اسرائیلی کابینہ کی غزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کی منظوری

تل ابیب( رائٹرز، اے ایف پی، الجزیرہ، امریکی وائٹ ہاؤس)اسرائیلی حکومت نے غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔ غزہ امن منصوبے کی منظوری کیلئےکابینہ کے اجلاس میں امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی شریک ہوئے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حکومت نے غزہ میں قید تمام مغویوں کی رہائی کے معاہدے کی منظوری دے دی ہے اور اس کے بعد جنگ بندی اب مؤثر ہو گئی ہے۔امریکی حکام کے مطابق غزہ میں مشترکہ ٹاسک فورس کے تحت 200 اہلکار تعینات ہونگے، جس میں مصر اور قطر کے فوجی بھی شامل ہونگے لیکن امریکی فوجی وہاں نہیں جائیں گے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیلی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ جنگ بندی کے بعد امن، سلامتی اور استحکام قائم رہنے کی امید ہے اور آج کا دن تاریخی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ غزہ اور مغربی کنارے میں خونریزی ختم ہو گئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ سے کسی کو زبردستی نہیں نکالا جائیگااور امن منصوبہ سب کی حمایت سے طے پایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس ہفتے کے آخر میں مشرق وسطیٰ روانہ ہوں گے اور یرغمالیوں کی رہائی پیر یا منگل تک متوقع ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں