اسرائیلی وزراایتامار بن گویر اور بیتزالیل سموترچ کیخلاف پابندیاں اور دیگر اقدامات کا اعلان کردیا
اونٹاریو(نمائندہ خصوصی) آسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ، ناروے اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے ایتامار بن گویر اور بیتزالیل سموترچ کے خلاف پابندیاں اور دیگر اقدامات کا اعلان کیا ہے، جو مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد کو ہوا دینے کے ذمہ دار ہیں۔
مغربی کنارے میں آبادکاروں کا تشدد، انتہا پسندانہ بیانیے سے پیدا ہوتا ہے جو فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے، تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور دو ریاستی حل کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ ان واقعات کے نتیجے میں کئی فلسطینی شہری جاں بحق ہو چکے ہیں اور مکمل بستیاں زبردستی خالی کرائی گئی ہیں۔
ہم دو ریاستی حل کیلئےپُرعزم ہیں، جو اسرائیلی اور فلسطینی عوام دونوں کیلئےامن سلامتی اور وقار کا راستہ ہے۔ مگر یہ مقصد انتہا پسند آبادکاروں کے تشدد اور غیر قانونی بستیوں کی توسیع کے باعث شدید خطرے سے دوچار ہے۔
ایتامار بن گویر اور بیتزالیل سموترچ نے ایسے بیانات دیے ہیں جو انتہا پسندانہ تشدد اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ فلسطینیوں کی زبردستی بے دخلی اور نئی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کی حمایت کرنے والے بیانات ناقابل قبول اور خطرناک ہیں۔ ہم نے اس معاملے پر اسرائیلی حکومت سے مسلسل بات چیت کی ہے، مگر شدت پسند عناصر کو آج بھی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اب یہ قدم اٹھایا ہے تاکہ ان افراد کو جواب دہ بنایا جا سکے۔
ہم ان اقدامات کے باوجود اسرائیل کی سلامتی کیلئےاپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں اور 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے کیے گئے دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ آج کے اقدامات ان افراد کے خلاف ہیں جو ہماری نظر میں خود اسرائیل کی سلامتی اور عالمی وقار کیلئے نقصان دہ ہیں۔ ہم اسرائیلی عوام سے اپنی دوستی اور مشترکہ اقدار پر مبنی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔
اگرچہ آج کے اقدامات مغربی کنارے پر مرکوز ہیں، لیکن ہم اس معاملے کو غزہ کی موجودہ تباہ کن صورتحال سے الگ نہیں دیکھ سکتے۔ ہمیں وہاں شہریوں کی شدید تکالیف اور بنیادی امداد کی عدم دستیابی پر گہری تشویش ہے۔ فلسطینیوں کی کسی بھی غیر قانونی منتقلی، مغربی کنارے یا غزہ میں، یا غزہ کی حدود میں کسی قسم کی کمی کو ہم ناقابل قبول سمجھتے ہیں۔
ہم اسرائیلی حکومت اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے تاکہ فوری جنگ بندی ہو،باقی ماندہ یرغمالیوں کو رہا کیا جائے،انسانی امداد، بشمول خوراک، کی بلا رکاوٹ فراہمی ممکن ہواور ایک ایسا غزہ تعمیر کیا جائے جو حماس کے کنٹرول سے آزاد ہو اور جہاں دو ریاستی حل کی طرف ایک واضح سیاسی راستہ موجود ہو۔

