اسرائیل کے ایران پر حملے: سٹریٹجک رسٹرینٹ، غیر روایتی جنگ اور عالمی تبدیلیاں

آج علی الصبح، اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں میں حملوں کی ایک تازہ اور شدید لہر شروع کی—یہ 13 جون کو اسرائیل کے بڑے آپریشن “رائزنگ لائن” کے بعد ایک براہ راست شدید حملہ جس میں اسرائیل کے دو سو طیاروں نے حصہ لیا اسے امریکی کوآرڈینیشن اور مسلم ممالک کی فضائی حدود استعمال کرنے کی سہولت حاصل ہے۔

اس تازہ حملے میں ایران کے جوہری اور میزائل تنصیبات کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا، جنہیں اسرائیل ایران کے جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے اہم سمجھتا ہے۔ ٹینکوں، میزائل پروڈکشن لائنز، فضائی دفاعی نظاموں اور اعلیٰ فوجی اہلکاروں کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، ایران نے جوابی کارروائی میں تقریباً 100 ڈرون فائر کیے، جن میں سے زیادہ تر اسرائیلی دفاعی نظام اور اتحادی مسلم ممالک نے روک لیے۔

اسرائیل کے یہ حملے محض ایک الگ تھلگ فوجی جھڑپ نہیں ہیں—بلکہ یہ اسرائیل کی طویل المدتی پالیسیوں سے جڑے کئی حکمت عملی کے عوامل کا مجموعہ ہیں: ایران کے جوہری اور میزائل صلاحیتوں کو روکنا اور تاخیر کا شکار کرنا، کمانڈ اینڈ کنٹرول انفراسٹرکچر کو تباہ کرنا، اور فیصلہ کن جنگ کے بجائے مسلسل دباؤ برقرار رکھنا۔ ایران کے جوہری، میزائل اور فضائی دفاعی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر، اسرائیل چاہتا ہے کہ وہ ایران کے علاقائی اثر کو بتدریج کمزور کرے، لیکن مکمل جنگ چھیڑے بغیر۔

اسرائیل کے لبرل روزنامہ ہارِٹز (Haaretz) کے تازہ ترین اداریے میں، جس کا عنوان ہے: “اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا: تین اہم سوالات جو طے کریں گے کہ آگے کیا ہوگا”، اسی حوالے سے تین بنیادی نکات اٹھائے گئے ہیں جن پر آئندہ حالات کا انحصار ہوگا۔ اس اداریے کو عام فہم انداز میں اس طرح سمجھا جا سکتا ہے:

پہلا سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل واقعی کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے یا صرف طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے؟ اس حملے کے بعد سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا اسرائیل کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے، یا صرف ایران پر دباؤ ڈالنا اور اپنی اندرونی سیاست میں طاقتور نظر آنا؟ اگر مقصد صرف وقتی سیاسی فائدہ ہے تو یہ مہم وقتی شور کے بعد ختم ہو جائے گی، لیکن اگر اصل میں ایران کو ختم کرنا مقصود ہے تو پھر یہ حملہ ایک بڑی اور خطرناک جنگ کی طرف جا سکتا ہے۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ ایران کیا کرے گا؟ اب تک ایران نے کچھ جوابی کارروائیاں کی ہیں، لیکن اس کا اصل ارادہ واضح نہیں ہے۔ کیا وہ بدلہ لینے کے لیے مکمل جنگ کی طرف جائے گا؟ یا پھر اپنے مخصوص انداز میں پراکسی گروپوں اور وقت کے ساتھ ساتھ غیر روایتی طریقوں سے بدلہ لے گا؟ یا شاید وہ ابھی کوئی بڑا قدم نہ اٹھائے اور خاموشی سے آئندہ کے لیے تیاری کرے؟

تیسرا اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ دنیا، خاص طور پر امریکہ، اس سب میں کیا کردار ادا کرے گا؟ اگرچہ اسرائیل کہتا ہے کہ وہ خود فیصلہ کر رہا ہے، لیکن بہت سے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ سب کچھ امریکی مشورے یا حمایت کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر امریکہ اس جنگ میں واقعی شامل ہے، تو صورتِ حال مزید بگڑ سکتی ہے۔ لیکن اگر امریکہ، صدر ٹرمپ کے بیانات کے مطابق، خود کو الگ رکھنا چاہتا ہے، تو یہ کشیدگی کسی حد تک قابو میں رہ سکتی ہے۔ یہ بھی اہم ہے کہ اقوامِ متحدہ، یورپی ممالک، اور دیگر عالمی طاقتیں اس معاملے میں کیا پوزیشن لیتی ہیں۔

ہارِٹز (Haaretz) کے مطابق یہی تین سوال طے کریں گے کہ یہ کشمکش ایک محدود واقعہ رہتی ہے یا پھر مشرق وسطیٰ کو ایک نئی اور بڑی جنگ میں دھکیل دیتی ہے۔

ان شدید حملوں کے باوجود، ایران کا فوری ردعمل کم نظر آیا ہے۔ کیا یہ کوئی حکمت عملی سے ہے؟ تہران نے اہم علاقوں میں فضائی دفاع کو مضبوط کیا ہے، میڈیا پر پابندی عائد کی ہے، کچھ صوبوں میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے، اور اپنی مسلح افواج کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے۔ جوہری توانائی کہ عالمی ادارے (IAEA) نے کہا ہے اب تک ریڈیائی شعاؤں کا اخراج نہیں ہوا ہے جس سے اسرائیل حملوں پر سوالات کھڑی ہوتے ہیں۔

سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اس آپریشن کو “جرم” قرار دیتے ہوئے “تلخ اور تکلیف دہ” جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔ ایران کے ایٹمی توانائی ادارے کے سربراہ نے کہا: “ہم اس وقت نقصان کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔ ہمارا راستہ واضح ہے اور ہمارے منصوبوں کا خاکہ بھی بالکل طے شدہ ہے۔ ان حملوں کا ہمارے عزم یا ہمارے ساتھیوں کے حوصلے پر ذرہ برابر بھی اثر نہیں پڑا ہے۔”

اس کے علاوہ اسلامی انقلابی گارڈز (IRGC) نے کہا ہے کہ وہ جوابی کارروائی کے لیے تیار ہے—لیکن براہ راست بڑے حملے کے بجائے پراکسی ملیشیا، سائبر آپریشنز، اور محدود میزائل یا ڈرون حملوں جیسے غیر متناسب ہتھکنڈوں کے ذریعے۔ ایران کی اعلیٰ عسکری کمانڈ کے اہم کمانڈرز ہلاک ہو چکے ہیں، اور ایران ان نقصانات کو قبول کر رہا ہے 78 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ یہ نقصانات برداشت کرنے کی گہرائی رکھتا ہے۔

اس سارے معاملے میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اسرائیل کے بار بار حملے ایک بات کی تصدیق کرتے ہیں: چین اور روس دور بیٹھے تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ میں ڈپلومیٹک مذمت اور محدود حمایت کے باوجود، انہوں نے ایران کو کوئی ٹھوس فوجی امداد یا دھمکی تک فراہم نہیں کی۔ روس کا طویل عرصے سے Su-35 طیاروں کی فراہمی کا وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہوا، اور چین کی زبانی تنبیہات عملی اقدامات تک نہیں پہنچیں۔ لہٰذا، ایران کو اس طوفان کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی داخلی مضبوطی، غیر روایتی جنگ، سائبیریا حملوں اور حکمت عملی پر انحصار کرنا پڑے ہے۔

اسرائیل کی موجودہ جارحیت ایک اور عنصر کو بھی اجاگر کرتی ہے: پراکسیوں کی کمزوریوں کا ادراک۔ گزشتہ مہینوں میں، حزب اللہ، حوثیوں اور عراقی ملیشیا جیسے گروپوں پر ایران کا اثر علاقائی اقدامات، اندرونی تنازعات اور رسد کے مسائل کی وجہ سے کمزور ہوا ہے۔ حماس کی حمایت کرنے کی وجہ سے حزب اللہ کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی اور وہ قدرے کمزور ہے پھر شام میں ترکی کی مدد سے بشار الاسد کی حکومت ختم کی گئی جو ایران کی اتحادی تھی۔

اسرائیل خطے میں اس سٹریزٹیجک تبدیلی کے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران پر حملہ کر رہا ہے، اور امید کرتا ہے کہ تہران زیادہ غیر محفوظ ہوگا۔ تاہم، ایران کی تہہ در تہہ حکمت عملی لچکدار ہے: اگرچہ پراکسی نیٹ ورک عارضی طور پر کمزور ہو سکتا ہے، لیکن یہ ختم نہیں ہوا، اور ایران کو وقت کے ساتھ ان غیر ریاستی ایکٹرز کے ذریعے اپنا دباؤ دوبارہ ترتیب دینے کی صلاحیت حاصل ہے۔

اس تنازع کا تیسرا پہلو جوہری پروگرام کو خطرے میں ڈالنے کی حکمت عملی ہے۔ اگرچہ اسرائیل اور امریکہ ان حملوں کو ایران کے جوہری عزائم کو روکنے کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، لیکن پالیسی تجزیہ کاروں کو شبہ ہے کہ یہ ایک گہرا کھیل ہو سکتا ہے: اگر ایران جوہری حد کو عبور کرنے سے بالکل قریب پہنچ جائے تو وہ غیر ارادی طور پر خلیج میں امریکی اثر کو مضبوط کر سکتا ہے۔

اگر تہران بم بنانے کی طرف تیزی سے بڑھتا ہے، تو خلیجی تعاون کونسل (GCC) ممالک امریکی “جوہری ڈھال” کے تحت حفاظت کی تلاش میں واشنگٹن کے قریب ہو سکتے ہیں۔ اسرائیل کو اس بیانیے سے فائدہ ہوتا ہے کیونکہ یہ اس کے وجودی موقف کی تصدیق کرتا ہے اور اس کے دفاعی اقدامات کے لیے عالمی جواز فراہم کرتا ہے۔ لیکن ایران اس جال میں پھنسنے سے گریز کرنے کے لیے پر عزم دکھائی دیتا ہے—سرخ لائن عبور کیے بغیر رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

جیسے جیسے پیش رفت ہو رہی ہے، بڑی تصویر واضح ہوتی جا رہی ہے: یہ ایران کی دفاعی یا جوابی صلاحیت کو فوری طور پر تباہ کرنے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ دباؤ کی ایک مسلسل مہم ہے، جو ایران کے کمزور لمحات کا فائدہ اٹھانے کے لیے ٹائمڈ کی گئی ہے۔ یہ تہران کے عزم کا امتحان ہے: کیا وہ ایک بڑے جوابی حملے کا آغاز کرے گا اور مکمل جنگ کا خطرہ مول لے گا، یا پھر اس کے اپنے زمینی حالات کے مطابق بتدریج بڑھتے ہوئے اپنا ردعمل جاری رکھے گا؟

اسرائیل کے لیے، فوری ہدف ایران کو محدود رکھنا ہے۔ جبکہ ایران کی حکمت عملی پراکسی گروپوں اور مبہم ردعمل کے ذریعے صبر اور ضبط پر مبنی ہے۔ چین اور روس کے پس پردہ رہنے، اور امریکہ-ایران ڈپلومیسی کے غیر یقینی ہونے کی وجہ سے، خطہ غیر مستحکم ہونے کے دہانے پر کھڑا ہے۔ حملوں کی یہ موجودہ لہر میدان جنگ سے بھی آگے کے اثرات مرتب کر سکتی ہے— اتحادوں، جوہری بیانیے، اور مشرق وسطیٰ کی حکمت عملی ساخت کو تشکیل دے سکتی ہے۔

حالیہ اسرائیلی حملوں نے وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کو اپنی سیاسی ساکھ کو دوبارہ مضبوط کرنے کا اہم موقع فراہم کیا ہے۔ اپنی سٹرائیک کو “دفاعی مجبوری” کے تناظر میں پیش کر کے وہ اپنے سیاسی مخالفین پر برتری کا تاثر قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم جیوپولیٹیکل تجزیہ نگاروں کا اتفاق ہے کہ اگرچہ ایران کو جس حد تک نقصان پہنچایا گیا وہ قابلِ توجہ ہے، مگر یہ کوئی پارلیمنٹ یا عوامی حمایت میں تبدیلی نہیں لائے گا۔ یعنی حملے نے فوری سیاسی فائدہ ضرور دیا ہے، مگر وہ کوئی طویل مدتی یا فیصلہ کن اثر فراہم نہیں کر پائیں گے۔

دریں اثنا ایران میں پابندیاں اور حملے یکجہتی کا سبب بنے ہیں۔ صدر مسعود پزشکیان جوکہ اصلاحات پسند سوچ کے حامل ہیں، اپنی پوزیشن میں کمزوری محسوس کر رہے ہیں۔ ان کی ظاہری طور پر حکمت عملی نرم اور مذاکرات پر مبنی ہے، لیکن موجودہ ماحول میں سخت گیر اور انقلابی دھڑے زیادہ مقبول اور مؤثر دکھائی دے رہے ہیں۔ خاص طور پر نوجوان نسل کے اندر دشمنی اور خودی کا اداراک مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے ایران کے اندر انقلابی فرنٹ کو مزید مستحکم کیا ہے؛ وہ اب اصلاح پسندانہ بیانیے سے دور ہو کر ریاستی دفاع اور نظریاتی یکجہتی کی جانب مائل نظر آتے ہیں۔

جب امریکی صدر ٹرمپ نے ان حملوں کے بعد اعلان کیا کہ اگر ایران مزید تباہی نہیں چاہتا تو فوراً نئے جوہری معاہدے پر دستخط کرے، تو وہ ایک سیاسی پیغام کے ساتھ ساتھ تزویراتی چال بھی تھا۔ مگر تاریخی مشاہدے ظاہر کرتے ہیں کہ ایسے حملے اور بیانیے کمزور قوموں پر ترمیمی اثر ضرور ڈالتے ہیں، لیکن نظریاتی تحریکوں کو بم یا میزائل کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ایران نے اب تک جو نقصان برداشت کیے ہیں — چاہے وہ میڈیا میں گہرے زخم کے تصویر ہوں یا اہم رہنماؤں کی ہلاکتیں — اُن واقعات نے نظریاتی ڈھانچوں کو کمزور کرنے کی بجائے زیادہ پختہ کیا ہے۔

لہٰذا موجودہ حملوں نے جس سیاسی توانائی سے نتن یاہو کو وقتی فائدہ پہنچایا ہے، وہ جلد ماند پڑ سکتی ہے۔ ایران میں ریاستی استحکام اور نظریاتی اتحاد اس وقت مضبوط تر ہو چکے ہیں، جبکہ مخصوص سیاسی شخصیت کی کمزوری کا فائدہ اصلاح پسندوں کے حصے میں نہیں آیا۔ امریکہ کی خواہش ممکن ہے کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہو جائے، مگر بمباری سے اس کا ہدف پورا ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ایران کی سوچ، قومی شناخت اور نظریاتی وقار ان حالات میں مزید گہرے اور مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔

تاہم کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکہ کی حمایت اور مدد سے اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کے سامنے بنیادی طور پر دو راستے ہیں۔ ایک وہ جو شمالی کوریا نے اختیار کیا: کسی بھی قسم کے بین الاقوامی دباؤ، پابندی یا مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے ایٹمی بم تیار کرے اور پھر اسی ایٹمی صلاحیت کو اپنی بقا کی ضمانت میں تبدیل کر دے۔ دوسرا وہ جو لیبیا نے چنا: مغرب سے مفاہمت، جوہری پروگرام سے دستبرداری، اور بالآخر اندرونی کمزوری کے ساتھ خارجی حملے کا شکار ہو جائے۔

بعض حلقوں کا خیال ہے کہ موجودہ حالات کو دیکھ کر بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ ایران نے لیبیا والا راستہ چنا — یعنی عالمی پابندیوں سے نکلنے کے لیے جوہری معاہدوں میں شمولیت، بات چیت پر آمادگی، اور اپنی عسکری صلاحیت کو محدود کرنے کی راہ۔ مگر اس حکمتِ عملی کے نتائج ایران کے لیے نہ صرف عسکری طور پر تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں بلکہ داخلی طور پر بھی وہ قومی خودمختاری، قیادت کے تسلسل، اور نظریاتی بقا کے شدید چیلنج سے دوچار ہو چکا ہے۔

اسرائیلی حملوں اور اعلیٰ سطحی ایرانی فوجی قیادت کی ہلاکتوں نے اس حقیقت کو عریاں کر دیا ہے کہ جو قومیں صرف مفاہمت پر انحصار کرتی ہیں مگر اس کے بدلے کسی ٹھوس سکیورٹی گارنٹی کے بغیر اپنے دفاعی پروگرام کو ترک کرتی ہیں، وہ عملاً خود کو غیر مسلح کر کے دشمن کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں