میڈرڈ (الجزیرہ)ہسپانوی وزیر کھیل پلر ایلگریا نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی ٹیموں کو کھیلوں کے مقابلوں سے اسی طرح باہر کیا جائے جیسے 2022 میں روس کو یوکرین پر حملے کے بعد بین الاقوامی مقابلوں سے باہر کیا گیا تھا۔
ہسپانوی وزیرِ کھیل پلر ایلگریا نے کہا ہے کہ کھیلوں میں اسرائیل کے ساتھ دوہرا معیار اختیار کیا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا کہ اسرائیلی ٹیموں پر بھی کھیلوں میں حصہ لینے پر پابندی لگائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب روسی ٹیموں کو یوکرین جنگ کے بعد بین الاقوامی مقابلوں سے خارج کیا گیا تو اسرائیلی ٹیموں کیلئے بھی یہی اصول اپنانا چاہیے۔
قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق ویولٹا آ ایسپانیا سائیکلنگ گرینڈ ٹور میں اسرائیلی ٹیم ’اسرائیل۔پریمیئر ٹیک‘ کی شرکت نے اسپین میں بڑے پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا ہے۔ اسپین کی حکومت پہلے ہی غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو ’نسل کشی‘ قرار دے چکی ہے۔
یہ ٹیم اسرائیلی نژاد کینیڈین ارب پتی سلوان ایڈمز کی نجی ملکیت ہے، تاہم اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اسے سراہا کہ ٹیم نے احتجاج کے باوجود ویولٹا کو نہیں چھوڑا۔پلر ایلگریا نے ہسپانوی ریڈیو کو بتایا کہ “یہ سمجھانا مشکل ہے کہ ایک دوہرا معیار اپنایا جا رہا ہے، جب اتنا بڑا قتلِ عام اور نسل کشی جاری ہے تو کھیلوں کی فیڈریشنز کو بھی وہی فیصلہ کرنا چاہیے جو روس کے معاملے میں کیا گیا تھا۔”
انہوں نے کہا کہ روس کی کوئی ٹیم یا کلب بین الاقوامی مقابلوں میں شامل نہیں ہوئے اور انفرادی کھلاڑی غیر جانبدار جھنڈے کے نیچے کھیلے۔ وزیر کھیل نے مطالبہ کیا کہ سائیکلنگ کی عالمی تنظیم یو سی آئی اسرائیلی ٹیم کو ویولٹا سے باہر کرے۔
واضح رہے کہ ویولٹا کے مختلف مراحل احتجاج کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ مرحلہ 11 اور 16 مختصر کیے گئے جبکہ مرحلہ 18 پہلے ہی سیکیورٹی خدشات کے باعث کم کر دیا گیا تھا۔ اتوار کو میڈرڈ میں آخری مرحلے کے دوران مزید احتجاج کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
وزیر کھیل نے کہا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ ریس مکمل ہو جائے، تاہم اگر احتجاج کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا تو یہ کھیلوں کے لیے خوش آئند خبر نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ احتجاج منطقی ہیں اور عالمی برادری کو ایک جیسے اصول اپنانے چاہئیں۔

