اساتذہ کی ہڑتال کی صورت میں البرٹا حکومت والدین کو 150 ڈالر فی ہفتہ فراہم کریگی

البرٹا (سی بی سی نیوز/اے ایف پی)البرٹا حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اگر 6 اکتوبر کو اساتذہ ہڑتال پر جاتے ہیں تو 12 سال یا اس سے کم عمر بچوں کے والدین کو فی بچہ 150 ڈالر ہفتہ وار دیے جائیں گے۔ یہ رقم ان فنڈز سے دی جائے گی جو ہڑتال کے دوران بچائے جائیں گے۔

البرٹا کے وزیر خزانہ نیٹ ہورنر نے اعلان کیا کہ صوبہ اساتذہ کی ممکنہ ہڑتال کے دوران والدین اور سرپرستوں کو مالی معاونت فراہم کریگا۔ 12 سال یا اس سے کم عمر بچوں کے والدین فی بچہ 150 ڈالر فی ہفتہ حاصل کرنے کے اہل ہونگے۔ پہلی ادائیگی 31 اکتوبر کو کی جائیگی، لیکن والدین کو آن لائن درخواست دینا ہوگی۔

یہ اعلان ایک روز بعد سامنے آیا جب البرٹا ٹیچرز ایسوسی ایشن (اے ٹی اے) نے بتایا کہ 89.5 فیصد اراکین نے معاہدے کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے، جس سے صوبے بھر میں ہڑتال کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ اس ووٹنگ میں 94 فیصد اساتذہ نے حصہ لیا۔ اگر ہڑتال ہوئی تو تقریباً 7 لاکھ طلبہ متاثر ہوسکتے ہیں۔

اجلاس میں وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ “اگر یونین آگے بڑھتی ہے اور ہم ہڑتال دیکھتے ہیں تو حکومت نے طلبہ اور خاندانوں کی مدد کیلئےمنصوبے تیار کر رکھے ہیں۔آپ کو غیر یقینی صورتحال میں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔”

وزیر خزانہ ہورنر نے اساتذہ کی طرف سے معاہدہ مسترد کرنے پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ نقصان دہ ہوگا اگر یونین واضح طور پر یہ بیان نہ کرے کہ ان کے اراکین کس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اسی پریس کانفرنس میں وزیر تعلیم ڈیمیٹریوس نکولائیڈز نے اعلان کیا کہ حکومت نے والدین کیلئے ایک ٹول کٹ تیار کیا ہے تاکہ ہڑتال کی صورت میں بچوں کو گھروں پر پڑھایا جا سکے۔ اس میں ریاضی، زبان، سائنس اور سماجی علوم جیسے مضامین کیلئے ویڈیوز، ورک شیٹس اور سوالات شامل ہوں گے۔

نکولائیڈز نے کہا، “طلبہ کو اس ہڑتال کی سزا نہیں ملنی چاہیے، ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ خاندانوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو۔”

ڈینیئل اسمتھ نے یہ بھی اعلان کیا کہ صوبہ 2028 تک اسکولوں کیلئے1500 مزید ایجوکیشنل اسسٹنٹس بھرتی کرے گا۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کلاس سائز کو محدود کرنے پر غور نہیں کرے گی کیونکہ اسکولوں میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔

دوسری جانب اے ٹی اے کے صدر جیسن شلنگ نے کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران انہوں نے کلاس سائز پر حد مقرر کرنے اور طالب علم-استاد تناسب بہتر بنانے کی تجاویز پیش کیں، لیکن آجر نمائندوں نے انہیں مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یونین نے تین سال میں 3000اساتذہ بھرتی کرنے کی تجویز دی تھی تاکہ بڑھتی ہوئی کلاسز اور پیچیدہ تعلیمی مسائل سے نمٹا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں