غزہ/واشنگٹن (الجزیرہ/اے ایف پی) – اسرائیل نے غزہ میں وحشیانہ بمباری کے بعد جنگ بندی معاہدے کی بحالی کا اعلان کیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تصدیق کی کہ جنگ بندی تاحال برقرار ہے۔
نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں سلسلہ وار اہم حملوں کے بعد جنگ بندی کو مزید مستحکم کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ’اسرائیل جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد جاری رکھے گا اور معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی پر سخت جواب دیا جائیگا۔‘
خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی اب بھی نافذ ہے، حالانکہ اسرائیل نے گزشتہ روز مبینہ طور پر حماس کی جانب سے جنگ بندی کیخلاف ورزی کے بعد علاقے پر فضائی حملے کیے تھے۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ میں حماس کے ٹھکانوں پر درجنوں فضائی حملے کیے اور الزام لگایا کہ حماس کے جنگجوؤں نے ان کے فوجیوں کو نشانہ بنایا، جسے 9 روزہ جنگ بندی کیخلاف ورزی قرار دیا گیا۔
امریکی صدر نے مزید کہا’ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ حماس کے ساتھ معاملہ پُرامن رہے اسے سختی سےلیکن مناسب طریقے سے نمٹایا جائیگا۔‘حماس کے زیرانتظام غزہ کی شہری دفاع کے ادارے کے مطابق اسرائیلی حملوں میں کم از کم 45 افراد شہید ہوئے۔
مزاحمتی تنظیم حماس نے کہا کہ اس کی رفح میں موجود یونٹس سے کئی ماہ سے رابطہ منقطع ہے اور ان علاقوں میں پیش آنے والے کسی بھی واقعے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اسرائیل نے زور دیا کہ حماس تمام 28 ہلاک شدہ یرغمالیوں کی باقیات واپس کرے اور رفح کی سرحدی گزرگاہ کو مزید اطلاع تک بند رکھا جائیگا۔
حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیہ کی قیادت میں وفد مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچا، جہاں جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے حوالے سے ثالثوں، فلسطینی گروہوں اور دیگر قوتوں کے ساتھ پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

