دوحہ (انٹرنیشنل ڈیسک) – دوحہ میں ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس میں مسلم ممالک کے سربراہان نے اسرائیل کی جارحیت کو عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے تمام ریڈ لائنز کراس کر لی ہیں اور اسے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف مظالم پر جواب دہ بنانا ہوگا۔ رہنماؤں نے زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کیلئےمسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل ناگزیر ہے۔
اجلاس میں امیر قطر، سیکریٹری جنرل عرب لیگ، عراقی وزیراعظم، مصری صدر، فلسطینی صدر اور ترک صدر نے خطاب کیا۔ سب نے اسرائیل کی کارروائیوں کو انسانیت کے خلاف جرم اور خطے کے امن کیلئےشدید خطرہ قرار دیا اور عالمی برادری سے اسرائیل کو جواب دہ بنانے کا مطالبہ کیا۔
امیر قطر شیخ تمیم بن حمدالثانی نے کہا کہ اسرائیل نے انسانیت کے خلاف جرائم میں تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قطر نے ثالث کے طور پر امن کیلئے مخلصانہ کوششیں کیں مگر اسرائیل نے مذاکراتی عمل سبوتاژ کیا اور حماس کی قیادت کو نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ گریٹر اسرائیل کا ایجنڈا عالمی امن کیلئے شدید خطرہ ہے۔
سیکریٹری جنرل عرب لیگ احمد ابو الغیط نے کہا کہ خطے کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے اور اسرائیلی دہشت گردی نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو دہرا معیار ترک کرنا ہوگا اور اسرائیل کو جنگی جرائم پر جواب دہ ٹھہرانا ہوگا۔
عراق کے وزیراعظم محمد شیاع السودانی نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت نے خطے کے مسائل سنگین کر دیے ہیں۔ عالمی برادری کی خاموشی معنی خیز ہے اور یہ دوہرا معیار ترک کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی مظالم نے غزہ میں زندگی کو ناقابل برداشت بنا دیا ہے۔
مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ اسرائیل نے تمام ریڈ لائنز کراس کر لی ہیں، اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین میں انسانیت سسک رہی ہے اور اسرائیل کو جرائم پر استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ اسرائیلی جنگی جرائم تمام حدیں پار کر چکے ہیں، نسل کشی روکنا اور فوری امداد کی فراہمی ناگزیر ہے۔ 1967 کی سرحدوں کے مطابق فلسطینی ریاست کا قیام ہی امن کا راستہ ہے۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم عالمی امن کیلئے خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں نسل کشی، قبضہ اور بھوک جاری ہے اور یہ اسرائیل کی کھلی جارحیت ہے۔ ترک صدر نے کہا کہ مسلم ممالک کو اتحاد کے ذریعے آگے بڑھنا ہوگا اور او آئی سی کے فریم ورک کے تحت اسرائیل کو عالمی عدالت انصاف میں لانے کی حکمت عملی وضع کی جائے۔
اجلاس میں مسلم ممالک نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا کہ اسرائیل کی جارحیت روکنے کیلئےعملی اقدامات کیے جائیں گے اور فلسطینی عوام کی فوری امداد کو یقینی بنایا جائے گا۔ رہنماؤں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ دوہرا معیار ترک کر کے اسرائیل کو عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں پر جواب دہ بنائے۔

