آپریشن غضب حق ،دہشتگردی کے خاتمہ کی جنگ

ریاستیں جب اپنی خودمختاری، شہریوں کے تحفظ اور قومی وقار کے سوال سے دوچار ہوتی ہیں تو فیصلے سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہتے، وہ عملی اقدامات کی صورت اختیار کرتے ہیں۔ آج پاکستان اسی نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ آپریشن «غضبِ حق» کو صرف عسکری کارروائی کے طور پر دیکھنا حقیقت کو محدود کرنا ہوگا؛ یہ اس ریاستی عزم کا اظہار ہے کہ دہشت گردی کو نہ تو جغرافیائی مجبوری سمجھا جائے گا اور نہ ہی سیاسی مصلحت کے نام پر برداشت کیا جائے گا۔

جنگ کے آغاز کے اگلے روز افغانستان کی عبوری انتظامیہ کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش سامنے آئی، مگر بنیادی سوال وہی ہے جو ماضی میں بھی تشنہ جواب رہا: پہلے ہونے والے مذاکرات کیوں نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے؟ مسئلہ اعتماد کا تھا۔ بارہا زبانی یقین دہانیاں کرائی گئیں مگر تحریری اور قابلِ تصدیق ضمانت دینے سے انکار کیا گیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ بین الاقوامی تعلقات میں زبانی اعلانات نہیں بلکہ دستاویزی تعہد امن کی بنیاد بنتے ہیں۔

پاکستان نے ہمیشہ مستحکم اور پرامن افغانستان کی خواہش کی کیونکہ خطے کا امن باہم مربوط ہے، لیکن اس خیرسگالی کے جواب میں پاکستان نے دہائیوں پر محیط دہشت گردی، ہزاروں جانوں کے ضیاع اور بھاری معاشی نقصانات کا سامنا کیا۔ اب جبکہ جنگ شروع ہو چکی ہے تو ریاستی پالیسی ساز اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ زیرو ٹالرنس کے بغیر داخلی سلامتی ممکن نہیں۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، 100 سے زائد چوکیاں تباہ ہوئیں 300 کارندے ہلاک اور500کے قریب زخمی ہوئے جبکہ اہم عسکری تنصیبات کو نقصان پہنچایا گیا۔ یہ اعداد و شمار کارروائی کی وسعت اور سنجیدگی کو ظاہر کرتے ہیں، تاہم یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ عسکری کامیابی کو سفارتی حکمتِ عملی سے جوڑے بغیر پائیدار نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

افغان عبوری حکومت کی حیثیت بھی ایک اہم پہلو ہے۔ عوامی مینڈیٹ سے محروم انتظامیہ کی ضمانتوں کی سیاسی و اخلاقی حیثیت محدود رہتی ہے۔ پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب وہاں ایسی حکومت قائم ہو جو نہ صرف عوامی اعتماد رکھتی ہو بلکہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کو قبول کرے اور دہشت گرد گروہوں سے واضح اور عملی لاتعلقی اختیار کرے۔

علاقائی تناظر اس بحران کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ بھارت کی پراکسی سرگرمیوں اور اس کی قیادت، بالخصوص نریندر مودی کے دور میں اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی روابط نے خطے کے طاقت کے توازن پر اثر ڈالا ہے۔ یہ تزویراتی قربت بالواسطہ طور پر پاکستان کے لیے چیلنج پیدا کرتی ہے اور سیکیورٹی ماحول کو مزید حساس بناتی ہے۔ اسی طرح اقوام متحدہ اور دیگر عالمی قوتوں کی تشویش اسی وقت بامعنی ہوگی جب وہ عملی دباؤ ڈال کر دہشت گردی کی سرپرستی روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی پالیسی کی تائید ایک سفارتی اشارہ ضرور ہے، مگر اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری جنگ سے پہلے کیوں متحرک نہ ہو سکی۔

یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ جنگ بذاتِ خود کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ تاہم جب جنگ مسلط کر دی جائے تو پسپائی مزید عدم استحکام کو جنم دیتی ہے۔ پاکستان کو عسکری دباؤ کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر بھی متحرک رہنا ہوگا تاکہ تحریری اور قابلِ عمل ضمانتیں حاصل کی جا سکیں کہ افغان سرزمین بلوچ عسکریت پسندوں اور خارجی دہشت گردوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ یہ ضمانتیں صرف دوطرفہ بیانات نہیں بلکہ بین الاقوامی نگرانی کے تحت قابلِ نفاذ معاہدوں کی صورت میں ہونی چاہئیں۔

داخلی محاذ پر قومی اتحاد سب سے بڑی طاقت ہے۔ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حصہ ہیں، مگر قومی سلامتی کے معاملے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا، شفاف حکمتِ عملی اپنانا اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی؛ یہ تعلیمی اداروں، معاشی پالیسیوں اور سماجی بیانیے میں بھی لڑی جاتی ہے۔ اگر اندرونی استحکام کمزور ہو تو بیرونی دباؤ کا مقابلہ مشکل ہو جاتا ہے۔

مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہونا چاہیے، مگر اس کی شرائط غیر مبہم ہونی چاہئیں: دہشت گردی سے عملی لاتعلقی، تحریری ضمانتیں اور ایک ذمہ دار حکومتی ڈھانچہ۔ آپریشن «غضبِ حق» اسی وقت اپنے مقاصد حاصل کر سکے گا جب اسے جامع قومی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا جائے جس میں عسکری قوت، سفارتی تدبر اور داخلی یکجہتی یکجا ہوں۔ یہ لمحہ سنجیدہ، طویل المدتی فیصلوں کا ہے ۔ پاکستان کے لیے یہ صرف ایک آپریشن نہیں بلکہ اپنی بقا، خودمختاری اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کا امتحان ہے۔