اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ یو اے ای کے سپرد کرنے کا حکومتی فیصلہ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی، عرب نیوز، گلف نیوز)وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد حکومت پاکستان نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے آپریشنز متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے سپرد کرنے کا باضابطہ فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کو پاکستان میں ہوابازی کے شعبے میں ایک بڑی تبدیلی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کی سمت اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کی کمیٹی برائے سرکاری تجارتی لین دین (CCoIGCT) نے 28 اگست 2025 کو اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی۔ معاہدہ حکومت سے حکومت (G2G) ماڈل کے تحت طے پایا ہے، جس کے تحت اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا انتظام اور آپریشنز یو اے ای کے سپرد ہوں گے۔

ایئرپورٹ کی ملکیت پاکستان کے پاس برقرار رہے گی، صرف انتظامی کنٹرول اور آپریشنل معاملات یو اے ای کی کمپنی کے سپرد ہوں گے۔پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی سکیورٹی، امیگریشن اور قانونی معاملات کی ذمہ دار رہے گی۔یہ شراکت ابتدائی طور پر اسلام آباد ایئرپورٹ تک محدود ہے، تاہم مستقبل میں کراچی اور لاہور ایئرپورٹس کو بھی شامل کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔

حکومتی حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد ایئرپورٹ کی کارکردگی بہتر بنانا، مسافروں کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنا اور خسارے میں چلنے والے ادارے کو مستحکم کرنا ہے۔معاہدے کے تحت جدید ٹیکنالوجی، سہولیات اور غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان لائی جائے گی، جبکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

اپوزیشن جماعتوں اور ایوی ایشن ماہرین نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قومی اثاثے کو غیر ملکی انتظام کے سپرد کرنا شفافیت اور خودمختاری کے حوالے سے سوالات اٹھاتا ہے۔عرب نیوز نے رپورٹ کیا کہ یہ معاہدہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان تجارتی تعلقات میں گہرے تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔

گلف نیوز کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے ایوی ایشن سیکٹر میں “Game Changer” ثابت ہو سکتا ہے، جس سے نہ صرف سروسز بہتر ہوں گی بلکہ عالمی ایئرلائنز کو بھی سہولت ملے گی۔

اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا آپریشنل کنٹرول یو اے ای کے سپرد کرنا پاکستان کی معیشت اور ایوی ایشن کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔ حکومتی حلقے اسے مثبت قرار دے رہے ہیں جبکہ ناقدین نے اس پر شفافیت اور خودمختاری کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں