استنبول کےمئیر اکرم امام اوعلو کو آج صبح گھر پر چھاپہ مار کر حراست میں لیا گیا

استنبول(نمائندہ خصوصی)استنبول کےمئیر اکرم امام اوعلو کو آج صبح گھر پر چھاپہ مار کر حراست میں لیا گیا. میئر استنبول اکرم امام اوعلو پر مالی بدعنوانی اور دہشت گرد تنظیم پی کے کے (PKK) سے رابطے اور پیسے کے لین دین کا الزام ہے .میئر استنبول پر منی لانڈرنگ کا بھی الزام ہے.

استنبول کے میئر ، جے حے پے (CHP) کے مرکزی رہنما اور آئندہ صدارتی انتخابات کیلئے اپوزیشن پارٹیز کے متوقع صدارتی امیدوار اکرم امام اوعلو کو مالی بدعنوانی اور دہشت گرد تنظیم پے کے کے (PKK) کے ساتھ روابط، پیسوں کے لین دین اور منی لانڈرنگ کے الزامات پر عدالت میں کیس کے فیصلے کے نتیجے میں گرفتار کر لیا گیا.

ترکیہ کے عدالتی فیصلے پر میئر استنبول کی گرفتاری کو اپوزیشن رہنماؤں نے سیاسی کردارکشی قرار دیا ہے جبکہ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ ترکیہ میں عدالتی نظام آزاد حیثیت میں کام کرتا ہے، اس گرفتاری میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں.

میئر استنبول کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ 100 سے زائد مزید افراد گرفتار گئے گئے ہیں جن میں سے دو استنبول کے ڈسٹرکٹ میئرز بھی شامل ہیں.مالی بدعنوانی، دہشت گردوں کے ساتھ رابطے اور مالی معاونت میں تین ماہ قبل استنبول سے ہی ڈسٹرکٹ احسن یارٹ (Esenyurt ) کے میئر کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی تھی.

یاد رہے کہ میئر استنبول اکرم امام اوعلو 2023 میں صدارتی انتخابات کیلئے بھی اپوزیشن جماعتوں کے پسندیدہ امیدوار تھےلیکن CHP کے چیئرمین کمال کلچدار اوعلو نے خود کو صدارتی امیدوار کے طور پر نامزد کر دیا تھا.آئندہ آنے والے صدارتی انتخابات میں اپوزیشن اتحاد کے سب سے مقبول اور مضبوط صدارتی امیدوار اکرم امام اوعلو ہی ہیں.

ان گرفتاریوں پر اپوزیشن رہنماؤں نے شدید ردعمل دیا ہے اور ملک گیر احتجاج کا بھی عندیہ دیا ہے. دوسری طرف اکرم امام اوعلو اور مزید 100 سے زائد افراد کی گرفتاریوں سے سیاسی جماعتوں میں سراسیمگی بھی پائی جاتی ہے.آج استنبول میں انٹرنیٹ کی بندش کے سبب صارفین کو دشواری کا سامنا ہے اور تقسیم سکوائر کے لئے تمام میٹرو سروسز تا حکم ثانی بند کر دی گئی ہیں.

گذشتہ روز ترکیہ کی یونیورسٹی نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنی یونیورسٹی کی ڈگری جعلی طور پر حاصل کی، استنبول کے میئر اکریم اوغلو نے اپنی ڈگری کے منسوخ کیے جانے کو غیر قانونی قرار دیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں