استنبول: گستاخانہ کارٹون شائع کرنے پر معروف میگزین کا کارٹونسٹ و ایڈیٹر گرفتار

استنبول (نمائندہ خصوصی)استنبول میں ہفت روزہ سٹائر کل میگزین LeMan کے تازہ شمارے میں گستاخانہ کارٹون شائع ہونے کے الزام میں میگزین کا ایک کارٹونسٹ اور تین دیگر اسٹاف ممبران کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دو ایڈیٹرز کے خلاف وارنٹ بھی جاری کیے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق4 افراد گرفتار: سب سے پہلے کارٹونسٹ D.P کو انقرہ سے گرفتار کیا گیا، جس کے ساتھ گرافک ڈیزائنر، ایڈیٹر-ان-چیف اور مینیجر کو بھی زیر حراست لے لیا گیا ہے۔ مزید دو ایڈیٹرز کے خلاف وارنٹ جاری کیے گئے ہیں .

احتجاج اور پُرتشدد واقعاتLeMan کے دفتر کے باہر مظاہرین نے شدید احتجاج کیا۔ پولیس نے ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کا استعمال کرتے ہوئے مجمع منتشر کیا ۔استنبول گورنر اور وزیر داخلہ نے کارٹون کو “گھٹیا провocation” قرار دیتے ہوئے قانونی کاروائی کی یقین دہانی کرائی ۔

LeMan انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کارٹون میں “محمد” ایک عام شہری تھا نبی نہیں۔ ان کا مقصد توہین مذہب نہیں بلکہ مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی مسلمانوں کی تکالیف کو اجاگر کرنا تھا.استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر نے اس سلسلے میں تفتیش شروع کی ہے اور مقدمہ “مذہبی اقدار کی توہین” کے تحت چلایا جائے گا ۔

اس واقعے نے صحافتی آزادی اور مذہبی اعتقادات کے درمیان کشمکش کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے۔ میڈیا رہنماؤں اور آزاد صحافتی گروپس نے گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا، جبکہ جیسا کہ Reporters Without Borders نے ترکی کو پریس فریڈم انڈیکس میں 159 میں سے 159 ویں مقام پر رکھا ہے ۔

استنبول میں LeMan میگزین کی تازہ ترین اشاعت نے مذہبی جذبات کو بھڑکا دیا، جس کے نتیجے میں کارٹونسٹ اور عہدہ دار گرفتار ہوئے، احتجاجی مظاہرے ہوئے اور سرکاری سطح پر قانونی کارروائی کا آغاز ہوا۔ معاملہ صحافتی آزادی اور مذہبی حساسیتوں کے توازن کا آئینہ دار بن کر سامنے آیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں