گیا ہے اور اس کی وسیع و عریض جگہ پہ کسی بدمعاش گروپ نے قبضہ کر لیا تھا۔ آج کل کیا حالات ہیں کچھ علم نہیں۔
میرے والد عبدالجمیل قریشی 22 اکتوبر 1916ء کو ضلع گورکھپور میں پیدا ہوئے۔ دادا عبدالرزاق قریشی شادی کے بعد گورکھپور اور مہاراج گنج کے علاقوں میں ایک عرصہ تک تعینات رہے۔ دادا نے مستقل رہائش کے لئے گورکھپور سے کافی دور مہوبہ میں ایک حویلی جس کا نام “باؤلی خلیل خاں” تھا بھی خرید رکھی تھی۔ جہاں وہ ہر سال جایا کرتے تھے اور کچھ دن قیام کیا کرتے تھے۔ غالباً مہوبہ اُن کے سسرالی علاقے راٹھ سے قریب تھا۔ ان دنوں سفر بیل گاڑیوں پہ کیا جاتا تھا اور مسافت میلوں میں نہیں بلکہ دنوں میں ماپی جاتی تھی۔
ابو کی ابتدائی تعلیم گورکھپور سے ہے جہاں انہوں نے جورج اسلامیہ کالج سے ہائر سیکنڈری یا شاید انٹرمیڈیٹ کیا۔ ابو بتایا کرتے تھے کہ اردو کے مشہور شاعر فراق گورکھپوری اسی کالج میں ان کے انگریزی کے استاد تھے۔ مجنوں گورکھپوری بھی اسی کالج میں ابو کو پڑھایا کرتے تھے۔ انٹرمیڈیٹ کے بعد ابو نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور وہاں ہاسٹل میں رہائش لے لی۔
ستمبر 2000ء میں جب میں اپنے بڑے بیٹے عبدالہادی کو، جو اس وقت بمشکل تین سال کا تھا، نرسری سکول میں داخلہ دلوا کر گھر واپس لوٹا تو ابو گھر آئے ہوئے تھے۔ ابو کے استفسار پہ میں نے انہیں بتایا کہ میں ہادی کو سکول میں داخلہ دلوانے گیا ہوا تھا۔ ”ارے اتنے سے بچے کو سکول میں کیا پڑھائیں گے؟ کتنی فیس ہوگی؟ سکول کیسے آئے جائے گا؟” ابو نے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی۔ جب میں نے انہیں بتایا کہ ابھی تو داخلہ فیس کے ساڑھے تین ہزار روپے جمع کروا کے آ رہا ہوں، ماہانہ آٹھ سو روپے فیس اس کے علاوہ ہو گی۔ تو ابو بہت حیران ہوئے اور کہا، “اتنا مہنگا سکول۔۔۔؟میں جب علی گڑھ میں پڑھتا تھا تو مہینے بھر کی ٹیوشن فیس، ہاسٹل فیس اور ہاسٹل میں کھانے پینے کا خرچہ ملا کر کل ساڑھے سترہ روپے بنتے تھے۔”
علی گڑھ یونیورسٹی میں ابو دوسال تک زیر تعلیم رہے۔ تاہم بدقسمتی سے ناموافق گھریلو حالات کی وجہ سے فائنل امتحان میں نا بیٹھ سکے اور تعلیم ادھوری چھوڑ کے واپس گھر آنا پڑا۔ پیچھے خاندان میں بہت سی اموات ہو گئی تھیں۔ اس زمانے میں چیچک کی وباء پھیل گئی تھی اور گاؤں کے گاؤں اس وبائی مرض کی لپیٹ میں آ گئے۔ ابو کے کئی بہن بھائی اسی مرض میں جان سے گئے۔ انہی دنوں دادا بھی شدید بیمار ہو گئے تھے اور کافی عرصے بیمار رہے۔
دادا کی صحت یابی کے بعد غالباً 1941ء کے اوائل میں ابو نے رائل انڈین آرمی میڈیکل کور میں شمولیت اختیار کی۔ انہیں سی ایم ایچ، دارجلنگ میں بحیثیت کلرک پوسٹنگ ملی۔ جلد ہی انہوں نے اپنی پہلی بیوی، جن کا نام شکورن تھا، کو بھی وہیں بلا لیا۔ ابو کے بڑے بھائی عبدالجلیل قریشی یعنی ہمارے تایا، جنہیں ہم سب بہن بھائی پیار سے تھل ابا کہتے تھے، بھی اپنی فیملی کے ہمراہ دارجلنگ آ گئے۔ یہیں 1942ء میں ایک بیٹی ہماری بڑی بہن ‘منی’ پیدا ہوئی۔ کچھ مہینوں بعد شکورن پیٹ کے کسی مرض (غالباً السر کی کسی پیچیدہ قسم) کی وجہ سے کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد انتقال کر گئیں۔ مُنی کی دیکھ بھال اور پرورش ہماری تائی امی کے ذمے لگ گئی۔
اِسی سال ابو کو سنگاپور کے وار فرنٹ زون میں پوسٹ کر دیا گیا۔ جہاں فروری 1942ء میں جاپانی غلبہ ہو گیا اور ابو کو ان کے ہزاروں ساتھیوں سمیت جاپانیوں نے گرفتار کر لیا۔ ابو کو تین سال سے زائد عرصہ انتہائی نامساعد حالات میں قید میں رکھا گیا۔ اسی دوران مُنی بھی فوت ہو گئی تاہم ابو کو اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ اس پر آشوب دور میں اطلاع دیتے بھی تو کیسے اور کہاں دیتے؟ ابو ہمیں قید کے دوران جاپانیوں کی سختی اور سنگدلی کے بہت سے واقعات سنایا کرتے تھے۔
ابو بتایا کرتے تھے کہ وہ رائل انڈین آرمی میں شمولیت کے بعد دارجلنگ کے ملٹری ہسپتال میں پوسٹڈ تھے۔سال سوا سال کے بعد 1942ء میں جب اُن کی تعیناتی سنگاپور وار فرنٹ پہ ہو گئی۔ تو اس وقت کا چیف آف کمبائینڈ آپریشنز لارڈ لوئیس ماؤنٹ بیٹن ان سب کو سی آف کرنے کے لئے آیا تھا۔ وہ سب چاق و چوبند کھڑے تھے کہ ماؤنٹ بیٹن ان کے دستے کے پاس آ کر رک گیا۔ اس نے آگے بڑھ کے ابو سے ہاتھ ملایا اور ایک دم ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں ابو سے پوچھا، ”کیہڑا ضلع اے، جوانا؟“
یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اسے پنجابی زبان بولنا آتی تھی یا بس دو چار جملے سیکھ رکھے تھے۔
دوسری جانب 1945ء میں سنگاپور میں قید سے رہائی کے بعد جب ابو واپس لوٹے تو انہیں اپنا گھر بار ختم ہونے کا علم ہوا۔ دادا کا بھی اسی دوران انتقال ہو چکا تھا۔ گویا سب کچھ ختم ہو گیا تھا، ابو کی سرپرستی میں دو چھوٹے بھائی اور دو بہنیں آ گئے۔ بہرحال, زندگی کا سفر ہر حال میں جاری و ساری رہتا ہے۔ واپس آکر ابو کی بحیثیت حوالدار ترقی ہو گئی تاہم انہوں نے جلد ہی فوج سے ریٹائرمنٹ لے لی اور کچھ عرصے بعد ریلوے میں جاب شروع کردی۔ 1946ء ابو کی شادی ہماری امی سے ہوئی۔
انہی دنوں میں ملکی سیاسی حالات میں تیزی آتی گئی اور ہندوستان کے بٹوارے کی باتیں ہونے لگیں۔ سرکاری ملازمین کو اختیار دیا گیا کہ ملکی تقسیم کی صورت میں وہ جہاں جانا چاہتے ہیں ان کا وہیں تبادلہ کر دیا جائے گا۔ چنانچہ اسی حوالے سے جنوری 1947ء میں ابو جائزہ لینے کے لئے مشرقی بنگال (جو مشرقی پاکستان بننا تھا) کے علاقے نواکھلی گئے۔ ایک آدھ مہینہ وہیں رہے، تاہم انہیں وہاں کی مرطوب آب و ہوا راس نہ آ سکی اور وہ بیمار رہنے لگے۔ کچھ ہی عرصے میں وہ واپس آ گئے اور پھر لاہور منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔
کسی دوست کے حوالے سے بیڈن روڈ پہ لکشمی مینشن کے ساتھ واقع ایک گھر الاٹ کروایا لیکن کچھ مہینے رہنے کے بعد چھوڑ دیا کہ یہ میاں بیوی پہ مشتمل دو افراد کے کنبے کے لئے بہت بڑا گھر ہے۔ پھر انہیں صدربازار میں بھی ایک اور بڑا گھر دکھایا گیا لیکن یہ بھی ابو کو پسند نہ آیا کہ بہت بڑا گھر ہے۔ تاہم آخری قرعہ بنگالی محلے کی گلی نمبر ستاسی کے اس دو مرلے کے چھوٹے سے گھر کے نام نکلا۔ یہی ہمارا آبائی گھر بنا۔ ہم ساتوں بہن بھائی اسی گھر میں پیدا ہوئے۔ درحقیقت آٹھ بہن بھائی۔۔۔! ہماری سب سے بڑی بہن بشریٰ دس گیارہ ماہ کی عمر میں بیمار ہو کے فوت ہوگئی تھیں۔
سن چھیاسی میں میں نے کنٹونمنٹ جنرل ہسپتال کے کوارٹرز میں رہائشی مارک کو میٹرک کی ٹیوشن پڑھانا شروع کی تو ایک دن اس کی نانی، جنہیں ہم آنٹی ہیلن کہتے تھے، چائے دینے کے لئے آئیں اور پاس آکر باتیں کرنے لگیں۔ وہ ہمیشہ ساڑھی میں ملبوس رہتی تھیں۔ باتوں باتوں میں مجھ سے پوچھا کہ کہاں رہتے ہو, جب میں نے انہیں بتایا کہ بڑے احاطے کے شروع میں فلاں گھر میں رہتا ہوں تو فوراً پہچان گئیں اور بولیں، “اچھا تو تم جمیل کے بیٹے ہو۔ تم سب بہن بھائی میرے ہاتھ کے ہو۔” بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ چھوٹا سا گھر ہی ہماری پہچان بن گیا۔
ایک وہ وقت بھی آیا کہ اسی چھوٹے سے گھر میں ہم اٹھارہ انیس لوگ بھی انتہائی صبر وشکر اور بھائی چارے کے ساتھ رہتے رہے۔ گھر کا نظام بہتر طریقے سے چلانے کے لئے ابو دو جگہ کام کیا کرتے تھے۔ ابو پاکستان ویسٹرن ریلوے میں بطور سائفر رائٹنگ انچارج کام کرتے تھے۔ ریلوے ہیڈکوارٹرز میں جاب کے بعد ابو برانڈ رتھ روڈ پہ بھی ایک جاب کرتے تھے۔ جہاں وہ اے رحمان اینڈ کمپنی میں ان کی بیرون ملک کمپنیوں سےخط و کتابت کا سارا کام کر دیتے تھے۔ ابو نے نا صرف اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی مناسب پڑھائی لکھائی کا خیال رکھا بلکہ بہنوں کی شادیوں کا اہتمام بھی کیا۔ ہم ساتوں بہن بھائیوں کی تعلیم وتربیت بھی ہمیشہ مقدم رکھی۔
ابو کی زندگی ہم سب کے لئے ایمانداری، مسلسل محنت، صبر و تحمل، دوسروں کی ہر ممکن مدد کے لئے ہر وقت تیار رہنا، مہمان نوازی، ہر ایک سے پیار و محبت سے پیش آنا خاص طور پہ چھوٹے بچوں اور جانوروں خصوصاً بلیوں سے بے حد لگاؤ رکھنے کا سبق ملتا ہے۔
جب تک ابو تھے، ہمارے گھر میں ہمیشہ کم سے کم ایک بلی ضرور رہی۔ یہی شوق اب میرے بچوں میں بھی نظر آتا ہے۔ بلیوں کے کھانے کا خصوصی انتظام کرتے تھے۔ قصاب سے گوشت و چھیچھڑے لا کر اسے ابالتے تھے، کچا گوشت بہت کم ڈالتے تھے۔ بلیاں بھی ابو کی دیوانی ہوتی تھیں۔ گلی میں سے کئی موٹر سائیکلیں گزرتی تھیں لیکن بلیوں کو ابو کی موٹر سائیکل کی آواز کی پہچان ہوتی تھی جیسے ہی ابو موٹر سائیکل دور سڑک سے گلی کی طرف موڑتے تھے، بلی چاہے گھر کی تیسری منزل پہ ہوتی، میاؤں میاؤں کرتی دروازے پہ پہنچ جاتی تھی۔ اس وقت ان کی بے چینی اور وارفتگی دیکھنے والی ہوتی تھی۔ ابو بھی سب سے پہلے بلی ہی کو گود میں لیتے اور نعمت خانے سے کچھ نا کچھ نکال کر اسے کھانے کو دیتے تھے۔ ہفتے دس دن میں بلی کو نہلایا جاتا تھا۔ کبھی کبھی سردیوں میں گرم پانی میں پنکی (پوٹاشیم پر میگنیٹ) ڈال کر نہلاتے تھے تاکہ ممکنہ جوؤں کو تلف کیا جا سکے۔
ستر کی دہائی کے اوائل تک جب ٹیلیویژن عام نہیں ہوا تھا، گھروں میں ریڈیو، اخبارات اور رسائل ہی خبروں اور تفریح کا ذریعہ تھے۔ جہاں ابو کے لئے بی بی سی پہ خشک سیاسی خبریں اور تبصرے ہی باعث دلچسپی ہوتے تھے، ہم بچوں کے لئے اتوار کے دن لاہور ریڈیو سے آپا شمیم کا پروگرام ہوتا تھا جس کا ہم سب بڑی بیتابی سے انتظار کیا کرتے تھے۔ ابو خاص طور پہ ہمارے لئے اس وقت ریڈیو فارغ کر دیتے تھے۔ موسیقی میں بہت زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے تھے لیکن کبھی کبھی کلاسیکی گائیکی کے پروگرام سنا کرتے تھے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ہمیں لگتا کہ ابو ریڈیو سنتے سنتے سو چکے ہیں تو ہم میں سے کوئی اسے بند کر دیتا اور ابو فوراً جاگ جاتے اور کہتے ریڈیو کیوں بند کیا, میں ابھی فلاں پروگرام سن رہا تھا۔
“وہ پری کہاں سے لاؤں تیری دلہن جسے بناؤں۔۔۔!” ایک واحد ایسا گانا تھا جو ابو کو بہت پسند تھا۔ ٹیپ ریکارڈ وغیرہ اس وقت اتنے عام نہیں تھے لیکن جب بھی آل انڈیا ریڈیو سے یہ گانا نشر ہوتا ابو ہم سب کو متوجہ کرنے کے لئے آواز دیتے تاکہ ہم میں سے کوئی یہ گانا سننے سے محروم نا ہو جائے۔ اور ایسا موقعہ مہینوں میں ایک آدھ دفعہ ہی آتا کہ یہ گانا ریڈیو پہ اس وقت آتا جب ابو بھی گھر پر ہوں۔ ویسٹرن میوزک میں مجھے زیادہ یاد تو نہیں لیکن لولو کے گانے (Let’s pretend اور To sir with love) ابو کو بہت پسند تھے۔
ابو کی کوشش ہوتی کہ ہم سب کو اپنی دفتری سرگرمیوں سے آگاہ رکھیں۔ اکثر ہم میں سے کوئی نا کوئی ریلوے ہیڈکوارٹر میں ابو کے دفتر گیا ہوتا۔ کبھی کسی ویکسنیشن کے سلسلے میں کیرنز ریلوے ہسپتال جانا ہوتا تو پھر وہاں سے ابو کے دفتر کی سیر لازمی ہوتی تھی اور واپسی پہ ابو سے فرمائش کر کے فیروزسنز کا چکر ضرور لگتا اور ایک دو کتابیں ضرور خریدتے تھے۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں جب ہم کراچی یا کہیں اور جایا کرتے تو ریلوے سٹیشن سے کسی نہ کسی کتاب یا ناول کی خریداری بھی لازمی ہوتی تھی۔ گھر میں روزانہ ایک اخبار (پہلے مشرق، کچھ عرصہ امروز اور اس کے بعد نوائے وقت) اور مہینے میں اردو ڈائجسٹ، تعلیم و تربیت، حور اور زیب النساء باقاعدگی سے آیا کرتے تھے۔
25 نومبر 2000ء کو ہفتے کے دن میں صبح دس بجے کے قریب ہادی کو موٹر سائیکل پہ آگے بیٹھا کے چڑیا گھر دکھانے کے لیے گھر سے نکلا۔ خیال آیا کہ پہلے ابو سے مل لیتے ہیں کیونکہ چھٹی کی وجہ سے وہ ہادی سے ملنا چاہ رہے ہوں گے یا پھر وہ اس وجہ سے گھر آئیں اور ہادی کو نہ پا کر اداس نہ ہوں یہ سوچ کر میں نے موٹر سائیکل کا رخ دہلی روڈ کی طرف موڑ لیا۔
ابو ہمیں گلی کے نکڑ پہ ہی مل گۓ وہ ہمارے گھر ہی جا رہے تھے۔ کہنے لگے کہ میں ہسپتال جا رہا تھا تو سوچا پہلے ہادی سے مل لوں میں نے بتایا کہ ہم چڑیا گھر جا رہے تھے۔ سوچا پہلے آپ سے مل لیں۔ میں نے کہا میں آپ کو ہسپتال لے چلتا ہوں تو کہا نہیں تم لوگ جاؤ میں رکشا سے چلا جاؤں گا۔ چڑیا گھر سے واپسی پہ پتا چلا کہ ڈاکٹر نے ابو کو چیک اپ کے بعد داخل کر لیا ہے۔ شام کو ابو سے ملنے ہسپتال گیا۔ سب کچھ ہمیشہ کی طرح نارمل لگا۔ ابو نے کہا ٹیسٹ کی رپورٹ آنے تک ڈاکٹر نے روک لیا ہے۔ کوئی فکر کی بات نہیں ہے۔
اگلے دن اتوار کی وجہ سے گھر سے نکلنے میں تھوڑی دیر ہو گئی۔ سہ پہر کے وقت جب وہاں پہنچا تو دیکھا ابو کی طبیعت خراب ہے۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹر نے انہیں سی پی آر کے لیے پردہ کھینچ دیا۔ کچھ دیر بعد میں نے پردے میں سے دیکھا تو اس وقت ڈاکٹر زور زور سے ابو کا سینہ دبا رہا تھا۔ابو کی آنکھوں میں جھانکا تو وہ پتھرائی سی لگیں، مجھے ابو کی انکھوں میں زندگی کی رمق نظر نہیں آئی اور میں سمجھ گیا کہ ابو جا چکے ہیں۔

