آنا اور جانا ہے

چھوٹے بھائیوں کی طرح عزیز ،پیارے دوست عامر قریشی کی سالگرہ ٹھیک اسی دن آتی ہے جس دن کچھ سال پہلے انکی والدہ محترمہ کا انتقال ہوا ،عامر قریشی کینیڈا میں سکین کے نام سے اکاونٹس کی ایک اچھی کمپنی کے مالک ہیں جس کی کئی برانچز ہیں،وہ کینیڈا میں اپنے تمام پیارے دوستوں کی سالگرہ اور دوسری خوشیاں منانے کے لئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے مگر وہ اپنی سالگرہ کا کیک کاٹنے دیتے ہیں نہ کوئی خوشی منانے دیتے ہیں ،یہ انکی اپنی والدہ کے ساتھ محبت اور عقیدت کی ایک علامت ہے ،اس لئے تمام دوست ان کی اسی خواہش میں خوش رہتے ہیں مگر سالگرہ والے دن سے ہٹ کر تمام دوست اس خوشی کو کسی نہ کسی صورت منا لیتے ہیں،پیپلز پارٹی کینیڈا کے صدرچودھری جاوید گجر نے دوستوں کو اکٹھا کیا اور زبردست ضیافت کا اہتمام کیا ،اسی طریق سے جنگ نیوز کینیڈا کے ایڈیٹراشرف لودھی،سکائی ٹیک موٹرز کے مالک رانا اشرف،معروف ڈینٹسٹ ڈاکٹرناصر وڑائچ،آٹو ڈیٹیلنگ کے مالک رانا اورنگزیب امجد ، مشہود بھائی اور کئی اور نے مل بیٹھنے کے مواقع پیدا کیے۔

میں سوچ رہا تھا کہ ہمارے کتنے پیارے آئے اور کتنے چلے گئے،انسان دنیا میں آتا ہے تو اپنے ساتھ خوشیوں کے نئے رنگ لے کر آتا ہے، گھر میں رونق ہوتی ہے، چہرے کھل اٹھتے ہیں، امیدیں جاگتی ہیں،مگر اسی زندگی میں کبھی ایسے لمحے بھی آ جاتے ہیں جب کوئی بہت اپنا، بہت پیارا، خاموشی سے رخصت ہو جاتا ہے، اچانک ایسا لگتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہو، جیسے سانس کچھ بھاری ہو گئی ہو، جیسے دنیا کی رونقوں میں ایک رنگ کم ہو گیا ہو، لیکن حقیقت یہی ہے کہ آنا بھی مقدر ہے اور جانا بھی،کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا،،جیون کا مطلب تو آنا اور جانا ہے،، زندگی رکنے کا نہیں چلنے کا نام ہے،بسا اوقات ہم کسی کے جانے پر ٹوٹ جاتے ہیں، لگتا ہے جیسے زندگی کا مفہوم ہی بدل گیا ہو۔ مگر پھر احساس ہوتا ہے کہ جانے والے بھی یہی چاہتے ہوں گے کہ ہم جئیں، آگے بڑھیں، مسکرائیں، اور ان کی چھوڑی ہوئی یادوں کو اپنی زندگی کی روشنی بنائیں۔

موسموں سمیت ہر چیز کا آنا جانا لگا رہتا ہے ،اب یہاں نومبر کے وسط میں ہی ہونے والی ہلکی برف باری نے کینیڈا میں میرے پسندیدہ موسم کے رنگ کم کر دیے ہیں، درختوں پر سجے سرخ، سنہری اور نارنجی پتے اب دھیرے دھیرے زمیں بوس ہو رہے ہیں، وہ رنگین چادر جو چند ہفتے پہلے ہر گلی، ہر سڑک ،جھیل کناروںاور ہر جنگل پر بچھی ہوئی تھی ، اب آہستگی سے سمٹ رہی ہے، ان دنوں جب آپ کسی پارک، کسی جھیل کے کنارے یا کسی مصروف سڑک پر چلتے ہیں تو قدموں کے نیچے پتوں کی چرچراہٹ ایک عجیب سی موسیقیت پیدا کرتی ہے، موسم کا رنگ اگرچہ ڈھل رہا ہے مگر گرنے والے ہر پتے میں ایک مکمل کہانی پوشیدہ ہے، کہیں کوئی پتا شعلۂ سرخ کی طرح جھلملاتا ہے، کہیں کوئی سنہری پتا خزانے کے سکّے کی مانند چمکتا ہے، اور کہیں مٹیالا رنگ اس موسم کے تھکن بھرے لمحات کی عکاسی کرتا ہے۔

فال کا موسم صرف ایک فطری تبدیلی نہیں بلکہ ایک فکری و جذباتی تجربہ بھی ہے، یہ موسم انسان کو وقت کی بے رحمی، گردشِ زمانہ کی تیزی اور زندگی کے بدلتے رنگ یاد دلاتا ہے، جیسے پتے اپنے رنگ بدلتے ہیں ویسے ہی انسان کے تجربات، تعلقات اور جذبات بھی بدلتے رہتے ہیں، خزاں ہمیں سکھاتی ہے کہ گر جانا ہمیشہ اختتام نہیں ہوتا،کبھی کبھی گرنے کے بعد ہی نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے، درخت یہی سبق دیتے ہیں کہ پتے جب بھی گرتے ہیں، بہار کے موسم میں وہی شاخیں دوبارہ زندگی سے بھرپور ہو جاتی ہیں،فال کا آخری مرحلہ دراصل ایک خاموش الوداع ہے ایسا الوداع جس میں شور نہیں، صرف رنگوں کی رخصت اور ہوا کے نرم جھونکوں کی سرگوشیاں ہیں، قدرت اپنے دروازے بند نہیں کرتی، بس ایک موسم کے بعد دوسرا موسم کھولتی ہے، خزاں کے بعد سردی کی سختیاں آئیں گی، پھر بہار اور گرمیوں کی چمک، اور یہ آنا جانا لگا رہے گا ۔ اس گردشِ موسم میں ایک فلسفہ پوشیدہ ہے، زندگی مسلسل حرکت، مسلسل تبدیلی اور مسلسل نئے آغاز کا نام ہے،کینیڈا کے لوگ اس موسم کے اختتامی مناظر کو بڑی محبت سے دیکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ آج یہ سرخ و سنہری پتے ان کے قدموں کے نیچے بکھرے ہیں، لیکن چند ماہ بعد یہی زمین برف کے سفید غلاف میں چھپ جائے گی، یہی شعور انہیں ہر موسم کا احترام سکھاتا ہے،یوں فال کا موسم رخصت ہوتے ہوتے اپنے پیچھے ایک سوال چھوڑ جاتا ہے، کیا ہم بھی زندگی کے بدلتے موسموں کو اسی وقار، اسی خاموشی اور اسی خوبصورتی سے قبول کرتے ہیں؟ شاید فطرت یہی سبق دینا چاہتی ہے کہ ہر تبدیلی ایک نئے امکان کا دروازہ کھولتی ہے۔

کینیڈا کی سردیوں کا آغاز بظاہر ہلکا ہوتا ہے، چند منٹوں کی برف باری، درجۂ حرارت کا معمولی فرق اور پھر دھوپ ،فطرت کے حقیقی معمار پرندے، جانور، درخت، اور جھیلیں ہمارے مقابلے میں کہیں زیادہ حساس معلوم ہوتے ہیں، وہ آنے والی شدت کو پہلے سے بھانپ لیتے ہیں اور خاموشی سے اپنی تیاری شروع کر دیتے ہیں،جب کسی جھیل کنارے پہلی بار پتلا سا برف کا پردہ جمتا نظر آئے تو سمجھ لیجیے کہ بہت سے پرندے اب یہاں اپنی گزربسر کرنے کے قابل نہیں رہے، پانی کے منجمد ہونے سے خوراک کم ہو جاتی ہے، کیڑے مکوڑے سردی کے باعث زمین میں دبک جاتے ہیں، پودے اپنی نشوونما روک دیتے ہیں۔

اور پھر پرندوں کی ہجرت، دنیا کے بڑے قدرتی معجزات میں سے ایک ہے، کینیڈا کی سخت سردی ان کے لیے رہنا تقریباً نا ممکن بنا دیتی ہے، اس لیے وہ ہزاروں کلومیٹر کا سفر اختیار کرتے ہیں، کچھ پرندے امریکا کے گرم شمالی علاقوں میں پہنچ جاتے ہیں، لیکن کئی نسلیں میکسیکو، کیریبین، جنوبی امریکا، مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور حتیٰ کہ افریقہ تک جا پہنچتی ہیں،یہ سفر کوئی آسان سفر نہیں، چھوٹے حجم کے باوجود یہ پرندے ایسے راستے اختیار کرتے ہیں جن پر انسانی جہازوں کو بھی محتاط رہنا پڑتا ہے، مگر فطرت نے انہیں ایسا نظام بخشا ہے کہ وہ بغیر نقشے، بغیر سمت نما اور بغیر کسی بیرونی سہارے کے راستہ تلاش کرنے میں کامیاب رہتے ہیں ۔

پرندے جب قطار بنا کر اڑتے ہیں تو وہ ہم انسانوں کو سبق دیتے ہیں کہ حالات کے مطابق راستہ بدل لینا عقل مندی ہے،جس ماحول میں بقا ممکن نہ ہو، وہاں سے بہتر جگہ کی تلاش کوئی کمزوری نہیں، بلکہ حکمت ہے،اجتماعی سفر ہمیشہ بہتر ہوتا ہے،ہر پرندہ جانتا ہے کہ تنہا سفر اس کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، اس لیے گروہ کی شکل میں سفر اختیار کرتا ہے،پرندوں کی روانگی کا لمحہ اداس مگر خوبصورت ہوتا ہے اور جب آخری جھنڈ بھی آسمان کی وسعت میں گم ہوتا ہے تو فضا میں ایک اداسی محسوس ہوتی ہے جو اس بات کی غمازی ہے کہ فطرت کا ایک حصہ ہم سے کچھ ماہ کے لیے رخصت ہوا ہے، لیکن اسی اداسی کے پیچھے ایک امید بھی چھپی ہوتی ہے کہ بہار کا پہلا سورج جلد ہی چمکے گا، پرندے واپس آئیں گے اور فضا پھر سے زندگی کے رنگوں سے بھر جائے گی۔