غزہ (الجزیرہ/اے ایف پی/ویب ڈیسک)غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے، تازہ ترین حملوں میں کم از کم 57 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں 35 افراد وہ تھے جو امدادی مراکز پر خوراک کے حصول کے لیے موجود تھے۔ بین الاقوامی ادارے امداد کی فراہمی کو ناکافی قرار دے رہے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے سابق عہدیدار نے فضائی امداد کو غیر مؤثر اور خطرناک قرار دیا ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے مقامی ہسپتالوں نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی افواج نے خوراک کے حصول کے لیے امدادی مراکز پر موجود بھوکے فلسطینیوں پر براہ راست فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد موقع پر ہی شہید ہو گئے۔
الجزیرہ کے مطابق صرف حالیہ حملوں میں شہید ہونے والے افراد کی تعداد 57 ہو چکی ہے، جن میں امدادی مرکز پر خوراک کے منتظر 35 فلسطینی بھی شامل ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب غزہ کے شہری مہینوں کی بھوک کے بعد کسی امداد کی امید پر جمع ہوئے تھے۔
جرمن حکومت نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ غزہ میں امداد کی فراہمی میں معمولی بہتری آئی ہے، مگر یہ اب بھی ہنگامی انسانی بحران کو روکنے کیلئےقطعی ناکافی ہے۔
جرمن حکومت کے ترجمان سٹفن کورنیلیس نے ’اے ایف پی‘ سے بات کرتے ہوئے کہا”اسرائیل پر مکمل ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ امداد کی مؤثر فراہمی کو یقینی بنائے۔”
دوسری جانب سابق اقوام متحدہ کے ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر مارٹن گریفتھس نے خبردار کیا ہے کہ فضائی امداد “آخری اور خطرناک آپشن” ہے۔ الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا”رواں ہفتے فضائی امداد کے دوران غزہ میں کئی افراد زخمی اور جاں بحق ہوئے۔
زمین پر ایسا کوئی مؤثر نظام نہیں جو امداد کو صحیح لوگوں تک پہنچا سکے یا لوٹ مار روک سکے۔”انہوں نے مزید کہا کہ ایک طیارے میں امدادی سامان کی مقدار ایک عام ٹرک کے چوتھائی حصے کے برابر ہوتی ہے، جو اس بڑے پیمانے کی انسانی ضرورت کیلئے ناکافی ہے۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت میں اب تک 60,332 فلسطینی شہید اور 147,643 زخمی ہو چکے ہیں۔ غزہ میں نظامِ صحت تباہ، بنیادی ڈھانچہ مفلوج، اور لاکھوں شہری خوراک، پانی اور ادویات سے محروم ہیں۔

