اسلامی جمہوریہ پاکستان:رمضان آگیااور مہنگائی بھی آگئی

لاہور(سپیشل رپورٹ)رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں جب شیاطین جکڑدئیے جاتےتومہنگائی کے جن بے قابوہوکراپنے بھائی شیطان کے جکڑے جانے پراحتجاج کرتے ہوئےاس کابدلہ صرف اورصرف پاکستان کی عوام سے لیتے ہیں کیونکہ پکے مسلمان توصرف پاکستان میں ہی رہتے ہیں .

مثال کے طورپرکیلاجورمضان سے پہلے مارکیٹ سے صرف اس لئے غائب ہوگیاکہ کچھ دنوں تک پاکستانی” مسلمان” تاجروں کاپسندیدہ مہینہ آرہاہے اورکیلاتوسب کی ضرورت ہے اس لئے من مانگے دام ملیں گے۔آج کیلا250روپے درجن ،سیب350روپے کلوسے مہنگابک رہاہے ۔

حکام کی طرف سے جاری اشیاکی جوقیمتیں مقررکی گئی ہیں اس کے برعکس دوگنی قیمتیں وصول کی جاتی ہیں مثال کے طورپرلہسن جوریٹ لسٹ پر610روپے کلوہے وہ 1200روپے کلوبیچاجارہاہے ۔حکام کاغذوں میں قیمتیں طے کرکے اپناحصہ لے کرروزہ رکھ کر سوگئے ہیں ۔

وطن عزیزپاکستان میں بسنے والے مسلمان بھائی اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کیلئے ہروہ چیزمہنگائی کی اس بلندی پرلے جاتے ہیں کہ شیطان شرماجائے حالانکہ دنیابھرمیں رمضان کی آمدسے پہلے اشیاخوردونوش سمیت دیگرانسانی ضرورت کی چیزوں کے ساتھ ساتھ گھروں میں پالے جانےوالے جانوروں اورپرندوں کے استعمال کی چیزوں پربھی سیل یعنی رعایت شروع کردی جاتی ہے ۔

یہ سیل یارعایت مسلمان ممالک کے علاوہ اسرائیل سمیت دوسرے کافرملکوں میں بھی دی جاتی ہے۔حتیٰ کہ ہمسایہ ملک انڈیامیں بھی جوریسٹورنٹس عام دنوں میں رات 12بجے بندکرنے کے احکامات مانتے ہیں انہیں بھی رمضان المبارک میں سحری تک کھلارکھنے کی اجازت دے دی جاتی ہے ۔

اپنا تبصرہ لکھیں