اسرائیل کی فرانس اور دیگر یورپی ممالک کو ’فلسطینی ریاست‘ کے قیام کی حمایت پر وارننگ

یروشلم/پیرس (نمائندہ خصوصی) – اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون سار نے فرانس اور دیگر یورپی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کریں تو یہ اقدامات مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے خلاف مفاد میں جائیں گے۔

“اسرائیلی وزیر خارجہ کا موقف”
گیدون سار نے سوشل میڈیا پر کہا کہ حماس نے ڈچ وزیر خارجہ کی تعریف کی، جو اسرائیل پر پابندی کیلئےکابینہ کی حمایت نہ ملنے پر مستعفی ہوئے۔انہوں نے لکھا کہ حماس نے فلسطینی ریاست تسلیم کرنے پر فرانس کے صدر اور دیگر یورپی رہنماؤں کی بھی تعریف کی۔

سار نے کہا”اب یورپ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ہے یا حماس کے ساتھ۔”

“امریکی سفیر کا خط اور فرانس کی طلبی”
فرانس میں تعینات امریکی سفیر چارلز کشنر نے صدر ایمانوئل میکرون کو لکھے گئے خط میں کہا کہ اسرائیل کے خلاف عوامی بیانات انتہا پسندوں کو شہہ دیتے ہیں، تشدد کو ہوا دیتے ہیں اور فرانس میں یہودیوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔اس خط کے بعد فرانس کی وزارتِ خارجہ نے امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا۔

“خط کے مندرجات اور بین الاقوامی اثرات”
چارلز کشنر نے اپنے خط میں فرانس میں یہودی مخالف جذبات کے اضافے اور حکومت کی ناکامی کی نشاندہی کی۔خط میں یہ بھی ذکر تھا کہ پیرس کی اتحادی افواج کی آزادی کی 81 ویں سالگرہ کے موقع پر نازی جرمن قبضے کے دوران فرانس سے یہودیوں کی جلاوطنی ختم ہوئی۔سفیر نے کہا کہ حکومت کی ناکافی کارروائی کے باعث فرانس میں یہودی مخالف تشدد بڑھ رہا ہے، جس پر تشویش ہے۔

“اسرائیل کا مطالبہ”
اسرائیلی وزارت خارجہ نے یورپی ممالک سے واضح پوزیشن اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ یہ طے ہو سکے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ہیں یا مشرقِ وسطیٰ میں حماس کے مفاد میں اقدامات کے ساتھ۔

اپنا تبصرہ لکھیں