سیکیورٹی کی بدولت حملہ آور اندر داخل نہ ہوسکا، بمبار نے پولیس گاڑی کے قریب خود کو اُڑا لیا:وزیر داخلہ
اسلام آباد (نمائندہ جنگ) — وفاقی دارالحکومت کے علاقے جی الیون کچہری کے باہر پولیس کی گاڑی پر خودکش دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور 36زخمی ہوگئے۔ دھماکا اس وقت ہوا جب ایک نامعلوم حملہ آور نے کچہری کے مرکزی دروازے کے قریب خود کو اُڑا لیا۔
پی ٹی وی نیوز کے مطابق یہ حملہ بھارتی اسپانسرڈ اور افغان طالبان کی پراکسی ’فتنۃ الخوارج‘ کی جانب سے کیا گیا۔وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ سخت سیکیورٹی کی وجہ سے حملہ آور کچہری میں داخل نہیں ہوسکا، اس نے موقع ملنے پر پولیس کی گاڑی کے قریب خودکش دھماکا کیا۔
“دھماکے کی نوعیت اور ابتدائی تحقیقات”
پولیس کے مطابق دھماکا رات تقریباً ایک بجکر 45 منٹ پر ہوا۔ فائرنگ کے بعد دھماکے کی آواز دور دور تک سنائی دی۔پمز اسپتال کے ذرائع نے تصدیق کی کہ 12 لاشیں اور 22 زخمی اسپتال منتقل کیے گئے، جبکہ وزیر داخلہ نے 27 زخمیوں کی تصدیق کی۔

پی ٹی وی کے مطابق خودکش بمبار کا سر سڑک پر پڑا ہوا ملا، جسے فرانزک ٹیموں نے تحویل میں لے لیا ہے۔
سیکیورٹی اقدامات اور ریسکیو کارروائیاں،دھماکے کے فوراً بعد پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔وکلا، ججز اور سائلین کو کچہری کی عمارت سے نکال لیا گیا، عمارت خالی کروا کر اطراف کے علاقوں کو گھیرے میں لے لیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکا کچہری کی پارکنگ میں کھڑی گاڑی کے قریب ہوا، اور ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حملہ آور کا ہدف جوڈیشل کمپلیکس کے اندر داخل ہونا تھا۔
“وزیر داخلہ کا بیان”
وزیر داخلہ محسن نقوی نے جائے وقوعہ پر گفتگو میں کہا”خودکش بمبار پہلے اندر جانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن راستہ نہ ملنے پر اس نے پولیس گاڑی کے قریب دھماکا کیا۔ فول پروف سیکیورٹی کی بدولت بڑا سانحہ ٹل گیا۔”
انہوں نے کہا کہ حملہ آور کے افغانستان میں موجود ہینڈلرز سے رابطے کے شواہد ملے ہیں۔”ہم نے افغانستان کو شواہد دیے ہیں کہ کیسے ان کی سرزمین سے دہشت گردی ہو رہی ہے۔ اب یہ کارروائیاں برداشت نہیں کی جائیں گی۔”
“وزیراعظم کی مذمت”
وزیراعظم شہباز شریف نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا”بھارتی پشت پناہی میں سرگرم فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہند نے ایک بار پھر معصوم پاکستانیوں کو نشانہ بنایا۔ نہتے شہریوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔”
انہوں نے تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔شہباز شریف نے مزید کہا”وانا اور اسلام آباد کے حملے خطے میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہیں۔ دنیا کو بھارت کی ان سازشوں کی مذمت کرنی چاہیے۔”
“صدر مملکت کا ردعمل”
صدر آصف علی زرداری نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔انہوں نے کہا کہ”پاکستان کے امن کے دشمنوں کا مکمل خاتمہ ضروری ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں خراجِ تحسین کے لائق ہیں۔”
“برطانوی ہائی کمشنر کا اظہارِ افسوس”
اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے دھماکے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا”میری ہمدردیاں جاں بحق افراد کے لواحقین کے ساتھ ہیں۔”ساتھ ہی برطانوی شہریوں کو سفری ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی۔
دہشت گردی کے حالیہ واقعات — وانا کیڈٹ کالج پر حملہ اور اب اسلام آباد کچہری دھماکا — اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک دشمن عناصر پاکستان کے امن و استحکام کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ سیکیورٹی اداروں نے تاہم دونوں حملے ناکام بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

