لندن (اسپیشل رپورٹر)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق اسٹار آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی نے لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں پاکستانی طلبہ سے ملاقات کر کے بہت خوشی ہوئی، وہ واقعی پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔
شاہد آفریدی نے کہا کہ حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ وہ ذہین طلبہ کے لیے بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرے اور اسکالرشپ پروگرام شروع کرے تاکہ مزید بچے آکسفورڈ جیسے اداروں میں تعلیم حاصل کر کے ملک کی خدمت کر سکیں۔انہوں نے بتایا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں محترمہ بے نظیر بھٹو، عمران خان (بانی پی ٹی آئی) اور بلاول بھٹو زرداری کی تصاویر دیکھ کر فخر محسوس ہوا اور یہ لمحہ ان کے لیے باعثِ مسرت تھا۔
ایک سوال پر شاہد آفریدی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ “میں نے تو کسی کا نام نہیں لیا تھا، لوگوں نے خود ہی پہچان لیا”، اس موقع پر صحافیوں نے قہقہے بھی لگائے۔
سابق کپتان نے کہا کہ “فیلڈ مارشل کو نیا عہدہ مل گیا ہے، مگر بڑی کرسی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں”۔انہوں نے مزید کہا کہ وانا، اسلام آباد اور دہلی میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، ایسی صورتحال میں سب کو تحمل، اتحاد اور تدبر سے کام لینا چاہیے۔
شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ “جو باتیں بیٹھ کر بات چیت سے حل ہو سکتی ہیں، وہ دوری یا محاذ آرائی سے حل نہیں ہوتیں”۔انہوں نے سوشل میڈیا کلچر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ “سوشل میڈیا کی دنیا الگ ہے، حقیقت میں کبھی کسی نے مجھ سے بدتمیزی نہیں کی”۔
شاہد آفریدی نے انکشاف کیا کہ “2019-20 میں میرا مائنڈ تبدیل ہوا، ورنہ 2023 کا الیکشن ایک پارٹی کی طرف سے لڑنا تھا، بات بھی ہو گئی تھی”۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اب ان کی توجہ صرف سماجی خدمت اور نوجوانوں کی رہنمائی پر ہے۔
شاہد آفریدی کی یہ گفتگو نہ صرف اُن کے بدلتے ہوئے سیاسی اور سماجی رجحانات کی عکاس ہے بلکہ اُن کی متوازن سوچ اور قومی ہم آہنگی کے پیغام کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ آکسفورڈ میں پاکستانی طلبہ سے ملاقات نے اُنہیں پاکستان کے بہتر مستقبل کی امید دلائی ہے، اور اُن کا یہ کہنا کہ “بات چیت ہی مسائل کا حل ہے” ان کی بالغ نظری اور قومی اتحاد کے جذبے کی گواہی دیتا ہے۔

