ایڈمنٹن(سی بی سی نیوز، گلوبل نیوز، رائٹرز، اے پی)البرٹا میں اساتذہ کی صوبہ گیر ہڑتال کے باعث دو ہزار پانچ سو سے زائد اسکول بند ہوگئے، جس سے سات لاکھ سے زیادہ طلبہ متاثر ہوئے ہیں۔ اساتذہ یونین کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج ناکافی فنڈنگ، ہجوم زدہ کلاس رومز اور تعلیمی وسائل کی کمی کے خلاف ہے، جبکہ حکومت نے مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہڑتال ختم کی جائے تاکہ معاہدہ ممکن ہو سکے۔
البرٹا ٹیچرز ایسوسی ایشن (ATA) کے صدر جیسن شلنگ نے ایڈمنٹن میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ہڑتال صرف اساتذہ کے لیے نہیں بلکہ اُن طلبہ کے لیے ہے جو ناکافی وسائل کے باعث معیاری تعلیم سے محروم ہیں۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ البرٹا میں فی طالب علم سب سے کم فنڈنگ ہوتی ہے اور یہی مسئلہ موجودہ لیبر تنازع کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’’اگر حکومت ہر سال تعلیم کے بجٹ میں کمی کرے گی تو خاموشی ممکن نہیں۔‘‘
پیر کے روز یونین کے 51 ہزار ارکان نے بہتر معاہدے کے لیے ہڑتال کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں 2,500 سرکاری، علیحدہ اور فرانسیسی اسکولوں میں تدریسی عمل معطل ہوگیا۔ اسکول بند ہیں تاہم اساتذہ ہڑتالی مظاہرے اسکولوں کے باہر نہیں کر رہے۔ یونین نے اعلان کیا ہے کہ ایڈمنٹن اور کیلگری جیسے بڑے شہروں میں ہفتہ وار ریلیاں جاری رہیں گی، جن میں ہزاروں افراد شریک ہو رہے ہیں۔
ایڈمنٹن کے قریب ویٹاسکوئن کی پرائمری اسکول ٹیچر کرسٹین ہاک نے بتایا کہ ہڑتال کا آغاز ان کے لیے عجیب تجربہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’آج کام پر نہ جانا غیر معمولی احساس ہے۔ میں اپنے طلبہ سے محبت کرتی ہوں مگر کلاس روم کی پیچیدگی اور طلبہ کی مختلف ضروریات ایک استاد کے لیے اکیلے پوری کرنا مشکل ہے۔‘‘
دوسری جانب، پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے مونٹریال میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ ’’ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، مگر بدقسمتی سے یہ فیصلہ اساتذہ نے کیا ہے کہ وہ کام سے علیحدہ ہو جائیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اگلے تین سالوں میں 3,000 نئے اساتذہ اور 1,500 تعلیمی معاونین بھرتی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے چار سال کے لیے 12 فیصد تنخواہوں میں اضافہ، کووڈ 19 ویکسین کے اخراجات کی کوریج، اور کلاس روم کے حالات بہتر بنانے کی پیشکش کی تھی، تاہم یونین نے اسے ناکافی قرار دے کر مسترد کر دیا۔
شلنگ کے مطابق ’’صوبے کو طلبہ و اساتذہ کے بہتر تناسب کے لیے کم از کم 5,000 مزید اساتذہ درکار ہیں۔‘‘
پریمیئر اسمتھ نے وضاحت کی کہ حکومت نے صوبے میں 100 سے زائد نئے اور تجدید شدہ اسکولوں کے لیے 8.6 ارب ڈالر مختص کیے ہیں، تاہم جگہ کی کمی اب بھی ایک چیلنج ہے۔
اساتذہ یونین نے واضح کیا ہے کہ وہ طلبہ کے بہتر مستقبل کے لیے پرعزم ہیں اور ہڑتال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حکومت تعلیمی فنڈنگ اور کلاس سائز کے حوالے سے قابلِ قبول معاہدہ نہیں کرتی۔

