اسلام آباد (رپورٹنگ ڈیسک)تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے اختتام پر ایک متفقہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان نئے میثاقِ جمہوریت کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی کیلئے بڑے قومی مکالمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
تحریک کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اپنے فارم ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس میں شریک تمام سیاسی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ پاکستان کے موجودہ آئینی، سیاسی اور معاشی بحران کا حل صرف وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے اور سنجیدہ مذاکرات سے ممکن ہے۔
“مشترکہ اعلامیہ کے اہم نکات”
پاکستان میں آئین، انسانی حقوق (آرٹیکل 8 تا 11) اور پارلیمانی جمہوری نظام پر ہائبرڈ نظام کے مسلسل حملوں سے ریاست اور عوام کے درمیان سماجی معاہدہ ٹوٹ چکا ہے۔اپوزیشن کو منظم انداز میں دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے مشترکہ سیاسی حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
کانفرنس کیلئے مقامی ہوٹل کی بکنگ انتظامیہ نے منسوخ کروائی، جس کی شرکائے کانفرنس نے شدید مذمت کی اور ہنگامی حالات میں بھی کانفرنس کے انعقاد کو یقینی بنایا گیا۔
“سیاسی و عدالتی امور پر مؤقف”
بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کو جیل میں رکھنے اور ان کے خلاف مقدمات کو التوا میں رکھنے کی مذمت کی گئی۔ مقدمات کو جلد از جلد نمٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔چیف جسٹس کے منصب کو نمائشی قرار دیتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں کے خط کی تائید کی گئی، اور انہیں “پاکستان کے ہیرو” قرار دیا گیا۔
“معاشی صورتحال پر تشویش”
ملک میں بیروزگاری کی شرح 22 فیصد ہو چکی ہے جبکہ غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد 45 فیصد سے زائد ہو چکی ہے۔کاروباری طبقہ سرمایہ ملک سے باہر لے جانے پر مجبور ہو چکا ہے، جب کہ تنخواہ دار طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے۔
“الیکشن 2024 کا مسترد ہونا”
اعلامیے میں 2024 کے عام انتخابات کو مکمل طور پر مسترد کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ ملک میں آزاد اور خودمختار الیکشن کمیشن کے تحت انتخابات ناگزیر ہیں۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ اس اے پی سی کا مقصد محض احتجاج نہیں بلکہ جمہوریت کی بحالی اور آئین کے تحفظ کی مؤثر کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں تمام جمہوری قوتیں ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر آئیں گی تاکہ قوم کو ایک نیا جمہوری معاہدہ فراہم کیا جا سکے۔

