اسلام آباد (نامہ نگار)اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت نے ماتحت عدالت کے اس حکم کو کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت 27 یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کا کہا گیا تھا، اور 11 درخواست گزاروں کو ریلیف فراہم کر دیا۔ جج نے ایف آئی اے اور سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی کے پراسیکیوٹر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چینلز بند کرنے کے قانونی اختیار پر سوال اٹھایا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج محمد افضل ماجوکہ نے کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ ’’آپ نے اپنا کام ہم سے کروانا شروع کر دیا ہے، میں ایسا کبھی نہیں ہونے دوں گا، بتائیں کس اختیار کے تحت چینلز بند کیے جا سکتے ہیں؟‘‘ انہوں نے ریمارکس دیے کہ ججوں کو بدنام کرنے کی کوشش ناقابلِ قبول ہے۔
عدالت نے ان درخواست گزاروں کی درخواستیں خارج کر دیں جن کے وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے اور بعد ازاں فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد 11 درخواست گزاروں کے لیے ماتحت عدالت کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔
یاد رہے کہ جولائی میں اسلام آباد کی مقامی عدالت نے ایف آئی اے کی درخواست پر 27 معروف یوٹیوب چینلز بشمول صحافی مطیع اللہ جان، اسد طور، اوریا مقبول جان اور صدیق جان کے چینلز کو ریاست مخالف مواد کے الزام پر بلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔
بعد ازاں، 11 جولائی کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ نے دو یوٹیوب چینلز کی حد تک بندش کا حکم معطل کیا تھا اور 12 جولائی کو مزید پانچ چینلز کو ریلیف دیا گیا تھا۔ آج کے فیصلے کے بعد 11 مزید چینلز کی بندش معطل ہو گئی ہے۔عدالتی فیصلے کے بعد ایف آئی اے کو چینلز بلاک کرنے کے قانونی جواز پر وضاحت دینا ہوگی، جبکہ متاثرہ یوٹیوبرز کے لیے بڑی قانونی کامیابی سامنے آئی ہے۔

