ہم عوام کی بھی کیا قسمت ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی پر روبسور رہے تھے۔ چینی (شوگر) مافیا اور برائلر مرغی مافیا کے حوالے سے بات کررہے تھے کہ ایک خبر نے ہوش اڑا دیئے ہیں۔ دیر بعد ایک مربوط اور تحقیقی خبر پڑھنے کو ملی تو معلوم ہوا کہ ملک میں تو مافیا ہی مافیا ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بعض ابھی تک ڈھکے چھپے ہیں اور کچھ بے نقاب ہو گئے ہیں، ہمارے ہاں قبضہ مافیا اور ڈرگ مافیا تو عرصہ سے مصروف عمل تھے لیکن کسی نہ کسی واقع یا حادثے نے ان کو نہ صرف بے نقاب کیا بلکہ درد ناک حد تک داستانیں سامنے آئیں۔ یتیموں اور بیواؤں کی جائیداد تو قبضہ مافیا کے لئے حلال ہے، ایسی ملکیت پر اتنی آسانی سے قبضہ ہوتا ہے کہ مالک بے چارے دربدر ہو کر روتے رہ جاتے اور شنوائی نہیں ہوتی۔ اسی طرح ڈرگ مافیا کے حوالے سے افیون اور چرس ہی کا دھندا تھا، پھر جہاد افغانستان کی مہربانی سے اس میں بھی ترقی ہو گئی، ٹیکے اور چٹکیاں ایجاد ہوئیں، ہیروئن کے نشے نے گھرانے اجاڑے اور لوگوں کو خاک نشین کر دیا، نہ تو عبرت ہوئی اور نہ ہی اس مافیا کا قلع قمع ہو سکا بلکہ اب تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ نشے کی لعنت کی سینکڑوں اقسام دریافت ہوگئی ہیں اور ہماری نوجوان نسلوں تک یہ زہر سرایت کر گیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ہمارے ملک میں انسداد منشیات کے محکمے بھی موجود اور پولیس کو بھی اختیار حاصل ہے لیکن کراچی میں ایک نوجوان کے قتل کے بعد انکشافات کا جو سلسلہ شروع ہوا، وہ بے حد خوفناک ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ لعنت تعلیمی اداروں تک پھیلا دی گئی اور دوسری طرف ایک نقال نو امیر سوسائٹی نے اسے فیشن بنا لیا، باقاعدہ گروپ بنا کر نشہ اور بداخلاقی ہونے لگی اس سلسلے میں ڈیرے بن گئے۔ گروپ بنے اور شمالی علاقوں کی سیر اور خرافات جاری ہو گئیں،اب تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ انسداد کے محکمے بے بسی کی تصویر ہیں۔ تاحال تعلیمی اداروں میں طلباء کو خراب کرنے والے گروہوں کا خاتمہ نہیں ہوا تو نوزائیدہ رئیسوں کا مقابلہ کیسے ہوگا۔
یہ سب ایک اچھی تحقیقی خبر پڑھ کر یاد آیا کہ ایک مافیا ایسا بھی ہے جس نے تمام اداروں اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر عوام کو لوٹنا شروع کیا ہوا ہے۔ بتایا گیا کہ دنیا میں خوردنی تیل پیدا کرنے والے ممالک میں خوردنی تیل 25فیصد سستا ہوا اور پاکستان میں موجود قیمت میں مزید 4.5فیصد اضافہ کر دیا گیا اور یوں مجبور عوام سے 175روپے فی لیٹر کی مار دھاڑ شروع کر دی گئی اور جو اب بھی جاری ہے۔اس خبر کا ایک اور پہلو بھی ہے جس نے اور مضطرب کر دیا، بتایا گیا کہ حکومت نے نوٹس لے لیا اور تحقیقات شروع کر دی ہے، یوں احساس ہوا کہ ہمارے قومی ادارے اس وقت تک سوئے ہوتے ہیں، جب تک میڈیا کی طرف سے ان کو بیدار کرنے کی کوشش نہ کی جائے اور تب یہ ہربڑا کر جاگتے ہیں کہ ظالمو!کچی نیند سے جگا دیا اور ایک روائتی بیان جاری کرکے پھر سو جاتے ہیں اس کا اندازہ یوں لگا لیں کہ آج تک کسی بھی نوٹس کی تحقیقات منظر عام پر نہیں آئی اور نہ ہی مافیاز کو قابو کیا جا سکا ہے۔سب اپنی اپنی جگہ لگے ہوئے ہیں اور اب تو یہ احساس جڑ پکڑ گیا کہ ملک میں دیانت اور دیانت دار ڈھونڈھنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے کہ یہاں ایمان دار وہ ہے جس کا بس نہیں چلتا ورنہ یہ سب گناہ و ثواب اور جرم اور گناہ سے بے نیاز ہو چکے ہیں، صورت حال یہ ہے کہ ایف بی آر کے انکشاف کے مطابق ملک کے کھربوں روپے جعلی انوائسز اور دستاویزات کے ذریعے ہضم کرلئے گئے ہیں۔ اس پر بھی ہمارے چیمبرز والے پریشان ہیں اور ٹیکس نہ دینے والوں کے خلاف اگر کارروائی کے لئے کوئی سخت فیصلہ ہوتا ہے تو ہڑتال تک نوبت آ جاتی ہے۔
یہ تو بڑے لوگوں کی بڑی باتیں ہیں، ذرا ہمیں ہم جیسے لوگوں کے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے۔ پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھتے ہیں تو ٹرانسپورٹر سے لیکر رکشا والے تک کرائے بڑھا دیتے ہیں، دلچسپ امر یہ ہے کہ نوے فیصد رکشا ایل پی جی پر چل رہے ہیں، جب سواری کہے کہ کرایہ اتنا زیادہ تو جواب ملتا ہے کہ پٹرول مہنگا ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں یہ بتانا بے جا نہ ہوگا کہ جب کبھی پٹرولیم سستی ہو تو کرائے کم نہیں کئے جاتے نہ ہی مہنگائی پر فرق پڑتا ہے۔ ان دنوں تو برسات کی وجہ سے ہم صارفین مجبور ہیں کہ سبزی اور فروٹ کی قیمت زیادہ اداکریں، ویسے ہماری انتظامیہ کتنی باخبر ہے کہ عیدالاضحی کے بعد گوشت کی دکانیں کھلیں تو معمول کے مطابق گوشت کے نرخ 25سے 30فیصد تک بڑھا دیئے گئے۔ بکرے کا گوشت 2750روپے فی کلو تک بیچا جا رہا ہے، ایسے میں عام آدمی جس کے نام پر یہ سب کچھ ہو رہا ہے کہاں جائیں کہ اب تو موت بھی حل نہیں کہ جو افراد خودکشی کرتے ہیں وہ بھی جن کی بھوک سے مجبور ہو کر ایسا کرتے ہیں، وہ تو پہلے سے بھی زیادہ بے آسرا ہو جاتے ہیں۔
یہ سب احوال واقعی ہے، ابھی تو مجھے عام لوگوں اور ٹریفک پولیس کے درمیان جاری مقابلے اور ٹریفک کی بدحالی کے علاوہ شجرکاری کے حوالے سے بھی گزارشات کرنا ہیں، لیکن صبح صبح ایک محب کے فون کی وجہ سے یہ سب عرض کرنا پڑا اور اب ایک ملکی صورت حال کا ذکر کرکے بات ختم کرتا ہوں کہ ایک طرف یہ صورت حال ہے تو دوسری طرف عالمی حالات اور مسلمان ممالک کی بے خبری (دین سے) کے حوالے سے اپنے ملک کے بارے میں غور کرنا ہے۔ تجزیہ کار اور تجربہ کار، ماہرین کچھ بھی کہیں حکومت جو بھی دعوے کرے۔ میری نظر میں تو فرامین رسولؐ اور زمانہ حال ہے۔ ہم پاکستان والے (مراد۔ مقتدر قوتوں +حکومت) تنی ہوئی رسی ہی نہیں بلکہ باریک تار پر چل رہے ہیں، ہمارے وزیرخارجہ / نائب وزیراعظم امریکہ میں نئے تعلقات استوار کرنے اور پینگوں کو بڑھانے میں مصروف ہیں تو ہمارے سپہ سالار فیلڈ مارشل عاصم منیر چین میں تعلقات کا اعادہ کررہے ہیں، قارئین! دکھ ہے کہ اب نوبت اس مقام پر آ گئی کہ امریکی صدر نے حماس کی طرف سے جائز اعتراض کا بُرا منایا اور اب کھل کر نسل کشی سے بھی بڑھ کر غزہ کے مکینوں کے مکمل خاتمے کا اعلان کر دیا، ہم تو پہلے بھی عرض کر رہے تھے کہ ٹرمپ سے امید وفا غلط ہے جو بھی کرنا ہے اسلامی ممالک کو مل کر کرنا ہوگا۔ میرا ایک سوال ہے، کیا اس گھٹ گھٹ کر مر جانے سے یہ بہتر نہیں کہ جہاد کے جذبے کے ساتھ مرمٹیں اور شہادتیں قبول کرلیں، پاکستان، ایران اور ترکیہ ایسے ملک ہیں جن کی فوجی صلاحیت بھی بہتر ہے اگر او آئی سی جو اسلامی ممالک کی تنظیم ہے، مل کر شہادت کا فیصلہ کرلے تو کیا ہوگا۔ ایک ایسی لڑائی چھڑ جائے گی جو تباہی ہی کا باعث ہو اور یقینا یہ دنیا قیامت کا منظر دیکھ لے گی کہ محور سے ہٹ گئی تو روئی کے گالوں کی طرح بکھر جائے گی۔
میرا ایک سوال اپنے علماء کرام سے بھی ہے کہ وہ سب گناہ و ثواب کے ہی کے ذکر خیر تک خود کو محدود رکھیں گے یا پھر قیامت کے حوالے سے دی گئی آگاہی سے بھی با خبر کریں گے کہ رسولؐ اکرم نے پندرہ سو سال پہلے جو بتا دیا تھا کہ مسلمان جیسا کریں گے ویسا بھریں گے اور ایمان سے خالی ہوں گے تو خوار ہوں گے دجالی قوتیں ان پر حاوی ہوں گی۔

