کسی انسانی جان کا ضیاع کسی بھی مذہب معاشرے میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے ایک ایسا ملک جس کے لئے قانون، قاعدے، ضابطے آج سے 1400 سال پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین خصوصاً حضرت عمر فاروق ؓ نے طے کر دیئے تھے۔ حضرت عمر فاروق ؓ کے دور میں زیور سے لدی کوئی بھی عورت دن کیا رات کو بھی اکیلی سفر کر سکتی تھی، مگر آج ہمارے ملک میں دن میں بھی اکیلی عورت کا گھر سے نکلنا مشکل بنا دیا گیا ہے۔
راہ چلتا کوئی بھی اوباش انہیں کہیں بھی تنگ کر سکتا ہے اور یہ سب کچھ سوشل میڈیا پر سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کے ذریعے دکھایا جاتا ہے۔ یقینا ایسے واقعات کی روک تھام ہونی چاہئے، لیکن گزشتہ ہفتے لاہور میں ایک جواں سال عورت اور اس کی دس ماہ کی بیٹی کے سیوریج میں ڈوب کے مرنے کا واقعہ انتہائی تکلیف دہ تھا۔ شورکوٹ سے لاہور کے لئے نکلتے وقت غلام مرتضیٰ اور اس کی بیوی سعدیہ نے سوچا بھی نہیں ہو گا کہ واپسی میں سعدیہ اور 10 مہینے کی ردا کی لاشیں شورکوٹ جائیں گی۔
داتا دربار پر ترقیاتی کام جاری ہے، جس کے لئے داتا دربار کے سامنے پرانے شہر کی فصیل کے گرد بنی گرین بیلٹ میں تعمیر کی گئی غیر قانونی مارکیٹ کو بھی مسمار کیا گیا، لیکن پاکستان میں روایتی ترقیاتی کاموں کی طرح اس کام میں بھی کوئی ”حفاظتی اقدامات“ نہیں کیے گئے۔ اندرون شہر، سرکلر روڈ اور اس سے ملحقہ آبادیوں کا سیوریج یہاں سے گزر کر آؤٹ فال روڈ ڈسپوزل سٹیشن تک جاتا ہے۔ یہ سیوریج کہیں 10اور کہیں 20 فٹ تک گہرا ہے۔
اس گہرے سیوریج میں پانی کی رفتار دن اور شام کے اوقات میں تیز ہوتی ہے رات کو البتہ یہ پانی کم ہو جاتا ہے اور رفتار بھی سست ہو جاتی ہے،داتا دربار پر سلام کرنے کے بعد سعدیہ جب اپنی بچی ردا کو گود میں اٹھائے اپنے شوہر کے ہمراہ رکشہ میں بیٹھنے لگی تو اسے پتہ نہیں تھا کہ وہ جہاں کھڑی ہے وہاں سیوریج کو کھلا چھوڑ دیا گیا ہے اور پھر لمحوں میں غلام مرتضیٰ کی آنکھوں کے سامنے اس کی بیٹی اور بیوی سیوریج میں جا گریں۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ جب اس نے شور مچایا تو 1122 کے اہلکار نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ کوئی اس سیوریج میں گر کر مر بھی سکتا ہے۔
پولیس نے بھی یہ سوچ لیا کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے اور اس کو پانچ گھنٹے تک اپنی حراست میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بنایا،اِس دوران تین گھنٹے کی تلاش کے بعد سعدیہ کی لاش آؤٹ فال ڈسپوزل اسٹیشن پر 1122کی ریسکیو ٹیم نے پانی سے نکال لی، مگر معصوم ردا کی لاش 16گھنٹے کے بعد سگیاں ڈسپوزل پوائنٹ پر ملی، اس حادثہ نے لاہور کے شہریوں کو جھنجوڑ کر رکھا دیا، لیکن اِسی دوران پنجاب حکومت کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے 1122 کی ایک غلط رپورٹ پر سعدیہ اور اس کی بیٹی ردا کی سیوریج میں گرنے کی خبر کو ”فیک قرار“ دے دیا اور پھر جب لاشیں مل گئیں تو یہ فیک خبر سوشل میڈیا پر ”بے شمار زبانیں“ کھلنے کا باعث بنی۔
وہ تو شکر ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اس موقع پر فوری ایکشن لیا سخت ترین احکامات دیئے، عظمیٰ بخاری کو بھی ”ریسکیو“ کیا۔ انہوں نے فوری طور پر داتا دربار ترقیاتی کام کے ذمہ دار ادارے ٹیپا کے پراجیکٹ ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، سب انجینئر کو معطل کیا اور پھر ان کے خلاف پرچہ دلوایا گیا جس کے بعد پراجیکٹ ڈائریکٹر اصغر سندھو، سیفٹی انچارج حنظلہ، سائٹ انچارج احمد نواز اور ترقیاتی فرم کے دو بھائیوں سلمان اور عثمان کو گرفتار کر کے ان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ بھی لے لیا گیا۔
صوبائی حکومت نے پولیس کے خلاف کارروائی کے لئے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان کو ہدایت کی اور اور پھر پولیس نے انکوائری کی تو ثابت ہو گیا کہ ایس ایچ او بھاٹی گیٹ نے ایس پی بلال کی موجودگی میں بدقسمت غلام مرتضیٰ پر تشدد کیا تھا۔ غلام مرتضیٰ کے مطابق پولیس کا رویہ بہیمانہ تھا، اسے بیلٹ اور ڈنڈوں سے مارا گیا۔ پولیس کا یہ جرم بھی قابل معافی نہیں،ان دونوں افسروں کا صرف ”معطلی سے گزارا“ نہیں ہو گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو صرف ایل ڈی اے ٹیپا واسا اور باقی محکموں کے افسروں کے خلاف کارروائیوں تک محدود نہیں رہنا چاہئے۔
اگر پولیس کا با اختیار افسر اپنے ”ڈنڈے کا غلط استعمال“ کرتا ہے تو اسے پتہ ہونا چاہئے کہ ”صوبائی حکومت کا ڈنڈا“ اس کی کمر پر بھی پڑ سکتا ہے۔ جب تک ایسا نہیں ہو گا، اس صوبے کے عوام محفوظ نہیں ہو ں گے، آج اگر مدد کے بجائے بلا جواز ڈنڈے اور بیلٹ مارے جانے کی سزا ملی ہے تو اس کا ”حساب بھی ان افسروں“ سے لینا چاہئے۔ تاکہ ”وردی کی طاقت کے نشے میں چور“ پولیس افسروں کو پتہ چل جائے کہ غلطی کی سزا صرف معطلی نہیں،بلکہ وہ سلاخیں ہیں جس کے پیچھے وہ بے گناہوں کو جب دِل چاہے اُٹھا کر پھینک دیتے ہیں۔
کراچی میں گٹر میں گر کر مرنے کے واقعات سارا سال جاری رہتے ہیں گزشتہ سال کراچی میں 25 افراد کھلے مین ہولز اور 13 نالوں میں گر کر ہلاک ہوئے۔ لاہور میں یقینا ایسا نہیں ہوتا اب اگر ایسا ہوا ہے تو اسے عبرت کی مثال بنانا چاہئے۔ مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ اس مجرمانہ غفلت کے ذمہ دار کسی شخص کو بخشا نہیں جائے گا، ان کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
غیر مستند اطلاع دینے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہو گی۔انہوں نے تھانے میں غلام مرتضیٰ کی چھترول کے حوالے سے کہا کہ اگر ان میاں بیوی کے تعلقات اچھے نہیں تھے تو اس سے پولیس کا یا کسی اور کا کیا لینا دینا، انہوں نے پنجاب کی ٹاپ بیورو کریسی کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر آپ میں سے کسی کا بچہ اِس گٹر میں گرتا تو اج پورا صوبہ ہل کر رہ جاتا۔ لیکن اب سڑک پر چلنے والوں کے ساتھ بھی ایسا نہیں ہونا چاہئے۔
پنجاب کا ”میڈیا اور دانشور“ آج پنجاب میں گورننس کو ”پچھلے ادوار“ سے بہتر قرار دے رہے ہیں۔لہٰذا ہمیں اُمید رکھنی چاہئے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اِس واقع کو مثال بنا کر ایسے اقدامات کریں گی کہ آئندہ کسی تعمیراتی کام پر ایسی غلطیاں نہ ہوں کہ جن کی وجہ سے کوئی بے گناہ شخص اس دنیا سے رخصت ہو۔ ہم اُمید رکھتے ہیں کہ مریم بی بی ایسے اقدامات یقینا کریں گی۔

