سڈنی: کینیڈا، امریکا اور دیگر ممالک بعد آسٹریلیا نے بھی بھارت کے مزید 4 جاسوسوں کو اپنے ملک سے نکال دیا ہے جن میں سے کچھ سفارت کار کے طور پر کام کر رہے تھے۔
چار جاسوسوں کی بے دخلی کا انکشاف آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے اپنی تحقیقات میں کیا۔ آسٹریلیا میں بھارتی نیٹ ورک بے نقاب ہونے کی اولین خبریں اپریل میں آئی تھیں جب واشنگٹن پوسٹ نے بتایا تھا کہ دو بھارتی جاسوس نکال دیئے گئے ہیں۔
کینیڈ اور امریکہ میں بھی بھارت کی جاسوسی سرگرمیاں بے نقاب ہوچکی ہیں۔ آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے تحقیقات کے نتیجے میں بتایا ہے کہ بے دخل کیے گئے جاسوس آسٹریلوی سیاست دانوں اور دفاعی ٹیکنالوجیز سے وابستہ افراد اور اداروں کو نشانہ بنا رہے تھے۔
تاہم ان جاسوسوں کو حکام نے 2020 میں ملک سے بہت خاموشی کے ساتھ نکالا ہے تاکہ مودی سرکار کے لیے سُبکی اور شرمندگی کا سامان نہ ہو۔ لیکن عوامی سطح پر جاسوسی کی مذمت نہ کیے جانے پر آسٹریلیا کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔
رپورٹ میں روشنی ڈالی گئی ہے کہ جب سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی 2014 میں برسراقتدار آئے ہیں۔ انہوں نے دوسرے ممالک میں بھارت کی انٹیلی جنس کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہندوستانی تارکین وطن کی بھی نگرانی کی جاتی ہے اور بھارت کو علیحدگی پسند گروپوں سے بچانے کے بہانے ان ہندوستانی تارکین وطن کو نشانہ بنایا جاتا ہے، جنہیں بھارت نے ‘دہشت گرد’ کا نام دیا ہے۔
گرینز پارٹی کے سینیٹر شوبرج نے مطالبہ کیا ہے کہ آسٹریلیا سرعام بھارت کی مذمت کرے۔ آسٹریلوی حکام نے بتایا ہے کہ بھارتی جاسوس نیٹ ورک ایئر پورٹ سیکیورٹی پروٹوکولز کو بھی نشانہ بنارہا تھا۔
یاد رہے اپریل میں بھی دو بھارتی جاسوس آسٹریلیا سے نکالے گئے تھے۔ جاسوسوں کی تازہ بے دخلی کو آسٹریلیا میں بھی مودی سرکار کے لیے زبردست دھچکا قرار دیا جارہا ہے۔

