یروشلم / قاہرہ (رائٹرز)اسرائیل اور فلسطینی عسکری گروپ حماس نے جمعرات کو معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت غزہ میں جنگ بندی ہوگی اور اسرائیلی یرغمالیوں کو فلسطینی قیدیوں کے بدلے رہا کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دو سالہ غزہ جنگ ختم کرنے کی مہم کا پہلا مرحلہ ہے، جس نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پیدا کر دی تھی۔

معاہدے کے اعلان کے بعد دونوں طرف کے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ اس معاہدے سے گزشتہ دو سال میں ہونیوالی جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے 67000فلسطینیوں کے واقعات کو ختم کرنے اور حماس کے قبضے میں آخری یرغمالیوں کی واپسی ممکن ہوگی۔
حماس کے جلاوطن غزہ سربراہ خلیل الحیہ نے کہا کہ انہیں امریکہ اور دیگر ثالثوں سے جنگ ختم ہونے کی ضمانتیں مل گئی ہیں۔ اسرائیل کی حکومت بھی معاہدے کی توثیق کریگی جس سے جنگ بندی نافذ ہوگی۔
معاہدے کے تحت، لڑائی بند ہوگی، اسرائیل جزوی طور پر غزہ سے پیچھے ہٹے گا اور حماس باقی یرغمالیوں کو رہا کرے گا، جبکہ اسرائیل میں موجود فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔ وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ معاہدہ پائیدار امن کی راہ ہموار کرے گا۔
غزہ میں شہریوں کو خوراک اور طبی امداد پہنچانے کیلئےٹرکوں کی آمد کی اجازت دی جائیگی، جن میں سینکڑوں ہزار افراد نے اسرائیل کے فضائی حملوں اور شہروں کی تباہی کے بعد عارضی خیموں میں پناہ لی ہوئی ہے۔
معاہدے کے باوجود کچھ مشکلات باقی ہیں، جن میں فلسطینی قیدیوں کی فہرست کو حتمی شکل دینا شامل ہے۔ حماس ایسے اہم قیدیوں کی رہائی چاہتی ہے جو اسرائیل کی جیلوں میں ہیں نیز ان لوگوں کی بھی جنہیں اسرائیلی حملوں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔اس معاہدے کے نتیجے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان اب تک کے سب سے بڑے امن اقدام کا آغاز ہوگاخطے میں ایران، یمن اور لبنان بھی اس جنگ میں شامل رہے ہیں۔
معاہدے کے نفاذ کے بعد اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ جنگ بندی 24 گھنٹوں میں نافذ ہوگی اور یرغمالیوں کو 72 گھنٹوں کے اندر آزاد کر دیا جائیگا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس خطے کا دورہ کرینگے تاکہ مصر میں دستخطی تقریب میں شرکت کریں اور اسرائیل کی قانون ساز اسمبلی میں خطاب کریں۔
اسرائیل اور عرب ممالک کے علاوہ مغربی ممالک نے بھی معاہدے کی حمایت کی اور اسے صدر ٹرمپ کیلئے اہم سفارتی کامیابی قرار دیا۔معاہدے کی کامیابی سے غزہ میں امن قائم کرنے اور خطے میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دیرپا امن کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا ہوگا۔

