آہ،میاں منظور وٹو

پنجاب کی سیاست کا ایک اہم ترین باب بند ہوگیا،میاں منظور وٹو اس فانی دنیا سے رخصت ہو کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے رب کی بارگاہ میں پیش ہو گئے ہیں مگر وہ ایک محب وطن سیاستدان کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے ،انہوں نے یو نین کونسل کی بنیادی سطح سے اپنی سیاست کا آغاذ کیا اور پھر اپنی محنت اور جدوجہد سے وفاقی سظح تک پہنچے،انکی زندگی ایک ایسے سیاستدان کی زندگی تھی جس میں جماعتوں ، اسمبلیوں کی جوڑ توڑ،کشمکش اور محاذ آرائی کے ساتھ ساتھ مفاہمت اور وضع داری بھی نمایاں رہی، اس میں کامیابیاں بھی تھیں اور ناکامیاں بھی ،وہ جب نوے کی دہائی کی ابتدا ء میں پہلی دفعہ وزیر اعلیٰ بنے تو اس وقت اقتدار کی کشمکش، طاقت کی سیاست، عدالتی فیصلے، وفاداریوں کی تبدیلی پوری شدت سے نظر آئی،انکی زندگی کا جائیزہ لیا جائے تو وہ ساٹھ کی دہائی سے سیاست میں ان ہوئے اور پھر تا دم حیات سیاست ہی ان کا اوڑنا بچھونا ر ہی، تحریک استقلال،،مسلم لیگ،مسلم لیگ (جونیجو)،پیپلز پارٹی،اور آزاد حیثیت میں سیاست کے ساتھ ان کا یہ سیاسی سفر تمام ہوا۔

وہ چیئرمین ضلع کونسل،سپیکر پنجاب اسمبلی،وزیر اعلیٰ پنجاب اور وفاقی وزیر رہے،ستر کی دہائی کے اختتام سے وہ پنجاب کی سیاست میں زیادہ نمایاں ہونا شروع ہوئے اور اس کے بعد پچاسی کی پنجاب اسمبلی میں انہیں سپیکر کی حیثیت سے منتخب کر لیا گیا اور ان کی سپیکر شپ کا یہ سفر تین اسمبلیوں تک جاری رہا ،یہاں تک ان کا سفر مسلم لیگ میں میاں نواز شریف کی قیادت میں رہا ،مگر جب مسلم لیگ اور میاں نواز شریف نے غلام حیدر وائیں کو پنجاب میں وزیر اعلیٰ بنایا تو پارٹی کے اندر گروپ بندی شروع ہو گئی اور ارکان اسمبلی نے وزیر اعلیٰ وائیں کی پالیسیوں اور قیادت سے اختلاف کرنا شروع کر دیا ،غلام حیدر وائیں ایک سیاسی کارکن،سادہ اور شریف النفس سیاستدان تھے جو عام آدمی کی زندگی گزارتے تھے مگر ارکان اسمبلی کی توقعات پر پورا نہ اتر سکے ،اس وقت کے سپیکر میاں منظور وٹو کی قیادت میں مسلم لیگ کے اکثر ارکان اسمبلی نے وزیر اعلیٰ وائیں کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کردی جس کے نتیجے میں میاں منظور وٹو وزیر اعلیٰ بن گئے ۔یہ میاں منظور وٹو کی سیاسی زندگی کا ایک اہم موڑ تھا جس کے بعد وہ وفاقی سطح پر جانے پہچانے گئے اور وہ پھر تین دفعہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے،ان کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ انکی جماعت جونیجو لیگ نے ترانوے کے انتخابات میں پنجاب میں صرف اٹھارہ سیٹیں حاصل کیں مگر پیپلز پارٹی کے ساتھ ایک معائدے کی وجہ سے وہ ان اٹھارہ سیٹوں کے ساتھ وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہو گئے،بعدازاں انہوں نے منتخب ہونے والے اٹھارہ آزاد ارکان پنجاب اسمبلی کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا ،جس کے بعد جونیجو لیگ کے ارکان اسمبلی کی تعداد چھتیس ہو گئی ، محترمہ بے نظیر بھٹو وزیر اعظم بن چکی تھیں ،انکی قیادت میں بننے والی اس حکومت میں جونیجو لیگ کے سربراہ حامد ناصرچٹھہ بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ معائدے کی وجہ سے مرکز میں ڈپٹی پرائم منسٹر کا سٹیٹس انجوائے کر رہے تھے،بعدازاں وٹو صاحب کی جماعت نے ہی انہیں سٹیپ ڈاون ہونے پر مجبور کیا مگر وہ ڈٹے رہے ،یوں عدم اعتماد کے بعد وزارت اعلیٰ ان کے ہاتھ سے نکل گئی اور انکی ہی جماعت کے سردار عارف نکئی وزیر اعلیٰ منتخب کر لئے گئے ۔

مجھے یاد آتا ہے وہ وقت سیاستدانوں کی باہمی لڑائیوں اور اسٹیبلشمنٹ کی مکمل مداخلت کا دور تھا،اس وقت نظریہ کم اور طاقت زیادہ بولتی تھی، اصول اکثر حالات کے تابع ہوتے تھے، اور سیاست شطرنج کے اس کھیل کی مانند تھی جس میں ایک غلط چال پورا کھیل بدل دیتی تھی،وٹو صاحب جذباتی سیاست دان نہیں تھے،ان کی اصل قوت خاموشی، انتظار اور درست وقت پر درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت تھی، یہی وصف انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا رہا، ان کی سیاسی زندگی کا آغاز ایسے وقت میں ہوا جب پنجاب کی سیاست میں طاقت کے کئی مراکز موجود تھے،ایک طرف مرکز کی سیاست تھی، دوسری طرف صوبائی دھڑے اور تیسری طرف اسٹیبلشمنٹ کا اثر و رسوخ، میاں منظور وٹو نے ان سب کے درمیان خود کو منوانے کی کوشش کی جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب بھی رہے۔وزیراعلیٰ پنجاب کے طور پر ان کا دور مختصر اور تین حصوں میں تھا ، وہ ایک ایسے وقت میں اس منصب پر فائز ہوئے جب صوبہ شدید سیاسی عدم استحکام کا شکار تھا، اسمبلیاں ٹوٹ رہی تھیں، حکومتیں گرائی جا رہی تھیں، اور سیاست عدالتوں کے دروازوں تک جا پہنچی تھی۔ ایسے ماحول میں اقتدار سنبھالنا انتظامی صلاحیت سے زیادہ سیاسی اعصاب کا امتحان ہوتا ہےاور میاں منظور وٹو اس امتحان میں پورے اترتے رہے۔ان کے ناقدین ہمیشہ یہ سوال اٹھاتے رہے کہ میاں منظور وٹو طاقت کے ساتھ کھڑے ہوتے رہے ، مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان ، خصوصاً پنجاب کی سیاست میں کس طرح کے حالات بنا دیے جاتے ہیں اصل فیصلے کون کرتا ہے یہ ایک بڑا امتحان ہوتا ہے ،جوڑ توڑ ، آزاد اور دوسرے دھڑوں کو کس طرح اپنے ساتھ رکھنا ہے وہ اس حقیقت کو بخوبی سمجھتے تھے۔وہ سیاست کو نعروں کے بجائے طاقت کے توازن سے دیکھتے تھے، وہ جانتے تھے کہ اقتدار صرف اکثریت سے نہیں بلکہ حالات کو پڑھنے کی صلاحیت سے حاصل ہوتا ہے، شاید یہی وجہ تھی کہ وہ بارہا سیاسی منظرنامے سے پس منظر میں چلے گئے، مگر کبھی مکمل طور پر سیاست سے باہر نہ ہوئے، وہ حالات کو پڑھتے اور جانتے کہ کب خاموش ہونا ہے اور کب دوبار ہ ابھرنا ہے۔ان کی شخصیت کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ وہ اقتدار میں ہوں یا اپوزیشن میں، خود کو نمایاں رکھنے کا فن جانتے تھے، وہ غیر ضروری تصادم سے گریز کرتے، مگر جہاں ضرورت محسوس کرتے وہاں پوری قوت کے ساتھ سامنے آتے، وہ یہ بھی جانتے تھے کہ سیاست میں ہر لڑائی لڑنا دانشمندی نہیں،اور ہر خاموشی کمزوری نہیں ہوتی۔

میاں منظور وٹو کا یہ بھی خاصہ تھا کہ وہ ہر ایک کی غمی اور خوشی میں شریک ہوتے ،وہ ایک روایت پسند سوشل انسان تھے ، اپنی فیملی کو بھی مکمل وقت دیتے تھے ، نجی زندگی میں میاں منظور وٹو نسبتاً خاموش، شائستہ اور روایت پسند انسان تھے۔ قریبی حلقے انہیں کم گو مگر گہری نظر رکھنے والا شخص قرار دیتے ہیں، وہ محفلوں میں زیادہ بولنے کے بجائے سننے کو ترجیح دیتے تھے، شاید یہی عادت انہیں سیاست میں فائدہ دیتی رہی وہ دوسروں کی بات غور سے سنتے اور فیصلہ بعد میں کرتے،میاں منظور وٹوپنجاب کی سیاست میں ایک وزن رکھتے تھے، آج وقت کے ساتھ سیاست کے انداز بدل گئے ہیں، میاں منظور وٹو جیسے سیاست دان اس دور سے تعلق رکھتے تھے جہاں رکھ رکھاو اور ایک دوسرے کا احترام کیا جاتا تھا ،ان کی وفات ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ سیاست میں کوئی کردار مستقل نہیں ہوتا،چاہے کوئی انہیں پسند کرے یا ناپسند، ان سے اختلاف کرے یا اتفاق، مگر انہیں فراموش کرنا آسان نہیں ہوگا، سیاست میں ان کا کردار تاریخ کا ایک حصہ بن چکا ہے جس کی آنے والے وقت میں لوگ مثالیں دیا کریں گی۔