اب مجید نظامی کہاں سے لاؤں۔۔۔؟

پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کی ”لیڈر شپ“ اس وقت امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے دورے پر ہے جہاں وہ ”گوروں“ کو یہ باور کرانے کی ”کوشش“کر رہے ہیں کہ بھارت ایک دہشت گرد ملک ہے وہ پاکستان پر جنگ مسلط کر کے پاکستان کو تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے۔ اس تباہی اور بربادی کے لئے ایک ”ہتھیار پانی“ بھی ہے۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ بلاول بھٹو زرداری، شیری رحمان، مصدق ملک، خرم دستگیر اور دیگر رہنما آج اس بھارت کو برا کہہ رہے ہیں جو کبھی اتنا قریبی اور عزیز ہو جاتا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بن بلائے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کی نواسی کی شادی میں شرکت کے لئے پہنچ جاتے ہیں۔ ا ب بھارت کی تمام خوبیاں خامیوں میں بدل گئی ہیں یا انہیں آئینے میں بھارت کا اصلی چہرہ دیکھنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔بہرحال بلاول بھٹو، یوسف رضا گیلانی اور دیگر اعلیٰ قیادت کو بھارت کے خلاف بولتے دیکھا تو جناب مجید نظامی یاد آگئے۔جناب مجید نظامی کے ساتھ گزارے 28برس بہت یاد آ رہے ہیں۔نظامی صاحب ہمیشہ بھارت مخالف رہے وہ کہتے تھے بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے۔ کشمیر میں دریائے چناب اور جہلم پر بنائے جانے والے ڈیموں کی نظامی صاحب نے ہمیشہ کھل کر مخالفت کی اور پاکستانی قوم کو اور ”قوم کی قیادت“ کو جھنجوڑ جھنجوڑ کر جگانے کی کوشش کی، لیکن بدقسمتی سے کوئی اثر نہ ہوا۔ آج ان کی وفات کے 12 سال کے بعد آنکھ کھلنا شروع تو ہوئی ہے تاہم ابھی نیند ٹوٹی نہیں۔ نظامی صاحب کی خواہش تھی کہ وہ اپنی زندگی میں کشمیر آزاد ہوتا دیکھیں۔ لیکن موت نے انہیں مہلت نہیں دی اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔ انہوں نے 2009ء میں کہا تھا کہ کشمیر پر بھارت کو کوئی رعایت دینا اور بھارت نوازی انہیں گوارا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی ڈیم تباہ کر دینے چاہئیں اگر یہ ڈیم تباہ نہ کیے تو پاکستان کے بنجر ہونے کا خطرہ رہے گا۔پاکستان کو ریگستان بننے سے بچانا ہے تو بھارتی ڈیموں کو بم مار کر اڑا دینا چاہئے۔ چاہے اس کے لئے ایٹم بم ہی کیوں نہ استعمال کرنا پڑے۔نظامی صاحب بھارت کے سخت مخالف تھے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے جنگ کا پنگا لیا تو پھر ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔ بھارت کشمیر میں 62 ڈیم بنا رہا ہے اگر ہم نے آج اس بارے میں کوئی بات نہ کی تو آنے والے 10، 15برس میں ہم ریگستان بن جائیں گے۔ نظامی صاحب کالا باغ ڈیم کے کٹر حامی تھے، بلکہ اس جیسے دیگر بڑے ڈیموں کے بھی حمایتی تھے۔ان کی خواہش تھی کہ کالا باغ ڈیم اور اس طرح کے دوسرے بڑے ڈیم بن جائیں تاکہ پاکستان میں کبھی پانی کی قلت نہ پیدا ہو۔ مجید نظامی صاحب کی یہ ”ون مین آرمی“ جنگ ان کی موت تک جاری رہی، لیکن آج افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان کی پسندیدہ جماعت مسلم لیگ(ن)ان کے بتائے راستے پر نہ چل سکی۔ موجودہ حکمران بھی بحالت مجبوری بھارت کے خلاف ”جنگ“ لڑ رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھانے کے لئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو وفد کا سربراہ بنا کر امریکہ، یورپ برطانیہ بھیجا ہے، لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ میاں نواز شریف کے قریب ترین ساتھی، عزیز دوست، رشتہ دار، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو اس وفد میں شامل نہیں کیا گیا۔ مصدق ملک، خرم جہانگیر اور دیگر لیڈر مسلم لیگ ن کی ”اصل قیادت“نہیں ہیں۔ مسلم لیگ(ن)کی اصل قیادت میاں نواز شریف،شہباز شریف، محترمہ مریم نواز، حمزہ شہباز اور اسحاق ڈار ہیں ”یعنی فیملی“ اور یہ پانچوں ہی پارٹی کی ”ہائی کمان“ ہیں، مگر ان میں سے کوئی وفد میں شامل نہیں، لیکن بلاول بھٹو کا شکریہ کہ انہوں نے امریکہ اور برطانیہ میں بھارت کو کھل کر یہ پیغام دے دیا ہے کہ اگر پانی روکا تو پھر جنگ ہو گی۔ پانی روکنا اعلان جنگ تصور کیا جائے گا۔

سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل کرنے کے نتائج اچھے نہیں نکلیں گے۔ بلاول بھٹو نے امریکیوں کو یہ بھی بتایا کہ 24 کروڑ عوام کا پانی بند کرنے کی دھمکی سے خطے کے لئے سنگین خطرہ ہے کیونکہ ایسا ہوا تو اسے اعلان جنگ سمجھا جائے گا اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا مسئلہ کشمیر برطانیہ کی بدولت پیدا ہوا۔ بلاول نے اچھا موقف اپنایا کہ بھارت کشمیر کی آئینی حیثیت کی تبدیلی کا فیصلہ واپس لے۔ یہ یقینا ایک اچھا پیغام ہے۔ بلاول نے ایک لفظ استعمال کیا ہے اور وہ۔دنیا والوں ”کے لئے بہت خوفناک ہے۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان۔ آبی ایٹمی جنگ“ کے الفاظ استعمال کئے،جو امریکیوں کے لئے بھی الارمنگ ہوں گے۔

بلاول بھٹو نے اقوام متحدہ میں اہم ملکوں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ دہشت گردی بھارت کروا رہا ہے بھارت خود دہشت گرد ہے الزام ہمارے پر لگایا جاتا ہے۔بھارت کا ایک حاضر سروس نیول افسر کلبھوشن یادیو بلوچستان سے پکڑا گیا وہ کیا وہاں سیاحت کے لئے تشریف لائے تھے۔بلاول نے برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ کشمیر کا مسئلہ حل کروائیں بھارت سے تمام مسائل کا حل کشمیر سے ہو کر نکلتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے وائس چیئرمین اور چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی نے بھی پانی کے حوالے سے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پانی ہماری ریڈ لائن ہے بھارت نے پانی روکا تو پھر اسے جنگ تصور کریں گے حر جماعت کے پیشوا پیر پگارو نے اپنے مریدین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے پانی بند کیا تو پھر جو جنگ ہوگی وہ آخری جنگ ہو گی،کیونکہ اس کے بعد بھارت جنگ کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔ خوشی ہے کہ ہماری حکمران اشرافیہ کو یاد آگیا کہ پانی کتنا ضروری ہے پانی کے بغیر زندگی نہیں ہے۔ ہمارے دریاؤں کے خشک ہو جانے پر ہمارے کھیت کھلیان سوکھ جائیں گے۔ 24 کروڑ عوام کی روٹی بند ہو جائے گی۔ یہ دالیں، یہ سبزیاں، یہ پھل، یہ گندم، یہ چاول ہم پانی کے بغیر کیسے اگائیں گے۔ یہ ہے وہ بات جو مجید نظامی تا عمر سمجھاتے رہے بتاتے رہے کہ کشمیر کو قائداعظم نے اِس لئے پاکستان کی شہ رگ کہا تھا کہ کشمیر کے بغیر پاکستان کے دریا سوکھ جائیں گے۔ بھارت بہت کمینہ دشمن ہے وہ دشمنی سے باز نہیں آئے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں