تہران(نیٹ نیوز) ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کی جوہری تنصیبات اور دفاعی حکمتِ عملی سے متعلق ہزاروں انتہائی حساس دستاویزات حاصل کر لی ہیں۔ ایرانی وزیرِ انٹیلی جنس اسماعیل خطیب کے مطابق، یہ دستاویزات اسرائیل سے نکال کر محفوظ طریقے سے ایران منتقل کی گئی ہیں، جنہیں ایرانی حکومت نے ’’قیمتی خزانہ‘‘ قرار دیا ہے۔
ایرانی وزیر نے بتایا کہ اس سلسلے میں ایک جامع اور پیچیدہ انٹیلی جنس آپریشن ترتیب دیا گیا، جس کے ذریعے اسرائیل کے حساس ڈیٹا تک رسائی ممکن ہوئی۔ ان کا کہنا تھا”یہ محض ایک ڈیجیٹل کامیابی نہیں، بلکہ ایک اسٹریٹجک برتری کی علامت ہے۔”
ایرانی انٹیلی جنس کے مطابق ان دستاویزات میں شامل ہیں اسرائیل کی جوہری تنصیبات کی تفصیلات ہیں.
1-اسرائیلی جوہری پروگرام کی پیش رفت سے متعلق خفیہ معلومات
2-امریکا، یورپی ممالک اور دیگر عالمی طاقتوں سے اسرائیلی تعلقات کی نوعیت
3-اسرائیل کی اسٹریٹجک دفاعی پالیسیوں کی انٹیلیجنس معلومات
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام دستاویزات جلد منظر عام پر لائی جائیں گی۔وزیرِ انٹیلی جنس کا کہنا تھا”ان دستاویزات کی اشاعت سے نہ صرف اسرائیل اوراس کے اتحادیوں کے کردار پر بھی سوال اٹھیں گے۔”
خبر کے اجرا کے بعد تاحال اسرائیلی حکومت یا وزارت دفاع کی جانب سے کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ تاہم عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ایرانی دعویٰ درست ثابت ہوا تو اس کے دور رس سفارتی، سلامتی اور علاقائی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

