اسلام آباد(نامہ نگار)اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو جج کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ان کی قانون کی ڈگری تقرری اور توثیق کے وقت غیر معتبر تھی۔ عدالت نے انہیں فوری طور پر عہدہ چھوڑنے کی ہدایت کرتے ہوئے وزارتِ قانون کو بطور جج ڈی نوٹیفائی کرنے کا بھی حکم دے دیا۔
چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے جسٹس جہانگیری کی قانون کی ڈگری اور بطور جج تقرری کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے والی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ چونکہ جسٹس جہانگیری کی قانون کی ڈگری تقرری کے وقت غیر معتبر تھی، اس لیے وہ جج کے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتے۔ اسی بنیاد پر وزارتِ قانون کو فوری ڈی نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی گئی۔
فیصلہ سنائے جانے سے قبل جامعہ کراچی کے رجسٹرار نے عدالت میں ریکارڈ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کے یو سنڈیکیٹ نے جسٹس جہانگیری کی قانون کی ڈگری غیر منصفانہ ذرائع سے حاصل کرنے پر منسوخ کی تھی۔ رجسٹرار کے مطابق 1988 میں امتحان کے دوران نقل اور بدانتظامی ثابت ہونے پر انہیں 1992 تک نااہل قرار دیا گیا تھا، تاہم انہوں نے 1989 میں نام تبدیل کر کے دوبارہ امتحان دیا۔ رجسٹرار نے مارکس شیٹس اور نتائج کا ریکارڈ بھی عدالت میں پیش کیا۔
سماعت کے دوران جسٹس جہانگیری کے وکیل ایڈووکیٹ محمد اکرم شیخ نے بینچ پر اعتراض اٹھایا اور مؤقف اختیار کیا کہ ایسے جج کو سماعت نہیں کرنی چاہیے جو خود قانونی تنازع میں فریق ہو۔ وکیل نے یہ مؤقف بھی اپنایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے ڈگری منسوخی کے معاملے پر حکمِ امتناع دے رکھا ہے، اس لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کو کارروائی نہیں کرنی چاہیے۔
جسٹس جہانگیری کے ایک اور وکیل بیرسٹر صلاح الدین احمد نے جواب جمع کرانے کے لیے مزید وقت مانگا، جبکہ درخواست گزار وکیل میاں داؤد نے الزام لگایا کہ سندھ ہائی کورٹ کے حکمِ امتناع کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے اور اصل معاملے کا سامنا کرنے کے بجائے عدالتی تنازعات کھڑے کیے جا رہے ہیں۔
یہ فیصلہ ایک روز بعد سامنے آیا جب جسٹس جہانگیری نے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کی تھی اور سپریم جوڈیشل کونسل میں بھی باضابطہ شکایت جمع کرائی تھی۔
واضح رہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کی مبینہ جعلی ڈگری سے متعلق شکایت جولائی 2023 میں سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کی گئی تھی جبکہ ان کی تقرری کو چیلنج کرنے والی درخواست رواں برس اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر ہوئی۔ اس معاملے پر سندھ ہائی کورٹ میں دائر متعدد درخواستیں بعد ازاں عدم پیروی کی بنیاد پر خارج ہو چکی ہیں۔

