یروشلم (رائٹرز/نمائندہ خصوصی) — اسرائیل نے مغربی کنارے میں ایک نئی غیر قانونی بستی کے قیام کی حتمی منظوری دے دی ہے. فلسطینی حلقے دو ریاستی حل کو ’’سبوتاژ‘‘ کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹرج نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ ’’ای ون‘‘ منصوبہ برسوں پرانے وعدوں کو پورا کرتا ہے اور فلسطینی ریاست کے قیام کو عملی طور پر ناممکن بنا دیتا ہے۔ وزارتِ دفاع کی منصوبہ بندی کمیشن نے بھی اس کی باضابطہ توثیق کر دی ہے۔
فلسطینی وزارتِ خارجہ نے اس اعلان کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی بستی فلسطینی آبادیوں کو ایک دوسرے سے کاٹ دے گی اور مشرقی بیت المقدس کو مغربی کنارے سے الگ کر دے گی۔ جرمن حکومت نے بھی اس اقدام کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا اور دو ریاستی حل میں رکاوٹ سے تعبیر کیا۔
وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اگرچہ ای۔ون منصوبے پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم ایک اور بستی کے دورے کے موقع پر کہا کہ اسرائیل اپنی زمین پر گرفت مضبوط کرنے کیلئے ہر ممکن اقدام کرے گا تاکہ فلسطینی ریاست کے قیام کو روکا جا سکے۔
واضح رہے کہ ’’ای ون‘‘ منصوبے میں تقریباً 3400 نئے مکانات کی تعمیر شامل ہے، جسے 2012 اور 2020 میں عالمی دباؤ کے باعث روک دیا گیا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مغربی ممالک اس منصوبے کی سخت مخالفت کر رہے ہیں اور اسے مستقبل کے امن معاہدوں کیلئےتباہ کن قرار دے رہے ہیں۔

