لندن / نیویارک (نامہ نگار)برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی حکومت نے غزہ کی صورتحال کے خاتمے کیلئےسنجیدہ اقدامات نہ کیے تو برطانیہ رواں سال ستمبر میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لے گا۔
بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق برطانوی وزیراعظم نے اپنی کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل جنگ بندی پر راضی نہیں ہوتا، مغربی کنارے میں الحاق سے باز نہیں آتا اور دو ریاستی حل کی واضح راہ فراہم نہیں کرتا تو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ستمبر اجلاس سے قبل فلسطین کو تسلیم کیا جائے گا۔
وزیراعظم اسٹارمر نے واضح کیا کہ “ہم اسرائیل اور حماس کے مابین برابری نہیں مانتے، اور یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے حماس سے متعلق اپنی شرائط پر قائم ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ “حماس کو جنگ بندی پر دستخط کرنا ہوں گے، غزہ میں حکمرانی سے دستبردار ہونا ہوگا اور اپنے ہتھیار ڈالنے ہوں گے۔”
دوسری جانب، برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے اقوام متحدہ میں ہونے والی دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل نے غزہ میں جاری فوجی کارروائی بند نہ کی اور امن کی طرف عملی پیش رفت نہ دکھائی تو برطانیہ فلسطین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کر لے گا۔
یہ کانفرنس فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ صدارت میں اقوام متحدہ میں دو ریاستی حل کے موضوع پر منعقد ہوئی ہے۔25 جولائی کو 221 برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے ایک کھلے خط پر دستخط کیے، جس میں وزیراعظم اسٹارمر سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اقوام متحدہ کی کانفرنس سے قبل فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کریں۔
بی بی سی کے مطابق، پارلیمنٹرینز کے خط میں کہا گیا تھا”ہم چاہتے ہیں کہ حکومت نیویارک میں 28 اور 29 جولائی کو ہونے والی کانفرنس سے قبل دو ریاستی حل پر اپنے دیرینہ وعدے کو پورا کرے اور واضح کرے کہ وہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے کیسے تعاون کرے گی۔”
عالمی برادری کی جانب سے اسرائیل پر دباؤ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کہ وہ غزہ کی محاصرہ ختم کرے، انسانی امداد کی رسائی بحال کرے اور جنگ بندی پر رضامند ہو۔حال ہی میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا”غزہ میں حقیقی بھوک ہے، اور یہ حقیقت اب چھپ نہیں سکتی۔ ہم اس مسئلے پر مزید فعال کردار ادا کریں گے۔”یہ بیان اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دعوے کے برعکس ہے، جنہوں نے کہا تھا کہ “غزہ میں بھوک نہیں ہے۔”

