اسرائیلی فوج کے’محفوظ علاقوں‘ اور امداد کے متلاشی افراد پر حملے، مزید 40 فلسطینی شہید

غزہ سٹی (الجزیرہ )اسرائیلی فورسز نے غزہ میں محفوظ قرار دیے گئے علاقوں اور امداد کے متلاشی فلسطینیوں پر حملوں میں شدت لاتے ہوئے آج مزید 40 افراد کو شہید کر دیا۔ فضائی بمباری میں رہائشی عمارتیں اور خیمہ بستیاں تباہ ہوئیں جبکہ درجنوں شہری زخمی ہوئے۔

الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کی بلند رہائشی عمارتوں، بے گھر افراد کے خیموں اور امداد کے متلاشی شہریوں کو نشانہ بنایا۔غزہ سٹی کے زیتون محلے کی الفاروق اسٹریٹ پر مرتجہ خاندان کا گھر فضائی حملے میں تباہ ہوا، متعدد افراد زخمی اور کئی ملبے تلے دب گئے، ریسکیو ٹیموں کی کارروائیاں جاری ہیں۔

طبی ذرائع کے مطابق فجر سے اب تک کم از کم 41 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں 25 غزہ سٹی کے رہائشی اور 6 امداد لینے والے شامل ہیں۔خان یونس کے المواسی علاقے میں، جہاں اسرائیل نے نام نہاد “انسانی ہمدردی کا زون” بنایا تھا، خیمہ بستی پر بمباری میں 2 شہری شہید اور کئی زخمی ہوئے۔

یہ حملے اس اعلان کے بعد کیے گئے جب اسرائیلی فوج نے شہریوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ شمالی محاصرے کے دوران اس علاقے میں منتقل ہو جائیں۔وزارت نے کہا کہ اسرائیل دانستہ طور پر رہائشی عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہا ہے تاکہ شہریوں کو جبری انخلا پر مجبور کیا جا سکے۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ اسرائیل کے یہ دعوے کہ رہائشی ٹاور عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں، بے بنیاد ہیں۔وزارت نے شہریوں کو خبردار کیا کہ اسرائیلی “محفوظ علاقوں” کے دعووں پر یقین نہ کریں کیونکہ ماضی میں ایسے مقامات کو کئی بار نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 64 ہزار 368 فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 62 ہزار 367 زخمی ہو چکے ہیں۔غزہ میں بمباری کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں، لیکن شہریوں کو خدشہ ہے کہ اسرائیلی فوج کے “محفوظ علاقوں” کے بیانات مزید جانی نقصان کا باعث بنیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں