سینیٹر شبلی فراز انقلابی شاعر فراز احمد (مرحوم) کے صاحبزادے ہیں،پاکستانی عوام ان کو بہت پسند کرتے اور ان کی کہی غزلیں اور نظمیں سن کر سر دھنتے ہیں، ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات کے مصداق شبلی فراز بھی بہت سی صفات کے حامل اور ایک گرم جوش مقرر بھی ہیں، تحریک انصاف میں ان کا شمار ”مرشد“ کے پسندید ”مریدوں“ میں ہوتا ہے کہ ان کے موقف میں ”مرشد“ ہی کی طرح لچک کم ہوتی ہے دو روز قبل وہ سینٹ کے اجلاس میں بیرون ملک بھیجنے کے لئے وفد کے چناؤ پر اعتراض کررہے تھے ان کے موقف میں وزن تھا کہ بھارت کے خلاف ”بنیان مرصوص“ آپریشن کے دوران پوری قوم کا اتحاد تھا اسے اور آگے بڑھنا چاہیے، اس لئے تعاون کی ضرورت ہے، لیکن حکومت نے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں جو وفد بیرونی ممالک میں پاکستان کے موقف کی مزید وضاحت کے لئے ترتیب دیا۔ اس میں اپوزیشن کے کسی رکن کو شامل نہیں کیا گیا۔ اپوزیشن سے ان کی مراد تحریک انصاف تھی کہ باقی جماعتیں تو حکمران اتحاد میں شامل ہیں یا پھر تعاون پر آمادہ ہیں، یہاں تک ان کی بات میں وزن اور دلائل بھی درست تھے اور ہیں، لیکن اس کے بعد پھر ان پر ”مرشد“ کے اثرات ظاہر ہوئے اور انہوں نے اعلان کر دیا کہ تحریک انصاف خود اپنا وفد مرتب کرکے اپنے خرچ پر بیرونی ممالک میں بھیجے گی اور بیرونی ممالک میں جماعت کے حضرات بھی معاونت کریں گے اور پاکستان کا موقف واضح کریں گے، جہاں تک ان کے اعتراض کا تعلق ہے تو میرے سمیت اتفاق رائے کے حامی شہریوں کی بھاری تعداد ان سے متفق ہے اور یہ سمجھتی ہے کہ بیرون ملک جانے والے وفد یا وفود میں اپوزیشن کارکن ہونا بہتر تھا اور حکومت کو یہ فیصلہ مثبت طور پر کرلینا چاہیے تھا، لیکن بوجوہ ایسا نہ ہو سکا میرے خیال میں اگر تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کو شامل کیا جاتا تو ایک بہتر رکن کا اضافہ ہوتا اور وفد کی نمائندہ حیثیت اور موثر ہوتی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا،مجھے معلوم نہیں کہ ایسا کس بنیاد پر کیا گیا تاہم اپوزیشن رکن کے بغیر وفد کی تشکیل سے کوئی اچھا تاثر نہیں بنا، حکمرانوں کو اس پر غور کرنا چاہیے۔
اب ذرا بات کرلیں شبلی فراز کے جذبات کی کہ انہوں نے اپنی جماعت کے وفد کا اعلان کیا اور یہ بھی فرمایا کہ بیرون ملک جماعتی اراکین بھی ملک کا موقف اُجاگر کریں گے، ان کے ان جذبات پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، لیکن جس عزم کا اظہار کیا وہ ممکن نہیں، اس راستے میں بھی کوئی کہکشاں نہیں البتہ پتھر بہت ہیں، ان کو غور کرلینا چاہیے تھا اول تو یہ ”مرشد“ کا لہجہ ہے، دوم پہلے وفد تو بنا لیں جہاں تک بیرون ملک ان کے دوستوں کا تعلق ہے تو وہ پہلے ہی سرگرم عمل ہیں اور ان کی سرگرمیوں کے حوالے سے شاید خود شبلی فراز بھی جواب نہ دے سکیں۔ اس لئے ان سے جن توقعات کا اظہار انہوں نے سینیٹ میں کیا وہ تو شرمندگی ہی کا باعث ہے کہ ان جیسے ”مرشد“ کے جو ”مرید“ بیرون ملک ہیں ان کی زبان اور بیان سے تو ہر پاکستانی پناہ مانگتا ہے، جبکہ خود ملک کے اندر ان کی جماعت میں سب اچھا نہیں ہے۔
میں نے ابتداء میں عرض کیا تھا کہ وفد میں اپوزیشن کی نمائندگی ہوتی تو بہتر تاثر بنتا اور اس امر سے خائف ہونے کی ضرورت نہیں تھی کہ کچھ ایسی ویسی نہ ہو جائے، اگر بیرسٹر گوہر، علی ظفر یا ایسے ہی کسی راہنما کو شامل کیا جاتا تو بہتر ہوتا، ہم تو بارہا ذکر کر چکے کہ ہمارے نزدیک قومی اتفاق رائے ہی مسائل کا حل ہے، لیکن اس سلسلے میں مایوسی ہی ہوئی، اب بھی اس ”لاتعلقی“ کو درست کیا جا سکتا ہے اس سے فائدہ ہی ہوگانقصان نہیں۔
دکھ البتہ یہ ہے کہ روایات کے مخالف ”مرشد“ خود اپنے تصوراتی اقتدار سے تاحال باہر نہیں نکلے، ان کو تو غور کرنا چاہیے کہ آخروہ کون سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے وہ اس حالت کو پہنچے اور اب تو نوبت یہاں تک آ گئی کہ برسرزمین ان کی حمائت میں نمایاں کمی ہو گئی ہے اس کے باوجود ان کی انا برقرار ہے، مذاکرات کے حوالے سے ان کا ایک وضاحتی بیان پھر سامنے آیا ہے جس میں وہ اصرار کرتے ہیں، میں نے مذاکرات سے کب انکار کیا اور نہ ہی منع کیا ہے لیکن یہ مذاکرات حکومت سے نہیں،اسٹیبلشمنٹ سے ہوں گے حکمران اتحاد سے نہیں، ان کا فرمانا ہے کہ میں نے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات سے کبھی انکار کیا نہ روکا ہے، یوں رابطوں کے حوالے سے اپنی مرضی تو بتا دی لیکن یہ نہیں بتایا کہ دوسری طرف سے بھی ہاں یا پذیرائی ہوئی یا نہیں۔ ہماری اطلاع کے مطابق پس پردہ رابطوں اور مذاکرات کی باتیں بھی تحریک انصاف ہی کی طرف سے پھیلائی گئیں اور پھر ناراضی کا اظہار کیا جاتا ہے حالانکہ بیک ڈور تعلقات بحال ہوتے تو اب تک کوئی نتیجہ نکل آتا جو نہیں ہوا۔اس لئے رابطوں والی سب باتیں ہوائی لگتی ہیں،دوسری طرف بہت واضح طور پر ”مرشد“ کے دور سے زیادہ بہتر ”ایک صفحہ“ دکھائی دے رہا ہے،لہٰذا بہتر ہے کہ سیاسی رویہ اختیار کیا جائے اور براہ راست حکومت سے مذاکرات کر لئے جائیں کہ حکومت کی طرف سے بھی ہاں، اجازت ہی سے ہو گی،جہاں تک خود ان کی اپنی جماعت کا تعلق ہے تو وہ خود سب ایک پیچ پر نہیں ہیں، جن تصورات کی خود ”مرشد“ نے مخالفت کی خود ان کی جماعت میں وہی کچھ ہونے لگا ہے، کئی گروپس بن چکے اور ابھی مزید بنیں گے،لیکن حکم اور اجازت صرف مرشد کی ہوتی ہے، کیا یہ شخصیت پرستی کی بدترین شکل نہیں؟اِس لئے بہتر عمل یہ ہوگا کہ ضد چھوڑ کر جلد سے جلد قومی اتفاق رائے کے لئے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے!
بھارت کو ہونے والی شکست اور پاکستانی قوم کے اتحاد سے حیرت نہیں ہونا چاہیے کہ ہر نازک اور قومی مسئلہ پر ملک کے اندر ایسا ہی اتحاد پایا گیا۔ 1965ء ستمبر والی لڑائی کے دووان جس مثالی اتحاد کامظاہرہ ہوا اب بھی ایسا ہی ہونا چاہئے اور اب تو بہت بڑی بات ہوئی۔عمر ایوب صدمے سے دوچار ہیں۔ان کے دادا نے سالوں پہلے ملک پر قبضہ کیا اور پھر خود ساختہ فیلڈ مارشل بھی بن گئے،لیکن اب ایک بیدار مغز جنرل کو کابینہ نے منظور کر کے یہ اعزاز بخشا ہے ان کی سرگرم قیادت میں ”آپریشن بنیان مرصوص“ ہوا اور فتح نصیب ہوئی،پوری قوم نے تائید کی ہے۔

