اسلام آباد / واشنگٹن(نمائندہ خصوصی) — نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے واضح کیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے متعلق ان کے حالیہ بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، جس سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ہمیشہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے ہر ممکن سفارتی و قانونی کوششیں کی ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
اسحٰق ڈار نے واشنگٹن ڈی سی میں “اٹلانٹک کونسل” میں خطاب کے دوران ایک سوال کے جواب میں عمران خان کے کیس کی مثال دیتے ہوئے امریکی عدالتی نظام کی مثال دی، جس میں انہوں نے کہا کہ جیسے پاکستان نے امریکی عدالتی فیصلے میں مداخلت نہیں کی، ویسے ہی دوسرے ممالک کو بھی پاکستانی عدلیہ کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔
تاہم، اس بیان کو ڈاکٹر عافیہ کے کیس سے جوڑنے پر وکلا اور سوشل میڈیا پر سخت تنقید کی گئی۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے وکیل کلیو اسٹافورڈ اسمتھ نے اس بیان کو “گمراہ کن” اور “احمقانہ” قرار دیا اور کہا کہ یہ تاثر دینا کہ ڈاکٹر عافیہ کو منصفانہ عدالتی عمل کے تحت سزا ہوئی، حقیقت سے انحراف ہے۔
اسحٰق ڈار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اُن کا مقصد ہرگز ڈاکٹر عافیہ کے مقدمے کی اہمیت کم کرنا نہیں تھا بلکہ وہ قانونی عمل کے احترام پر بات کر رہے تھے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت پاکستان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتی رہے گی۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے ملاقات میں اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور ہر ممکن قانونی و سفارتی مدد فراہم کی جائے گی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے حال ہی میں حکومت کو عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے پر توہینِ عدالت کا نوٹس بھی جاری کیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ معاملے کو اب مزید سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔

