تل ابیب (نیوز ڈیسک) اسرائیلی وزیر خزانہ بیتزالیل اسموٹریچ نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے امکان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے متنازع اور توہین آمیز بیان دیا ہے۔ دائیں بازو کی مذہبی جماعت ریلیجیس صہیونزم پارٹی کے سربراہ اسموٹریچ نے یروشلم میں زومیٹ انسٹیٹیوٹ اور مکور ریشون اخبار کی جانب سے منعقدہ ایک کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سعودی عرب سے تعلقات کی کوئی ضرورت نہیں، اور اگر سعودی عرب کہے کہ فلسطینی ریاست کے بدلے تعلقات معمول پر آئیں تو ایسا نہیں کرینگے۔
اسموٹریچ نے مزید کہا کہ سعودی عرب اپنے صحراؤں میں اونٹوں پر سواری جاری رکھے اور اسرائیل اپنی معیشت، معاشرے اور ریاست کو ترقی دیتا رہے گا۔ ان کے اس بیان نے عرب دنیا خصوصاً خلیجی ممالک میں سخت ردعمل پیدا کیا ہے، اور تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن کی کوششوں سے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ تعلقات کی بحالی پر بات چیت جاری ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل کے دائیں بازو کے کئی رہنما ماضی میں بھی عرب ممالک اور فلسطینی عوام کے خلاف سخت بیانات دے چکے ہیں، اور عرب ذرائع ابلاغ نے اس بیان کو اسلامی ممالک کی توہین قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔

