اسرائیل فلسطینی نسل ختم کرنے کیلئے خواتین اور بچیوں کو نشانہ بنا رہا ہے: اقوام متحدہ

نیویارک+دوحہ(نمائندہ خصوصی+ الجزیرہ)اقوام متحدہ کی خواتین و بچیوں پر تشدد کی خصوصی نمائندہ ریم السالم نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینی خواتین اور لڑکیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہا ہے تاکہ فلسطینی نسل کے تسلسل کو روکا جا سکے۔ ان کے بقول، یہ اقدامات نسل کشی کے ایک منظم منصوبے کا حصہ ہیں۔

اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے خواتین و بچیوں پر تشدد، ریم السالم نے قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ”تمام فلسطینی — مرد، لڑکے، لڑکیاں اور خواتین — اس نسل کشی کے منصوبے کا انتہائی بے رحم اور ظالمانہ طریقے سے شکار ہو رہے ہیں جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔”

انہوں نے کہا کہ اسرائیل خاص طور پر فلسطینی خواتین اور بچیوں کو نشانہ بنا رہا ہے کیونکہ وہ “مزید فلسطینی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں”۔ ان کے بقول”اسرائیل جانتا ہے کہ فلسطینی خواتین اور لڑکیاں، فلسطینی زندگی کے تسلسل کی امید ہیں، اسی لیے انہیں جان بوجھ کر قتل کیا جا رہا ہے۔”

ریم السالم نے اس حوالے سے اقوام متحدہ کے لیے ایک رپورٹ بھی جاری کی ہے جس میں انہوں نے اسرائیلی اقدامات کو فلسطینی وجود اور زندگی کے خاتمے کی کوشش قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا”ہم دیکھ رہے ہیں کہ فلسطینی خواتین میں اسقاط حمل کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جو کہ شدید غذائی قلت کا نتیجہ ہے۔ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین بھی اپنے بچوں کو دودھ پلانے کے قابل نہیں رہیں۔”

السالم نے مزید کہا کہ بچوں کا فارمولا دودھ اسرائیل کی طرف سے جان بوجھ کر غزہ میں داخل ہونے سے روکا گیا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازی جرمنی کی جانب سے اسٹالن گراڈ کے محاصرے کی حکمت عملی سے تشبیہ دی۔

اقوام متحدہ کی اس اعلیٰ اہلکار کی جانب سے دیے گئے یہ بیانات بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔ ابھی تک اسرائیلی حکومت کی طرف سے ان الزامات پر کوئی فوری ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں