غزہ (رائٹرز/الجزیرہ)اسرائیلی فوج نے وسطی اور جنوبی غزہ میں ہلاکت خیز فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ اسرائیل نے حماس پر اپنے فوجیوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے، جس کی حماس نے تردید کی ہے۔ اسرائیلی حملوں کے باعث غزہ میں جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ ان حملوں میں اب تک 38 افراد شہید اور 143 زخمی ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نے امدادی قافلوں کی گزرگاہیں روک کر غزہ میں داخلہ بند کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے اتوار کو غزہ پر حملہ کر دیا۔ اس پیش رفت نے امریکا کی ثالثی میں ہونے والی ایک ہفتے پرانی جنگ بندی کے مستقل امن میں بدلنے کی امیدوں کو کم کر دیا ہے، جبکہ اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے اتوار کو بتایا کہ حماس نے غزہ کے اندر اسرائیلی فورسز پر متعدد حملے کیے، جن میں ایک راکٹ حملہ اور ایک اسنائپر حملہ شامل ہے۔ اہلکار کے مطابق دونوں واقعات اسرائیلی زیرِ قبضہ علاقے میں پیش آئے، جو جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب حماس کے سینئر رہنما عزت الرشق نے کہا کہ فلسطینی گروپ جنگ بندی کے معاہدے پر قائم ہے، جس کی بارہا خلاف ورزی کا الزام اس نے اسرائیل پر عائد کیا۔
غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر نے ہفتے کے روز بتایا تھا کہ اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے بعد 47 خلاف ورزیاں کیں، جن میں 38 افراد جاں بحق اور 143 زخمی ہوئے۔
اتوار کو ہونے والے اسرائیلی حملوں کے اثرات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکے، تاہم یہ حملے 11 اکتوبر کو نافذ ہونے والی نازک جنگ بندی کے بعد سب سے بڑا امتحان تصور کیے جا رہے ہیں۔
اسرائیلی حکومت اور حماس کئی روز سے ایک دوسرے پر جنگ بندی توڑنے کے الزامات لگا رہے ہیں، جبکہ اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ غزہ اور مصر کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ تا حکمِ ثانی بند رہے گی۔
الجزیرہ کے مطابق، خبر رساں اداروں کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر حکام نے بتایا کہ اسرائیل نے حماس پر جنگ بندی توڑنے کا الزام لگاتے ہوئے غزہ کی جانب امدادی قافلوں کیلئے گزرگاہیں بند کر دی ہیں۔
ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا”غزہ کی پٹی میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی ترسیل حماس کی جانب سے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کے بعد اگلے حکم تک روک دی گئی ہے۔”
“اسرائیل حماس کو غیر مسلح کرنے کے اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے گا، اسرائیلی وزراء”
الجزیرہ کے مطابق غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد مزید وزراء نے ایسے بیانات دیے ہیں جن سے امریکی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر اسرائیلی حکومت کی پابندی پر شکوک پیدا ہو گئے ہیں۔
بیرونِ ملک یہودی برادری کے امور کے وزیر امیچائی چکلی، جو اپنے سخت گیر مؤقف کیلئےجانے جاتے ہیں، نے کہا”جب تک حماس موجود ہے، جنگ جاری رہے گی۔”
نتن یاہو کی کابینہ کے ایک اور رکن آوی ڈختر نے صورتحال کو “مشکل اور پیچیدہ” قرار دیا، اور اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق حماس پر الزام عائد کیا کہ اس نے اس مفروضے کے تحت جنگ بندی کی خلاف ورزی کی کہ “اسرائیل دوبارہ لڑائی شروع نہیں کرے گا۔”
انہوں نے مزید کہا”جیسے ہی تمام زندہ یرغمالیوں کو ہمارے حوالے کر دیا جائے گا، حالات بدل جائیں گے۔ اسرائیل حماس کو غیر مسلح کرنے کے اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔”
“حماس کے عہدیدار جنگ بندی کے نفاذ پر بات چیت کیلئےقاہرہ پہنچ گئے”
حماس کا ایک اعلیٰ سطحی وفد، جس کی قیادت سینئر رہنما خلیل الحیہ کر رہے ہیں، قاہرہ پہنچ گیا ہے۔تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ وفد کا مقصد “جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ کے حوالے سے ثالثوں فلسطینی دھڑوں اور دیگر قوتوں کے ساتھ بات چیت کرنا”ہے۔
اس سے قبل حماس کے عسکری ونگ نے کہا تھا کہ اس نے ایک اور قیدی کی لاش کا سراغ لگا لیا ہے، جسے “اسرائیل کے حوالے کر دیا جائیگا۔گروپ نے مزید کہا کہ اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی “کشیدگی میں اضافہ”تلاش کے جاری آپریشنز میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل نے کہا کہ اس نے جنوبی غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے تنازعے کے دوران فضائی اور توپ خانے کے حملے کیے ہیں۔
“اسرائیلی حکام نے ایک اور یرغمالی کی لاش کی شناخت کر لی”
اسرائیلی حکام نے حماس کی جانب سے حوالے کی گئی ایک اور یرغمالی کی لاش کی شناخت کر لی ہے۔الجزیرہ کے مطابق، اسرائیلی حکام نے یرغمالی کی لاش کی شناخت رونن اینجل کے نام سے کی ہے، جسے 7 اکتوبر 2023 کو اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ اغوا کیا گیا تھا۔اسرائیلی فوج نے بتایا کہ وہ 7 اکتوبر کے روز ہی ہلاک ہو گیا تھا۔

